بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
21 hadith
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ وَ ‏{‏ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ‏}‏
Abu Huraira reported:We performed prostration along with the Messenger of Allah (ﷺ) (as he recited these verses: )" When the heaven burst asunder" and" Read in the name of Thy Lord" (al-Qur'an, xcvi)
عطاء بن میناء نے حضرت ابو ھریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : ہم نے نبی ﷺکے ساتھ ( اذا السّماء انشقت ) اور ( اقرا باسم ربّک ) میں سجدہ کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ‏.‏ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I said to 'A'isha and she made a mention of that (recorded above) about the Messenger of Allah (ﷺ)
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا ۔ ۔ ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ الْكَوْكَبُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ ‏"‏ بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed:Allah does not shower His blessings from the heaven that in the morning a group of men disbelieve it (to be a blessing from Allah). Allah sends down rain, but they (the disbelievers) say: Such and such star (is responsible for that)
محمد بن سلمہ مرادی نے اپنی سند سے اور عمرو بن سواد نے اپنی سند سے عمرو بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ آسمان سے برکت ( بارش ) نازل نہیں کرتا مگر لوگوں کا ایک گروہ ، اس کے سبب سے کافر ہو جاتا ہے ، بارش اللہ تعالیٰ اتارتا ہے ( لیکن ) یہ لوگ کہتے ہیں : فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔ ) ‘ ‘ اور مرادی کی روایت کے یہ ا لفاظ ہیں : ’’فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is better for any one of you to tie a bundle of firewood and carry it on his back and sell it than to beg a person, he may give or may refuse
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزادکردہ غلام ابو عبید سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پرلادے ، اور بیچ دے ، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے ، ( چاہے ) وہ اسے دے یا نہ دے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ ‏.‏ وَقَالَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Nadr with the same chain of transmitters, but he did not mention that he was mounting (riding on) his camel
اسحاق بن ابراہیم ، ابن ابی عمر ، سفیان ، حضرت ابی انصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُلَبِّي لاَ نَذْكُرُ حَجًّا وَلاَ عُمْرَةً ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْصُورٍ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased, with her) reported:We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing Talbiya having no explicit intention of Pilgrimage or 'Umra. The rest of the hadith is the same
اعمش نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اس3ود کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں رہے تھے ۔ اور آگے ( اعمش نے ) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی ،
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but in the hadith transmitted on the authority of Zuhri there is an addition (of these words):" If he likes he may (have intercourse) being on the back or in front of her, but it should be through one opening (vagina)
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی ۔ عبدالوارث بن عبدالصمد نے کہا : مجھے میرے والد نے میرے داداسے حدیث بیان کی ، انہوں نے ایوب سے روایت کی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث سنائی ۔ عبیداللہ بن سعد ، ہارون بن عبداللہ اور ابومعن رقاشی نے کہا : ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے نعمان بن راشد سے سنا ، وہ زہری سے روایت کر رہے تھے ۔ سلیمان بن سعید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن اسد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے سہل بن ابی صالح سے حدیث سنائی ، ان سب ( ابوعوانہ ، ایوب ، شعبہ ، سفیان ، زہری اور سہیل بن ابی صالح ) نے محمد بن منکدر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، زہری سے روایت کردہ نعمان ( بن راشد کی حدیث میں ان کے شاگرد جریر نے ) اضافہ کیا : اگر چاہے تو منہ کے بل اور اگر چاہے تو اس کے بغیر ( کسی اور ہئیت میں ) ، لیکن یہ ایک ہی ڈھکنے ( کی جگہ ، یعنی قُبل ) میں ہو
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلاَطِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ‏.‏
Nafi reported:I went to Rafi b. Khadij in the company of Ibn 'Umar (All be pleased with them) until he (Ibn 'Umar) came to him at Balat (a place near Prophet's Mosque at Medina) and he (Rafi b. Khadij) informed him that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden the renting of land
