وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ .
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said three rak'ahs of the 'Asr prayer and then got up and went to his apartment. A man possessing large arms stood up and said: Messenger of Allah, bias the player been shortened? He came out angrily, and said the rak'ah which he had omitted and then gave salutation. then performed two prostrations of forgetfulness and then gave salutation
عبدالوہاب تقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا ، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ، ایک ( لمبے ) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً قَاعِدًا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
Abdullah b. Shaqiq al-'Uqaili reported:I asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) during the night (i. e. Tahajjud prayer) She replied: He used to pray for a long time standing and for a long time sitting in the night, and when he recited the Qur'an while standing, he would bow himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow from the sitting position
حمید نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوا ل کیاتو ا نھوں نے جواب دیا : آپ رات کو لمبا وقت کھڑے ہوکر نماز پڑھتے اور رات کو لمبا وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو بیٹھے بیٹھے رکوع کرتے ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ فَقَالَتْ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِّي . قُلْنَا بَلَى ح. وَحَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ حَجَّاجًا الأَعْوَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، - رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ . قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْنَا بَلَى . قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِيَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً " . قَالَتْ قُلْتُ لاَ شَىْءَ . قَالَ " لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي . فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي " . قُلْتُ نَعَمْ . فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " . قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ . قَالَ " فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " . قَالَتْ قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " قُولِي السَّلاَمُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلاَحِقُونَ " .
Muhammad b. Qais said (to the people):Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad b. Qais) then reported that it was 'A'isha who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah (ﷺ)? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allah's Messenger (ﷺ) to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi'. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O 'A'isha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? I said: Yes. He gave me a nudge on the chest which I felt, and then said: Did you think that Allah and His Apostle would deal unjustly with you? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel came to me when you saw me. He called me and he concealed it from you. I responded to his call, but I too concealed it from you (for he did not come to you), as you were not fully dressed. I thought that you had gone to sleep, and I did not like to awaken you, fearing that you may be frightened. He (Gabriel) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi' (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث سنائی اور کہا : ابن جریج نے عبداللہ بن کثیر بن مطلب سے روایت کی ، انھوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب ( المطلبی ) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہی تھیں ، انھوں نے کہا : کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟ہم نے کہا : کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ اور حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ، کہا : قریش کے ایک فرد عبداللہ نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کی کہ ایک دن انھوں نے کہا؛کیا میں تمھیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟کہا : ہم نے سمجھا کہ ان کی مراد اپنی اس ماں سے ہے جس نے انھیں جنم دیا ( لیکن انھوں نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کیا میں تمھیں اپنی طرف سے اور ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟ہم نے کہا : کیوں نہیں!کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : ( ایک دفعہ ) جب میری ( باری کی ) رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے ، آپ ( مسجد سے ) لوٹے ، اپنی چادر ( سرہانے ) رکھی ، اپنے دونوں جوتے اتار کر اپنے دونوں پاؤں کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھایا ، پھر لیٹ گئے ۔ آپ نے صرف اتنی دیر انتظار کیا کہ آپ نے خیال کیا میں سو گئی ہوں ، تو آپ نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی ، آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا ، نکلے ، پھر آہستہ سے اس کو بند کردیا ۔ ( یہ دیکھ کر ) میں نے بھی اپنی قمیص سر سے گزاری ( جلدی سے پہنی ) اپنا دوپٹا اوڑھا اور اپنی آزار ( کمر پر ) باندھی ، پھر آپ کے پیچھے چل پڑی حتیٰ کہ آپ بقیع ( کے قبرستان میں ) پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور آپ لمبی دیر تک کھڑے رہے ، پھر آپ نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے ، پھر آپ پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی ، آپ تیز ہوگئے تو میں بھی تیز ہوگئی ، آپ تیز تر ہوگئے تو میں بھی تیز تر ہوگئی ۔ آپ دوڑ کر چلے تو میں نے بھی دوڑنا شروع کردیا ۔ میں آپ سے آگے نکل آئی اور گھر میں داخل ہوگئی ۔ جونہی میں لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا : " عائشہ! تمھیں کیا ہوا کانپ رہی ہو؟سانس چڑھی ہوئی ہے ۔ " میں نے کہا کوئی بات نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے بتاؤ گی یا پھر وہ مجھے بتائے گا جو لطیف وخبیر ہے ( باریک بین ہے اور انتہائی باخبر ) ہے ۔ " میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!اور میں نے ( پوری بات ) آپ کو بتادی ۔ آپ نے فرمایا : " تو وہ سیاہ ( ہیولا ) جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا ، تم تھیں؟ " میں نے کہا : ہاں ۔ آپ نے میرے سینے کو زور سے دھکیلا جس سے مجھے تکلیف ہوئی ۔ پھر آپ نے فرمایا : " کیا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ تم پر زیادتی کرے گا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگ ( کسی بات کو ) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کوجانتا ہے ، ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " جب تو نے ( مجھے جاتے ہوئے ) دیکھاتھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے ۔ انھوں نے ( آکر ) مجھے آواز دی اور اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھا ، میں نے ان کو جواب دیا تو میں نے بھی تم سے اس کو مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس اندر نہیں آسکتے تھے تم کپڑے اتار چکیں تھیں اور میں نے خیال کیا کہ تم سوچکی ہو تو میں نے تمھیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہواکہ تم ( اکیلی ) وحشت محسوس کروگی ۔ تو انھوں ( جبرئیل علیہ السلام ) نے کہا : آپ کا رب آپ کو حکم دیتاہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لئے بخشش کی دعا کریں ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ان کے حق میں ( دعا کے لئے ) کیسے کہوں؟آپ نے فرمایا : " تم کہو ، مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان ٹھکانوں میں رہنے والوں پر سلامتی ہو ، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے ، اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدٍ .
Harmala b. Yahya, Abdullah b. Wahb, Umar b. Muhammad, Ibn Umar narrated like the hadith reported by Shu'ba on the authority of Waqid
عبد اللہ بن وہب نے کہا : ہمیں عمر بن محمد نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح شعبہ نے واقد سے بیان کی ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ .
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
محمد بن جعفر ( بن ابی کثیر ) نے کہا : مجھے شریک نے خبر دی ، کہا : مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگےمحمد کے بھائی ) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ . أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ " صُمْ إِنْ شِئْتَ وَأَ��ْطِرْ إِنْ شِئْتَ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Hamza b. Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah (ﷺ) thus:Messenger of Allah, I am a person devoted much to fasting. Should I fast during the journey? He (the Holy Prophet) said: Fast if you like and break it if you like
ابوربیع ، حماد ، ابن زید ، ہشام ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطارکرلے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرِدًا وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ .
A'isha (Allah be pleased with her) said:Some among us put on Ihram for Hajj alone (Hajj Mufrad) ; some of us for Hajj and Umra together (Qiran), and some of us for Tamattal (first for Umra and after completing it for Hajj)
عبید اللہ بن عمرنے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر ما یا ( جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو ) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج ( افراد ) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں ( قرن ) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابن فُضَیل اور ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) forbidding Muhaqala and Muzabana
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ .
Jabir said that Allah's Messenger (ﷺ) cursed the accepter of interest and its payer, and one who records it, and the two witnesses, and he said:They are all equal
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا : ( گناہ میں ) یہ سب برابر ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلاَ جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَقَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ " . شُعْبَةُ الشَّاكُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ .
It has been narrated by Abdullah (b. Mas'ud) who said:When the Messenger of Allah (ﷺ) was lying postrate in prayer and around him were some people from the Quraish, 'Uqba b. Abu Mu'ait brought the foetus of a she-camel and threw it on the back of the Messenger of Allah (ﷺ). He did not raise his head until Fatima arrived, removed it from his back and cured him who had done that (ugly act). He said: O Allah, it is for Thee to deal with the chiefs of the Quraish. Abu Jahl b. Hisham, 'Utba b. Rabi'a. Uqba b. Abu Mu'ait, Shaiba b. Rabi'a, Umayya b. Khalaf or Ubayy b. Khalaf (Shu'ba, one of the narrator of this tradition is in doubt about the exact person). I saw that all were slain in the Battle of Badr and their dead bodies were thrown into a well, except that of Umayya or Ubayy which was cut into pieces and was thrown into the well
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے سنا ، وہ عمرو بن میمون سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ( ایک بار ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور آپ کے گرد قریش کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح کی ہوئی اونٹنی کی بچے والی جھلی لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر پھینک دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سجدے سے ) سر نہ اٹھایا ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اس جھلی کو آپ کی پشت سے اٹھایا اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی تھی ان کو بددعا دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے بارے میں ) فرمایا : " اے اللہ! قریش کے اس گروہ پر گرفت فرما ، ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا اُبی بن خلف ۔ ۔ شعبہ کو شک ہے ۔ ۔ پر گرفت فرما! " ( حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے ان کو دیکھا ، وہ جنگ بدر کے دن قتل کیے گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا ، البتہ امیہ بن خلف یا اُبی بن خلف کے جوڑ جوڑ کٹ چکے تھے ، اسے ( گھسیٹ کر ) کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَيُّوبَ - قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " .
It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar who said:We used to take oath to the Messenger of Allah (ﷺ) that we would listen to and obey his orders. He would tell us (to say in the oath): As far as it lies in my power
عبداللہ بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم سننے اور اطاعت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے اور آپ ہم سے فرماتے تھے : " ( کہو : ) جس کی مجھے استطاعت ہو گی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَةِ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَأْنِهِمْ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ " .
