بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
21 hadith
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَقُلْتُ تَسْجُدُ فِيهَا فَقَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِيهَا فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Abu Rafi' reported:I saw Abu Huraira performing prostration (while reciting this verse: )" When the heaven burst asunder." I said to him: Do you prostrate yourself (while reciting) i? He said: Yes, I saw my best Friend (ﷺ) prostrating himself on (the recital of this verse) and I shall continue prostrating till I meet him. Shu'ba asked: Do you mean (by Friend) the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Yes
شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ سے انھوں نے ابو رافع سے روایت کی ‘ کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا ‘ وہ ( اذا السّماء انشقّت ) میں سجدہ کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا : آپ اس میں سجدہ کرتے ہیں؟انھوں نے کہا : ہاں!میں نے اپنے خلیلﷺکو اس سجدہ کرتے دیکھا ‘ اس لیے میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہو ں گا حتی کہ ان سے جا ملوں ۔ شعبہ نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) پوچھا : ( خلیل سے مراد ) نبی اکرم ﷺہیں ؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَمُتْ حَتَّى صَلَّى قَاعِدًا ‏.‏
Jabir b. Samura reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed (Nafl) prayer sitting before his death
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ ( رات کو ) بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:A person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith has been narrated by Abdullah b. al-Sa'di from 'Umar b. al-Khattab who heard it from the Messenger of Allah (ﷺ)
سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے ، انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اسی کے مانند ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ ‏.‏ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but he made no mention in the first part of the hadith that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast, and said about the second part that he abandoned the (fast) of Ashura, and he who wished observed the fast and who wished otherwise abandoned it, and he did not hold it as the words of the Messenger of Allah (ﷺ) as mentioned in the narration transmitted by Jarir
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ، قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ‏.‏ قَالَتْ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ - قَالَتْ - فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ ‏.‏ قُلْتُ لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ ‏.‏
Safiyya bint Shaiba reported that 'A'isha (Allah be pleased with her) said:Messenger of Allah, the people are returning with two rewards whereas I am returning with one reward. Thereupon he commanded 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr to take her to al-Tan'im. She ('A'isha) said: He seated me behind him on his camel. She (further) stated: I lifted my head covering and took it off from my neck. He struck my foot as if he was striking the camel. I said to him: Do you find anyone bere? She (further) said: I entered into the state of Ihram for 'Umra till we reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he was at Hasba
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ تو وہ ( عملوںکا ) ثواب لے کر لو ٹیں گے اور میں ( صرف ) ایک ( عمل کا ) ثواب لے کر لوٹوں ؟ تو ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات سن کر ) آپ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انھیں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) تنعیم تک لے جائے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : چنانچہ عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ( راستے میں ) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر کا نے کے لیے ( بار بار ) اسے اوپر اٹھا تی تو ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے ( کہااوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ ) میں ان سے کہتی : آپ یہاں کسی ( اجنبی ) کو دیکھ رہے ہیں ؟ ( جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا ) فرماتی ہیں : میں نے ( وہاں سے ) عمرے کا احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارا ( اور عمرہ کیا ) پھر ہم ( واپس آئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ ( اس وقت ) مقام حصبہ پر تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah he pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upoin him) said:The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of judgment is the men who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret
مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن ، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ ( آدمی ) اس کا راز افشا کر دیتا ہے
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالأَرْضِ فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ ‏.‏
Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) reported:We used to give on rent land during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). We rented it on the share of one-third or one-fourth of the (produce) along with a definite quantity of corn. One day a person from among my uncles came to us and said: Allah's Messenger (ﷺ) forbade us this act which was a source of benefit to us, but the obedience to Allah and to His Messenger (ﷺ) is more beneficial to us. He forbade us that we should rent land with one-third or one-fourth of (the produce) and the corn of a measure, and he commanded the owner of land that he should cultivate it or let it be cultivated by other (persons) but he showed disapproval of renting it or anything besides it
