بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
20 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلاَةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ‏.‏
Abdullah b. Zubair narrated on the authority of his father:When the Messenger of Allah (ﷺ) sat in prayer. he placed the left foot between his thigh and shank and stretched the right foot and placed his left hand on his left knee and placed his right hand on his right thigh, and raised his finger
عثمان بن حکم نے کہا : عامر بن عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے مجھے حدیث سنائی ‘ انھوں نے کہا : رسول اللہﷺجب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤ ں بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پر اور اپنا دایا ں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کر لیتے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قُلْتُ حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ قُلْتَ ‏"‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ ‏"‏ أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr reported:It was narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: The prayer observed by a person sitting is half of the prayer. I came to him (ﷺ) and found him praying in a sitting position. I placed my hand on his head. He said: O 'Abdullah b. 'Amr, what is the matter with you? I said: Messenger of Allah, it has been narrated to me that you said: The prayer of a man in a sitting position is half of the prayer, whereas you are observing prayer sitting. He (the Holy Prophet) said: Yes, it is so, but I am not like anyone amongst you
جریر نے مجھے حدیث سنائی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ہلال بن یساف سے ، انھوں نے ابو یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ( بن حوص ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیٹھ کر آدمی کی نماز ( اجر میں ) آدھی نماز ہے ۔ " انھوں نے کہا : ایک بار میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر مبارک پر لگایا ۔ آپ نے ہوچھا : " اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے " بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے ۔ " جب کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ایسا ہی ہے لیکن میں تم میں سے کسی ایک طرح کا نہیں ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri that the Messenger of Allah observed:The person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar
حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ تعالیٰ اورآخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، الْمَالِكِيِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏
Ibn al-Sa'di Maliki reported:'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) appointed me as a collector of Sadaqa. When I had finished that (the task assigned to me) and I handed over that to him (to 'Umar), he commanded me to (accept) some remuneration (for the work). I said: I performed this duty for Allah and my reward is with Allah. He said: Take whatever has been given to you, for I also performed this duty during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He assigned me the task of a collector and I said as you say, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: When you are given anything without your begging for it, (then accept it), eat it and give it in charity
لیث نے بکیر سے ، انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقے ( کی وصولی ) کےلئے عامل مقرر کیا ، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انھیں ( وصول کردہ ) مال لا کر ادا کردیا ، تو انھوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا ۔ میں نے عرض کی : میں نے تو یہ کام محض اللہ کی ( رضا کی ) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : جو تمھیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا ، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمھیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ يَوْمَ، عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported. In the pre-Islamic days fast was observed on the day of Ashura, but with the advent of Islam (its position was ascertained as that of a voluntary fast). Then he who wished to fast fasted, and he who liked to abandon it abandoned it
عمرو ناقد ، سفیان ، زہری ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتاتھا تو جب اسلام آیا کہ جوچاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Abu Bakr reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered him to mount A'isha behind him and enable her to (enter into the state of Ihram for 'Umra) at Tan'im
عمرو بن اوس نے خبر دی کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے لیں اور انھیں مقام تنعیم سے عمرہ کروائیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ‏"‏ إِنَّ أَعْظَمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sirma al-Khudri (Allah he pleased with him ) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording
محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا : ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے ( سنگین ) معاملات میں سے اس آدمی ( کا معاملہ ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے ، پھر وہ اس ( بیوی ) کا راز افشا کر دے ۔ " ابن نمیر نے کہا : سب سے بڑا ( سنگین ) معاملہ ۔ " ( یہ بڑی خیانت ہے)
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ‏.‏
Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) reported:We used to give land on rent, and we rented it on one-third or one-fourth share. The rest of the hadith is the same
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا ، انہوں نے کہا : میں نے سلیمان بن یسار سے سنا ، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ کی ( سابقہ ) حدیث کے مانند بیان کیا
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported this narration from Allah's Apostle (ﷺ) but with this variation that he said:He (the Holy Prophet) bought the camel from me on a stipulated price. And he did not mention two 'uqiyas and a dirham or two dirhams, and he comanded a cow (to be slaughtered) and it was slaughtered, and he then distributed its flesh
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا ، مگر انہوں نے کہا : آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتا خرید لیا جس کی انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے تعیین بھی کی ، ( اس روایت میں ) انہوں نے دو اوقیہ ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا : آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا ، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا ۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ ‏.‏
A similar tradition has been transmitted by a different chain of narrators, on the same authority with a slight difference In the wording
ہمیں معتمر نے کہا : میں نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے سنا ، وہ کہ رہے تھے : ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لیے کون معلوم کرے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟ آگے ابن علیہ کی حدیث اور ابومجلز کے قول کے مانند ہے ، جس طرح اسماعیل نے بیان کیا ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ‏"‏ ‏.‏