Abu Musa reported that a house was burnt down in Medina during the night over its inhabitants. When their matter was reported to Allah's Messenger (ﷺ), he said; This fire is an enemy of yours. So when you go to sleep, extinguish it
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل گرا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے ۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے ( ہٹانے کے لیے ) بجھا ہٹا دیاکرو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " . قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ - قَالَ - فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ .
Abu Tilha, the Companion of Allah's Messenger (ﷺ), reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Verily, angels do not enter the house in which there is a picture. Busr reported: Zaid fell ill and we went to inquire after his health and (found) that there was hanging at his door a curtain with a picture on it. I said to 'Ubaidullah Khaulani who had been under the patronage of Maimuna, the wife of Allah's Apostle (ﷺ): Did not Zaid himself inform us before about (the Holy Prophet's command pertaining to the pictures), whereupon 'Ubaidullah said: Did you not hear when he said:" Except the prints on the cloth"?
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنا ئی انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے زید بن خالد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کو ئی تصویر ہو ۔ "" بسر نے کہا : پھر اس اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ( دیکھا ) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر ( بنی ہو ئی ) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لے پا لک عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا حضرت زید نے پہلےدن ( جب ملا قات ہو ئی تھی ۔ ) ہمیں تصویر ( کی ممانعت ) کے بارے میں خبر ( حدیث ) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا : جب انھوں نے "" کپڑے پربنے ہو ئے نقش کے سوا "" کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters except for the fact that no mention has been made of the account of 'Ata b. Yasir as in the previous hadith
عبید اللہ بن معاذ کے والد نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث سنا ئی مگر انھوں نے حدیث کے آغاز میں عطاء بن یسار کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَضَبَ فَقَالَ لَمْ يَبْلُغِ الْخِضَابَ كَانَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ . قَالَ قُلْتُ لَهُ أَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْضِبُ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ .
Ibn Sirin reported:I asked Anas b. Malik whether Allah's Messenger (ﷺ) dyed his hair. He said: He had not reached the stage when (he needed) dyeing (of his white hair). He had a few white hair in his beard. I said to him: Did Abu Bakr dye his hair? He said: Yes, with hina' (henna)
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : کیا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ لگایاتھا؟انھوں نے کہا : آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے ، کہا : آپ کی داڑھی میں چند ہی بال سفید تھے ۔ میں نے کہا : کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رنگتے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے ۔
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُلاَئِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters
۔ ( ابو بکر کو فی ) ملائی نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائد ہ نے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں عامر ( شعبی ) کو یہ کہتے ہو ئے سنا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا ، ان دونوں کی حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ " وَنَمَى خَيْرًا " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ آپ کے اس فرمان تک خبر دی : " اور اچھی بات پہنچائی " اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ .
This hadith has also been narrated from al-Zuhri with the same chain of narrators. (but for the words):" He (the Holy Prophet) sent for water and sprinkled it over
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت کی اور کہا : آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ، بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ " لأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَاءٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً " . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ .
Hudhaifa and Ibn Mas'ud met together. Hudhaifa said:I know more than you as to what there would be along with the Dajjal. There would be along with him two canals (one flowing with water) and the other one (having) fire (within it), and what you would see as fire would be water and what you would see as water would be fire. So he who amongst you is able to see that and is desirous of water should drink out of that which he sees as fire
شعیب بن صفوان نے ہمیں عبد الملک بن عمیرسے انھوں نے ربعی بن حراش سے انھوں نے عقبہ بن عمرو ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ربعی نے ) کہا : میں ان ( عقبہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ہمراہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : آپ نے دجال کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ مجھے بیان کریے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال نکلے گااس کے ساتھ پانی ہوگا اور آگ ہوگی ۔ جو لوگوں کو پانی نظر آرہا ہو گا ( وہ ) آگ ہوگی ۔ اور جو لوگوں کو نظر آرہی ہو گی ۔ وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا تم میں سے جو شخص اس کو پائے وہ اس میں کودجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو ۔ بلاشبہ وہ میٹھا پاکیزہ پانی ہو گا ۔ حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ۔ اور میں نے ( بھی ) یہ حدیث سنی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلاَةٍ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ " أَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا " .
Ibn 'Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) happened to pass by (the dead body) of the goat which belonged to the freed slave-girl of Maimuna and said: Why did you not make use of its skin?
عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ سیدہ میمونہؓ کی باندی کی ( مردہ ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلاَمَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " .
Jabir b. Samura reported:When we said prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), we pronounced: Peace be upon you and Mercy of Allah, peace be upon you and Mercy of Allah, and made gesture with the hand on both the sides. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him said: What do you point out with your hands as if they are the tails of headstrong horses? This is enough for you that one should place one's hand on one's thigh and then pronounce salutation upon one's brother on the right side and then on the left)
۔ مسعر نے کہا : مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