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک وہ ان کے پاس بَلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں ( ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلاَ يَكَادُ يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي ‏"‏ مَا لِبَعِيرِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ عَلِيلٌ - قَالَ - فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَازَالَ بَيْنَ يَدَىِ الإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لِي ‏"‏ كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَبِيعُنِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلاَمَنِي فِيهِ - قَالَ - وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ ‏"‏ مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاَعِبُكَ وَتُلاَعِبُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي - أَوِ اسْتُشْهِدَ - وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلاَ تُؤَدِّبُهُنَّ وَلاَ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَىَّ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I went on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ). He overtook me and I was on a water-carrying camel who had grown tired and did not walk (trot). He (the Holy Prophet) said to me: What is the matter with your camel? I said: It is sick. He (the Holy Prophet) stepped behind and drove it and prayed for it, and then it always moved ahead of other camels. He (then) said: How do you find your camel? I said: It is, by the grace of your prayer, all right. He said: Would you sell this (camel) to me? I felt shy (to say him," No" ) as we had no other camel for carrying water, but (later on) I said: Yes, and to I sold it to him on the condition that (I would be permitted) to ride it until I reached Madina. I said to him: Allah's Messenger, I am newly married, so I asked his permission (to go ahead of the caravan). He permitted me, and I reached Medina well in advance of other people, until I reached my destination. There my maternal uncle met me and asked me about the camel, and I told him what I had done with regard to it. He reproved me in this connection. He (Jabir) said: When I asked his permission (to go ahead of the caravan) Allah's Messenger (ﷺ) inquired of me whether I had married a virgin or a non-virgin. I said to him: I have married a non-virgin. He said: Why did you not marry a virgin who would have played with you and you would have played with her? I said to him: Allah's Messenger, my father died (or he fell as a martyr), and I have small sisters to (look after), so I did not like the idea that I should marry a woman who is like them and thus be not able to teach them manners and look after them properly. So I have married a non-virgin so that she should be able to look after them and teach them manners, When Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina, I went to him in the morning with the camel. He paid me its price and returned that (the camel) to me
جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے میں نے جہاد کیا رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تو آپ مجھ سے ملے ( راہ میں ) اور میری سواری میں ایک اونٹ تھا پانی کا وہ تھک گیا تھا اور بالکل چل نہ سکتا تھا ۔ آپ نے پوچھا تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا وہ بیمار ہے ۔ یہ سن کر جناب رسول اﷲ ﷺ پیچھے ہٹے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں کے آگے ہی چلتا رہا ۔ آپ نے فرمایا اب تیرا اونٹ کیسا ہے؟ میں نے کا اچھا ہے آپ کی دعا کی برکت سے آپ نے فرمایا میرے ہاتھ بیچتا ہے مجھے شرم آئی اور ہمارے پاس او رکوئی اونٹ پانی لانے کے لیے نہ تھا آخر میں نے کہا ہاں بیچتا ہوں پھر میں نے اس اونٹ کو آپ ہاتھ بیچ ڈالا اس شرط سے کہ میں اس پر سواری کروں گا مدینے تک پھر میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ میں نوشہ ہوں ( یعنی ابھی میرا نکاح ہوا ہے ) مجھے اجازت دیجیے ( لوگوں سے پہلے مدینہ جانے کی ) ۔ آپ نے اجازت دی میں لوگوں سے آگے برھ کر مدینہ آپہنچا وہاں میرے ماموں ملے اور اونٹ کا حال پوچھا ۔ میں نے سب حال بیان کیا ۔ انہوں نے مجھ کو ملامت کی ( کہ ایک ہی اونٹ تھا تیرے پاس اور گھر والے بہت ہیں اس کو بھی تونے بیچ ڈالا اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ خداوند کریم کو جابرؓ کا فائدہ منظور ہے ) ۔ جابرؓ نے کہاجب میں نے آپ سے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا تونے کنواری سے شادی کی ہے یا نکاحی سے؟ میں نے کہا نکاحی سے ۔ آپ نے فرمایا کنواری سے کیوں نے کی وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی یا رسول اﷲ! میرا باپ مرگیا یا شہید ہوگیا میری کئی بہنہیں چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں شادی کرکے ایک اور لڑکی لاؤں ان کے برابر جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کو دبائے ۔ اس لیے میں نے ایک نکاحی سے شادی کی تاکہ ان کو دابے اور تمیز سکھائے ۔ جابرؓ نے کہا پھر جب رسول اﷲ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے میں اونٹ صبح ہی لے گیا آپ نے اس کی قیمت مجھ کو دی اور اونٹ بھی پھیر دیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ، يَقُولُ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who said:I heard Jundub b. Sufyan say: The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and did not wake up for two or three nights (for prayers) A woman came to him and said: Muhammad, I hope that your satan has left you. I haven't seen him approach you for two or three nights. The narrator says: At this, Allah, the Glorious and Exalted, revealed:" By the Glorious
زہیر نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے تو ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے محمد! مجھے لگتا ہے کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے ، میں نے دو یا تین راتوں سے اسے آپ کے قریب آتے نہیں دیکھا ۔ کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی اور رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ کے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ وہ بیزار ہوا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) had a race of the horses which had been especially prepared for the purpose from Hafya' to Thaniyyat al-Wada' (the latter being the winning post), and of those which had not been trained from Thaniyya to the mosque of Banu Zuraiq, and Ibn Umar was among those who took part in this race