The same tradition has been narrated on the authority of Urwat al-Bariqi who said that the Prophet (ﷺ) said:Great good is attached to the forelock of the horses until the Day of Judgment
عروہ بارقی سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک یعنی ثواب اور غنیمت۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ ‏.‏
Abu Sa'id (Khudri) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade from turning the waterskins upside down and drinking from its mouth
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منہ لگا کر پینے کے لیے ) مشکوں کو الٹانے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَعَهُ قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ لاَ ‏.‏ قَالَ لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ ‏.‏ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ‏.‏
A'isha, the wife of Allah's Messenger (ﷺ), reported that she had hung a curtain which had pictures upon it. Allah's Messenger (ﷺ) entered (the room) and he pulled it. A'isha said:I then tore it and prepared two cushions out of that. A person who was then in that company and whose name was Rabi'a b. 'Ata, the freed slave of Banu Zuhra, asked: Did you hear Abu Mabammad making a mention of A'isha having stated that Allah's Messenger (ﷺ) used to recline upon them? lbn al-Qasim said: No, but I heard Qasim b. Muhammad saying so
بکیر نے کہا : عبدالرحمان بن قاسم نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ایک پردہ لٹکا رکھاتھا جس میں تصاویر تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنالیے ، ( جب یہ حدیث بیان کی جارہی تھی ) تواس مجلس میں ایک شخص نے ، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے ، بنو زہری کے مولیٰ تھے ، کہا : کیا آپ نے ابو محمد ( قاسم بن محمد ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں ( تکیوں ) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟تو ( عبدالرحمان ) ابن قاسم نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : لیکن میں نے یقیناً ( ان سے ) یہ بات سنی تھی ۔ ان کی مراد ( ان کےوالد ) قاسم بن محمد سے تھی ۔
حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ ‏.‏ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتِمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ ‏.‏
As-Sa'ib b. Yazid reported:My mother's sister took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, here is the son of my sister and he is ailing. He touched my head and invoked blessings upon me. He then performed ablution and I drank the water left from his ablution; then I stood behind him and I saw the seal between his shoulders
جعد بن عبدالرحمان نے کہا : میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھانجا بہت بیمار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ۔ پھر وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو مجھے آپ کے د ونوں کندھوں کے درمیان آپ کی مہر ( نبوت ) مسہری کے لٹو کی طرح نظر آئی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُعْتَمِرِ، - قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ لاَ تَكُونَنَّ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ وَلاَ آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّهَا مَعْرَكَةُ الشَّيْطَانِ وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ ‏.‏ قَالَ وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ - قَالَ - فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُمِّ سَلَمَةَ ‏ "‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ - قَالَ - فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخْبِرُ خَبَرَنَا أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Salman reported:In case it lies in your power don't be one to enter the bazar first and the last to get out of that because there is a bustle and the standard of Satan is set there. He said: I was informed that Gabriel (Allah be pleased with him) came to Allah's Apostle (ﷺ) and there was with him Umin Salama and he began to talk with him. He then stood up, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said to Umm Salama: (Do you know) who was he and what did he say? She said: He was Dihya (Kalbi). He reported Umm Salama having said: By Allah, I did not deem him but only he (Dihya) until I heard the address of Allah's Apostle (ﷺ) informing him about us. He (the narrator) said: I said to Uthman: From whom did you hear it? He said: From Usima b. Zaid
معتمر بن سلیمان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل ، کیونکہ بازار شیطان کا میدان جنگ ہے اور وہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا ہے ۔ ( ابو عثمان نہدی نے ) کہا : اور مجھے خبر دی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگے ، پھر کھڑے ہوئے ( یعنی چلے گئے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کون شخص تھے؟ انہوں نے کہا کہ دحیہ کلبی تھے ۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم تو انہیں دحیہ کلبی ہی سمجھے ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر بیان کرتے تھے ۔ میں ( راوی حدیث ) نے کہا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
حفص بن غیاث نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ عَنِ الآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا، خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abu Zur'a reported that three persons amongst Muslims had been sitting in Medina in the presence of Marwan b. Hakam and they heard him narrate these signs from him and the first amongst them was the appearance of the Dajjal. 'Abdullah b. 'Amr reported that Marwin said nothing (particular in this connection). I, however, heard a hadith from Allah's Messenger (ﷺ) and I did not forget that after I had heard that from Allah's Apostle (ﷺ) and he reported a hadith like the foregoing
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ابو حیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا ، کہا : مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہوگا ، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( تم لوگ یوں سمجھو کہ ) مردان نے کچھ بھی نہیں کہا ( کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that he met the Messenger of Allah (ﷺ) on one of the paths leading to Medina in a state of (sexual) defilement and he slipped away and took a bath. The Apostle of Allah (ﷺ) searched for him and when he came, he said to him:0 Abu Huraira, where were you? He said: Messenger of Allah, you met when I was (sexually) defiled and I did not like to sit in your company before taking a bath. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Hallowed be Allah, verily a believer is never defiled
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے راستوں میں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا ۔ نبیﷺ نے انہیں تلاش کروایا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا ، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن ناپاک ( نجس ) نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ ( یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے ، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) saw people at the end of the mosque, and then the (above-mentioned hadith) was narrated
۔ جریری نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا ... آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