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور ( اس کے ساتھ ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے ، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لئے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے ، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر مدیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں ۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے ( اپنے مسلمان بھائی کو ) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا ( غلے کے ایک متعین حصے پر دینے ) کو ناپسند کیا ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ - قَاَلَ - فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ فَأَرْجَحَ لِي ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) bought a camel from me for two 'uqiyas and a dirham or two dirhams. As he reached Sirar (a village near Medina), he commanded a cow to be slaughtered and it was slaughtered, and they ate of that, and as he (the Holy Prophet) reached Medina he ordered me to go to the mosque and offer two rak'ahs of prayer, and he measured for me the price of the camel and even made an excess payment to me
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا ۔ جب آپ صرار ( کے مقام پر ) آئے تو آپ نے گائے ( ذبح کرنے ) کا حکم دیا ، وہ ذبح کی گئی ، لوگوں نے اسے کھایا ، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں ۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت ( کے برابر سونے یا چاندی ) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا ۔ فائدہ : قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب ( بن وثار ) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے ۔ ( دیکھیے ، حدیث : 4103 ) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے ، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں ۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے ۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ - قَالَ - فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ - أَوْ قَالَ - قَتَلَهُ قَوْمُهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said (after the encounter at Badr):Who will ascertain for us what has happened to Abu Jahl? Ibn Mas'ud went (to gather this information). He found that the two sons of 'Afra' had struck him and he lay cold at the point of death. He caught him by his beard and said: Art thou Abu Jahl? He said: is there anybody superior to the person you have killed, or (he said) his people have killed him. Ibn Mas'ud says that, according to Abu Mijlaz, Abu Jahl said: Alas! a person other than a farmer would have killed me
اسماعیل ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہماری خاطر کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ "" اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ چلے گئے ، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دوبیٹے اس کو تلواروں کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا ہے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا : تو ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا : کیا اس سے بڑے کسی شخص کو بھی تم نے قتل کیا ہے؟ ۔ ۔ یا کہا ۔ ۔ اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : ابومجلز نے کہا : ابوجہل نے یہ بھی کہا تھا : کاش! مجھے کسانوں کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
The above tradition has also been narrated on the authority of Yunus through a different chain of transmitters
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي، مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ آخُذُ مِنْ لَحْمٍ حَوْلَ الصَّحْفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلْ مِمَّا يَلِيكَ ‏"‏ ‏.‏
Umar b. Abu Salama reported:I (had the opportunity) one day to dine with Allah's Messenger (ﷺ), and I picked up flesh from around the dish. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Eat from that which is near to you
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ انھوں نےکہا : ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھاناکھایااورمیں نے پیالے کی ہر جانب سے گوشت لیناشروع کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے آگے سے کھاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَىَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ‏.‏
A'isha reported:Allah's Apostle (ﷺ) visited me when I had screened (my door) with a carpet having pictures on it. He removed it and we made cushions out of that
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہواتھا ، اس میں تصویریں تھیں ، آپ نے اس کو ہٹوادیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى ‏"‏ ‏.‏ وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ ‏"‏ لاَ يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease and he also reported along with it: The ill should not be taken to the healthy
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا : انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جا تا ۔ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے " بیمار اونٹوں والا ( اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لا ئے ۔ " یو نس کی حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters
حسن بن صالح نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ‏"‏ ‏.‏ فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَاطِمَةُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مَا يُبْكِيكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي ‏"‏ أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ وَلاَ أُرَانِي إِلاَّ قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَكَيْتُ لِذَلِكِ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَضَحِكْتُ لِذَلِكِ ‏.‏
