حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهَبَ لاِبْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لاَ تَمَسَّهَا فَإِنِّي قَدْ كَشَفْتُهَا .
Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab gave his son a slave-girl and said, "Do not touch her, for I have uncovered her
حضرت عمر بن خطاب نے اپنے لڑکے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے ایک بار اس کا بدن کھولا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّ الرَّجُلَ، كَانَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا وَلاَ حَاجَةَ لَهُ بِهَا وَلاَ يُرِيدُ إِمْسَاكَهَا كَيْمَا يُطَوِّلَ بِذَلِكَ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ لِيُضَارَّهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلاَ تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ} يَعِظُهُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ .
Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that Allah, the Blessed, the Exalted, sent down about a man who divorced his wife and then returned to her while he had no need of her and did not mean to keep her so as to make the idda period long for her by that in order to do her harm, "Do not retain them by force, to transgress. Whoever does that has wronged himself." (Sura 2 ayat 231). Allah warns them by that ayat
ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ اگلے زمانہ میں لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیتے تھے پھر رجعت کر لیتے تھے اور ان کے رکھنے کی نیت نہ ہوتی تھی تاکہ ان کی عدت بٹھ جائے اور ان کو ضرر پہنچے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لئے مت روک رکھو جو ایسا کرے گا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ جو شخص نشے میں مست ہو اور طلاق دے اس کا کیا حکم ہے دونوں نے کہا کہ طلاق پڑ جائے گی اور وہ نشے میں مار ڈالے کسی کو تو مارا جائے گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے ۔ سعید بن مسیب کہتے تھے جب خاوند جورو کو نان نفقہ نہ دے سکے تو تفریق کر دی جائے گی ۔ کہا مالک نے میں نے اپنے شہر کے عالموں کو اسی پر پایا
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنَ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ فَإِنِ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنَ التِّبْرِ وَالْحَلْىِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ الأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ . قَالَ مَالِكٌ مَنِ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الذَّهَبِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الْوَرِقِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا .
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "Keeping gold and silver out of circulation is part of working corruption in the land." Malik said, "There is no harm in buying gold with silver or silver with gold without measuring if it is unminted or a piece of jewellery which has been made. Counted dirhams and counted dinars should not be bought without reckoning until they are known and counted. To abandon number and buy them at random would only be to speculate. That is not part of the business transactions of Muslims. As for what is weighed of unminted objects and jewellery, there is no harm in buying such things without measuring. To buy them without measuring is like buying wheat, dried dates, and such food-stuffs, which are sold without measuring, even though things like them are measured " Malik spoke about buying a Qur'an, a sword or a signet ring which had some gold or silver work on it with dinars or dirhams. He said, "The value of the object bought with dinars, which has gold in it is looked at. If the value of the gold is up to one-third of the price, it is permitted and there is no harm in it if the sale is hand to hand and there is no deferment in it. When something is bought with silver which has silver in it, the value is looked at. If the value of the silver is one- third, it is permitted and there is no harm in it if the sale is hand to hand. That is still the way of doing things among us
سعید بن مسیب کہتے تھے روپیہ اشرفی کا کانٹا گویا ملک میں فساد کرنا ہے ۔ کہا امام مالک رحمة اللہ علیہ نے اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں بلکہ اس میں دھوکا ہے اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا اور اس چیز کی قیمت دو ثلث سے کم نہیں ہے اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک ثلث سے زیادہ نہیں ہے تو درست ہے جب نقدا نقد ہو اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ فِي رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلاً طَعَامًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فِي بَلَدٍ آخَرَ فَكَرِهَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَالَ فَأَيْنَ الْحَمْلُ يَعْنِي حُمْلاَنَهُ .
Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab said that he disapproved of one man lending another food on the provision that he gave it back to him in another city. He said, "Where is the transport?
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْحَائِطِ هِيَ أَقْرَبُ إِلَى أَرْضِهِ فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي ذَلِكَ فَقَضَى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِيلِهِ .
Malik related to me from Amr ibn Yahya al-Mazini that his father said, "There was a stream in my grand-father's garden belonging to Abd ar-Rahman ibn Awf Abd ar-Rahman ibn Awf wanted to transfer it to a corner of the garden nearer to his land, and the owner of the garden prevented him. Abd ar-Rahman ibn Awf spoke to Umar ibn al-Khattab about it, and he gave a judgement to Abd ar-Rahman ibn Awf that he should transfer it
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمن بن عوف کی عبدالرحمن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی عبدالرحمن نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے اجازت دے دی ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَرِمْنَا إِلَى اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا . فَقَالَ عُمَرُ أَمَا يُرِيدُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوِ ابْنِ عَمِّهِ أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْكُمْ هَذِهِ الآيَةُ {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا }
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "Beware of meat. It has addictiveness like the addictiveness of wine." Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab saw Jabir ibn Abdullah carrying some meat. He said, "What is this?" He said, "Amir al- muminin. We desired meat and I bought some meat for a dirham." Umar said, "Does one of you want to fill his belly apart from his neighbour or nephew? How can you overlook this ayat? 'You squandered your good things in the life of this world and sought comfort in them.' " (Sura 46 ayat)
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالاِثْنَيْنِ فَإِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ " .
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Harmala that Said ibn al-Musayyab heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Shaytan concerns himself with one and two. When there are three, he does not concern himself with them
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان قصد کرتا ہے ایک دو پر جب آدمی ہوں تو ان پر قصد نہیں کرتا
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَتِ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ .
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, used to say in the tashahhud, "Greetings, good words, prayers, pure actions belong to Allah. I testify that there is no god except Allah, alone without partner, and that Muhammad is His slave and His Messenger. Peace be on you, Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be on us and on the slaves of Allah who are salihun. Peace be upon you." "At-tahiyatu, at- tayibatu, as-salawatu, az-zakiyatu lillah. Ash-hadu an la ilaha illa'llah, wahdahu la sharika lah wa anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. As-salamu alayka ayyuha-n-nabiyyu wa rahmatu-llahi wa barakatuhu. As-salamu alayna wa ala ibadi-llahi's-salihin. As-salamu alaykum
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَتْ تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ إِذَا غَيَّبَ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا .
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Zayd ibn Qunfudh that his mother asked Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "What clothes can a woman wear in prayer?" She said, "She can pray in a shift that reaches down and covers the top of her feet
ام حرام سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ عورت کس قدر کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے تو جواب دیا کہ خمار اور کرتہ میں ایسا لمبا ہو کہ اس سے پاؤں ڈھپ جائیں ۔ عبیداللہ خولانی جو لے پالک تھے حضرت میمونہ ام المومنین کے ان سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور خمار یعنی سر بندھن میں اور ازار نہیں پہنے ہوتی تھیں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abd ar- Rahman ibn Abi Said al-Khudri from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not let anyone pass in front of you when you are praying. Repel him as much as you can, and, if he refuses, fight him, for he is only a shaytan
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو، وَأُشِيرُ، بِأَصْبُعَيْنِ أَصْبُعٍ مِنْ كُلِّ يَدٍ فَنَهَانِي .
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "Abdullah ibn Umar saw me when I was making dua and I was pointing with two fingers, one from each hand, and he forbade me
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ دیکھا مجھ کو عبداللہ بن عمر نے دعا کرتے ہوئے اور میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ہر ایک ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھی سو منع کیا مجھ کو ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that Amra bint Abd ar-Rahman told him that she had heard A'isha, the umm al-muminin, say (when it was mentioned to her that Abdullah ibn Umar used to say, "The dead are tormented by the weeping of the living"), "May Allah forgive Abu Abd ar-Rahman. Of course he has not lied, but he has forgotten, or made a mistake. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, passed by a jewish woman whose family were crying over her and he said, 'You are crying over her, and she is being tormented in her grave
عمرہ بن عبدالر حمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے سے اللہ بخشے ابا عبدالرحمن کو انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ایک یہودن پر جو مر گئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ صَدَقَةِ الْبَرَاذِينِ، فَقَالَ وَهَلْ فِي الْخَيْلِ مِنْ صَدَقَةٍ
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "I asked Said ibn al-Musayyab about zakat on work-horses, and he said, 'Is there any zakat on horses ?
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے سعید بن مسیب سے کہ ترکی گھوڑوں میں زکوة کیا ہے انہوں نے جواب دیا کیا گھوڑوں میں بھی زکوة ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرْسَلَ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ غَدًا، يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُمْ وَأْمُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَصُومُوا .
Yahya related to me from Malik that he had heard that Umar ibn al-Khattab had sent (the following message) to al-Harith ibn Hisham, ''Tomorrow is the day of Ashura, so fast (it) and tell your family to fast (also)
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْعِمَامَةِ فَقَالَ لاَ حَتَّى يُمْسَحَ الشَّعْرُ بِالْمَاءِ .
Yahya related to me from Malik that he had heard that Jabir ibn Abdullah al-Ansari was asked about wiping over a turban. He said, "Not unless you have wiped over your hair with water
عبداللہ بن عمر اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے ۔ مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ .
Yahya related to me from Malik, from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim, from his father, from A'isha, umm al-muminin, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did hajj on its own
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَى الشَّامِ عَلَى بَعِيرٍ وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَى الْعِرَاقِ عَلَى بَعِيرٍ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَشَدْتُكَ اللَّهَ أَسُحَيْمٌ زِقٌّ قَالَ لَهُ نَعَمْ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور حضرت عمر سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے حضرت عمر نے فرمایا میں تجھ کو دیتا ہوں اللہ کی قسم سے تیری مراد کد ہے وہ بولا ہاں ۔