بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
4 hadith
Narrated by Shaiban
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ورَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ‏)‏ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَمَّا عُرِجَ بِي رَأَيْتُ إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهَمَّامٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ وَهَذَا عِنْدَنَا مُخْتَصَرٌ مِنْ ذَاكَ ‏.‏
Narrated Shaiban:from Qatadah, that regarding Allah's saying: And we raised him to a high station (19:57). He said: "Anas bin Malik narrated that Allah's Prophet (ﷺ) said: "When I was brought up, I saw Idris in the Fourth Heaven
قتادہ آیت «ورفعناه مكانا عليا» ۱؎ کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ہم سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور سعید بن ابی عروہ، ہمام اور کئی دیگر راویوں نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے اور انس نے مالک بن صعصعہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث معراج پوری کی پوری روایت کی، اور یہ ہمارے نزدیک اس سے مختصر ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری خدری رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَىٍّ الْمُؤَذِّنِ الْحِمْصِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ وَلاَ يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلاَ يَقُومُ إِلَى الصَّلاَةِ وَهُوَ حَقِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَكَأَنَّ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي حَىٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ ثَوْبَانَ فِي هَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَشْهَرُ ‏.‏
Thawban narrated that :the Prophet said: "It is not allowed for a man to look into the interior of a man's house until he has been given permission, for if he looks, then he has entered. And one who leads people (in Salat) should not supplicate for himself alone with the exclusion of his congregation. If he does, then he has betrayed them. And one is not to stand for Salat while he has to urinate
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے ( جھانک کر ) دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہو گیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث معاویہ بن صالح سے بھی مروی ہے، معاویہ نے اس کو بطریق: «سفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز یہ حدیث یزید بن شریح ہی کے واسطے سے بطریق: «أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ یزید بن شریح کی حدیث بطریق: «أبي حى المؤذن عن ثوبان» سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور مشہور ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلاً، ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَادْعُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِي اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ غَيْرُ الْخَطْمِيِّ وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ هُوَ أَخُو سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ‏.‏
Uthman bin Hunaif narrated that a blind man came to the Prophet (ﷺ) and said:“Supplicate to Allah to heal me.” He (ﷺ) said: “If you wish I will supplicate for you, and if you wish, you can be patient, for that is better for you.” He said: “Then supplicate to Him.” He said: “So he ordered him to perform Wudu’ and to make his Wudu’ complete, and to supplicate with this supplication: ‘O Allah, I ask You and turn towards You by Your Prophet Muhammad (ﷺ), the Prophet of Mercy. Indeed, I have turned to my Lord, by means of You, concerning this need of mine, so that it can be resolved, so O Allah so accept his intercession for me (Allāhumma innī as’aluka wa atawajjahu ilaika binabiyyka Muḥammadin nabi-ir-raḥmati, innī tawajjahtu bika ila rabbī fī ḥājatī hādhihī lituqḍā lī, Allāhumma fashaffi`hu fīyya).’”
عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند ) ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ۲- اور ابوجعفر خطمی ہیں ۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Ali:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If I was going to appoint anyone as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