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گھوڑوں کی حفیاء کے مقام سے مسابقت ( دوڑ ) کروائی جنہیں ( عربی طریقے سے ) فالتو چربی زائل کر کے سبک اندام بنایا گیا تھا ۔ ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع تک تھی اور جن کو سبک اندام نہ بنایا گیا تھا ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زُریق تک کرائی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you intends to eat (meal), he should eat with his right hand. and when he (intends) to drink he should drink with his right hand, for the Satan eats with his left hand and drinks with his left hand
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے ابو بکر بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تواپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیےتواپنے دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے اوربائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters but with a slight variation of wording (and the variation is that the narrator is reported to have said):He (the Holy Prophet) inclined towards that curtain and tore it with his hand
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ( آگے اسی طرح ) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے ، البتہ انھوں نے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( پردے ) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ‏.‏ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ‏.‏ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ ‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‏.‏
Amir b. Rabi'ah reported:'Umar went to Syria and as he came to Sargh, information was given to him that an epidemic had broken out in Syria. 'Abd al-Rahman b. 'Auf narrated to him that Allah's Messenger (ﷺ) had said: When you hear of its presence in a land, don't move towards it, and when it breaks out in a land and you are therein, then don't run away from it. So 'Umar b. Khattab came back from Sargh. Salim b. 'Abdullah reported that 'Umar went back, along with people on hearing the hadith reported on the authority of 'Abd al-Rahman b. 'Auf
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف روانہ ہو ئے ، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلا ع ملی کہ شام میں وبا نمودار ہو گئی ہے ۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : "" جب تم کسی علاقے میں اس ( وبا ) کی خبر سنو تو وہاں نہ جا ؤ اور جب تم کسی علاقے میں ہواور وہاں وبا نمودار ہو جا ئے تو اس وبا سے بھا گنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو ۔ "" اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرغ سے لوٹ آئے ۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو لے کر لوٹ آئے ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ قَدْ شَابَ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ ‏.‏
Abu Juhaifa reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) that he had white complexion and had some white hair, and Hasan b. 'Ali resembled him
محمد بن فضیل نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ گورے تھے ، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے مشابہت رکھتے تھے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رضى الله عنهما لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ إِلَىَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لاَ ‏.‏ قَالَ لَهُ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ‏"‏ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏
(Imam Zain-ul-'Abidin) 'Ali b. Husain reported that when they came to Medina from Yazid b. Mu'awiya after the martyrdom of Husain b. 'Ali (Allah be pleased with him) Miswar b. Makhramah met him and said to him:Is there any work for me which you ask me to do? I said to him: No. He again said to me: Would you not give me the sword of Allah's Messenger (ﷺ) for I fear that the people may snatch it from you? By Allah, if you give that to me, no one would be able to take it away, so long as there is life in me. Verily 'Ali b. Abi Talib sent a proposal of marriage to the daughter of Abu Jahl in spite of (the fact that his wife) Fatima (had been living in his house). Thereupon I heard Allah's Messenger (ﷺ) say while addressing the people on the pulpit. I was adolescing in those days. He said: Fatima is a part of me and I fear that she may be put to trial in regard to religion. He then made a mention of his son-in law who had been from the tribe of 'Abd Shams and praised his behaviour as a son-in-law and said: Whatever he said to me he told the truth and whatever he promised he fulfilled it for me. I am not going to declare forbidden what is lawful and make lawful what is forbidden, but, by Allah, the daaghter of Allah's Messenger and the daughter of the enemy of Allah can never be combined at one place
محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا : ابن شہاب نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں علی بن حسین ( زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملے اور کہا : آپ کو مجھ سے کو ئی بھی کا م ہو تو مجھے حکم کیجیے ۔ ( حضرت علی بن حسین نے ) کہا : میں نے ان سے کہا : نہیں ( کو ئی کا م نہیں ) حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ( حفاظت کے لیے ) مجھے عطا کریں گے ، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لو گ اس ( تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے اور اللہ کی قسم !اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کو ئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جا ن اپنی منزل پر پہنچ جا ئے ۔ ( مجھے یا د ہے کہ ) جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہو تے ہو ئے ابوجہل کی بیٹی کو نکا ح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبرپر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فاطمہ مجھ سے ہے ( میرے جسم کا ٹکڑا ہے ) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جا ئے گا ۔ کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس میں سے اپنے داماد ( حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا ذکر فر ما یا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فر ما ئی ۔ آپ نے فر ما یا : " اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا ۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیااور میں کسی حلال کا م کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا اور لیکن اللہ کی قسم!اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ ( ایک خاوندکے نکا ح میں ) اکٹھی نہیں ہو ں گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Kuraib, Ibn al-Mubarak, Ibn Abu Za'ida all of them narrated from Amr b. Maimun with the same chain of transmitters. Ibn Abu Za'ida narrated as was transmitted from Ibn Bishr that the Messenger of Allah (ﷺ) washed semen, and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Mabarak and Abdul Wahid the words are:" She (A'isha) reported: I used to wash it from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالواحد بن زیاد ، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح ( یہ ) ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ منی ( خود ) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبد الواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہؓ نے کہا : میں اسے نبی اکرمﷺ کے کپڑے سے دھوتی تھی ۔
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ قَالَ ‏"‏ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لاَ يَضُرُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالأَنْهَارَ قَالَ ‏"‏ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Mughira b. Shu'ba reported:No one asked Allah's Messenger (ﷺ) more about Dajjil than I asked him. He said: He should not be a source of worry to you for he would not be able to do any harm to you. I said: Allah's Messenger, it is alleged that he would have along with him (abundance of) food and water. Thereupon he said: He would be very insignificant in the eye of Allah (even) with all this
ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نےقیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : " اس ( کے حوالے ) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ کہا : میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے ( کےڈھیر ) اور ( پانی کے ) دریا ہوں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے ( کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے ،)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ ‏{‏ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا‏}‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ - لأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
Shaqiq reported:I was sitting in the company of Abdullah and Abu Musa when Abu Musa said: 0 'Abd al-Rahman (kunya of 'Abdullah b. Mas'ud), what would you like a man to do about the prayer if he experiences a seminal emission or has sexual intercourse but does not find water for a month? 'Abdullah said: He should not perform tayammum even if he does not find water for a month. 'Abdullah said: Then what about the verse in Sura Ma'ida:" If you do not find water, betake yourself to clean dust"? 'Abdullah said: If they were granted concession on the basis of this verse, there is a possibility that they would perform tayammum with dust on finding water very cold for themselves. Abu Musa said to Abdullah: You have not heard the words of 'Ammar: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on an errand and I had a seminal emission, but could find no water, and rolled myself in dust just as a beast rolls itself. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) then and made a mention of that to him and he (the Holy Prophet) said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands once and wiped his right hand with the help of his left hand and the exterior of his palms and his face. 'Abdullah said: Didn't you see that Umar was not fully satisfied with the words of 'Ammar only?
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ ‏ "‏ أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported:This is what was transmitted to us by Abu Huraira from the Messenger of Allah (ﷺ) and, while making a mention of a few ahadith, said: (The Messengerof Allah directed us thus): Establish rows in prayer, for the making of a row (straight) is one of the merits of prayer
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ہے جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیا ، پھر انہوں نے ان میں سے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : ’’نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن ( ادائیگی ) کا حصہ ہے ۔ ‘ ‘