A'isha reported that all the wives of Allah's Apostle (ﷺ) had gathered (in her apartment) during the days of his (Prophet's) last illness and no woman was left behind that Fatima, who walked after the style of Allah's Messenger (ﷺ), came there. He welcomed her by saying:You are welcome, my daughter, and made her sit on his right side or on his left side, and then talked something secretly to her and Fatima wept. Then he talked something secretly to her and she laughed. I said to her: What makes you weep? She said: I am not going to divulge the secret of Allah's Messenger (ﷺ). I (`A'isha) said: I have not seen (anything happening) like today, the happiness being more close to grief (as I see today) when she wept. I said to her: Has Allah's Messenger (ﷺ) singled you out for saying something leaving us aside? She then wept and I asked her what he said, and she said: I am not going to divulge the secrets of Allah's Messenger (ﷺ). And when he died I again asked her and she said that he (the Holy Prophet) told her: Gabriel used to recite the Qur'an to me once a year and for this year it was twice and so I perceived that my death had drawn near, and that I (Fatima) would be the first amongst the members of his family who would meet him (in the Hereafter). He shall be my good forerunner and it made me weep. He again talked to me secretly (saying): Aren't you pleased that you should be the sovereign amongst the believing women or the head of women of this Ummah? And this made me laugh
زکریا نے فراس سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں ) ، کوئی بیوی ایسی نہ تھیں جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا کہ مرحبا میری بیٹی ۔ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں ، پھر تم روتی ہو ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا ، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی ۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دوبار دور کیا ، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا ( دنیا سے جانے کا ) وقت قریب آ گیا ہے ، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر ، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں ۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا کہ اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آنِفًا قَالَ ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي
Sulaiman b. Surad reported that two persons abused each other in the presence of Allah's Apostle (ﷺ) and one of them fell into a rage and his face became red. Allah's Apostle (ﷺ) saw him and said:I know of a wording; if he were to utter that, he would get out (of the fit of anger) (and the wording is): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. Thereupon, a person went to him who had heard that from Allah's Apostle (ﷺ) and said to him: Do you know what Allah's Messenger (ﷺ) said? He (the Holy Prophet) said: I know of a wording; if he were to say that, (the fit) would be no more (and the words are): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. And the person said to him: Do you find me mad?
ابواسامہ نے کہا : میں نے اعمش سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عدی بن ثابت سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا ۔ ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا : " مجھے ایک کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ شخص وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ ( غصہ ) جاتا رہے گا ۔ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات ) سننے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا اور کہا : تمہیں پتہ ہے کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے : " مجھے ایک ایسے کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ ( شخص ) وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہے گی ۔ " اس شخص نے کہا : کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں جنون کا شکار ہو گیا ہوں؟
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَكَانَ الآخَرُ لاَ يَسْتَنْزِهُ عَنِ الْبَوْلِ أَوْ مِنَ الْبَوْلِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is transmitted from A'mash by Abmad b. Yusuf al-Azdi, Mu'alla b. Asad, Abd al-Wahid, Sulaiman with the same chain of transmitters but for the words:" The other did not keep himself safe from being defiled by urine
عبدالواحدنے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : اور دوسرا پیشاب ( اپنے کے بغیر ) کی طرف سے ( بچنے کا اہتمام نہیں عبدالواحد کرتا ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. `Amr reported:I committed to memory a hadith from Allah's Messenger (ﷺ) and I did not forget it after I had heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The first sign (out of the signs of the appearance of the Dajjal) would be the appearance of the sun from the west, the appearance of the beast before the people in the forenoon and which of the two happens first, the second one would follow immediately after that
محمد بن بشیر نے ابو حیان سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " نمودار ہونے والی سب سے پہلے نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کانکلنا ہے ۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہوگی ، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہوجائے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، مَرَّ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ‏.‏
Ibn Umar reported:A person happened to pass by the Messenger of Allah (ﷺ) when he was making water and saluted him, but he did not respond to his salutation
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے سلام کہا ، آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہ دیا ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ ‏ "‏ تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ لاَ يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) saw (a tendency ) among his Companions to go to the back, so he said to them: Come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead. People will continue to keep back till Allah will put them at the back
ابو اشہب نے ابو نضرہ عبدی سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ( صف بندی میں ) پیچھے رہتے دیکھا تو ان سے کہا : ’’ آگے بڑھو اور ( براہ راست ) میری اقتدا کرو اور جو لوگ تمہارے بعد ہوں وہ تمہاری اقتدا کریں ، کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے جائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کر دے گا ۔ ‘ ‘