حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلاَلَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " .
It is narrated on the authority of Jabir that Nu'man b. Qaufal came to the Prophet (ﷺ) and said:Would I enter Paradise if I say the obligatory prayers and deny myself that which is forbidden and treat that as lawful what has been made permissible (by the Shari'ah)? The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative
ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کیا فرماتے ہیں کہ جب میں فرض نماز ادا کروں ، حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں! ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} فَنَزَلَتْ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَحَدَّثَهُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ .
Al-Bara' b. 'Azib reported:I said prayer with the Apostle (ﷺ) turning towards Bait-ul-Maqdis for sixteen months till this verse of Surah Baqara wis revealed:" And wherever you are turn your faces towards it" (ii. 144). This verse was revealed when the Apostle (ﷺ) had said prayer. A person amongst his people passed by the people of Ansar as they were engaged in prayer. He narrated to them (this command of Allah) and they turned their faces towards the Ka'ba
ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرۃ کی آیت : ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے رخ کعبہ کی طرف کرو ۔ ‘ ‘ اتری ۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تھے ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی ( یہ حکم سن ) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، وہ ( مسجد بنی حارثہ میں ، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا ) نماز پڑھ رہے تھے ، اس نے انہیں یہ ( حکم ) بتایا تو انہوں نے ( اثنائے نماز ہی میں ) اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَقَالَ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ وَقَالَ إِنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلاً .
This hadith has been transmitted by Shu'ba with the same chain of narrators and it is narrated from Simt, and the name of Shurahbil has not been mentioned, and he said that he had gone to a place called Dumin, situated at a distance of eighteen miles from Hims
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا : ابن سمط سے روایت ہے اور انھوں نے شرجیل کا نام لیا اور کہا : وہ حمص کی دومین نامی جگہ پر پہنچے جو اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی ( اور وہاں نماز قصر پڑھی ) ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters
عبد الملک بن شعیب بن لیث نے کہا : مجھ سے میرے والد شعیب نے میرے دادالیث سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : مجھ سے عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عمربن عبد العزیز سے انھوں نے عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ سے روایت کی نیز انھوں نے ( ابن شہاب زہری ) نے ابن مسیب سے بھی روا یت کی ان دو نوں ( عمربن عبد العزیز اور سعید بن مسیب ) نے ان ( بن شہاب سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا ۔ ۔ ۔ ( آگے اسی سند حدیث ) کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَبِمُزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " .
A'isha reported:Abu Bakr came to see me and I had two girls with me from among the girls of the Ansar and they were singing what the Ansar recited to one another at the Battle of Bu'ath. They were not, however, singing girls. Upon this Abu Bakr said: What I (the playing of) this wind instrument of Satan in the house of the Messenger of Allah (ﷺ) and this too on 'Id day? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Abu Bakr, every people have a festival and it is our festival (so let them play on)
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو بکر میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں ۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہےتھے ، انھیں گارہی تھیں ۔ کہا : وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( انھیں دیکھ کر ) کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز ( بلند ہورہی ) ہے؟اور یہ عید کے دن ہوا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو بکر!ہر قوم کے لئے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ عَطَاءِ، بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ " . قَالَتْ وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ { فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} " .
Ata' b. Rabah reported on the authority of 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (way peace be upon him), who said:Whenever the wind was stormy, the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: O Allah! I ask Thee for what is good in it, and the good which it contains, and the good of that which it was sent for. I seek refuge with Thee from what is evil in it, what evil it contains, and the evil of that what it was sent for; and when there was a thunder and lightning in the sky, his colour underwent a change, and he went out and in, backwards and forwards; and when the rain came, he felt relieved, and I noticed that (the sign of relief) on his face. 'A'isha asked him (about it) and he said: It may be as the people of 'Ad said: When they saw a cloud formation coming to their valley they said:" It is a cloud which would give us rain" (Qur'an, xlvi)
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روای کی کہ انھوں نے کہا : جب تیز ہوا چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے : " اے اللہ!میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوا ل کرتا ہوں ۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے زریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر ( کا طلبگار ہوں ) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے ا س کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آ پ ( اضطراب کے عالم میں ) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے ، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے ، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ کیفیت ) دورہوجاتی ، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : تومیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ!ہوسکتاہے ( یہ اسی طرح ہو ) جیسے قوم عاد نے ( بادلوں کو دیکھ کر ) کہا تھا : " جب انھوں نے اس ( عذاب ) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انھوں نے کہا : یہ بادل ہے جو ہم پربرسے گا ۔
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلاً يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَى الأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي .
Abu Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters (but with the addition of these words):" It was for a long duration that he (the Holy Prophet) observed qiyam and he would then observe ruku'. (The narrator also added) I (Asma') looked at a woman who was older than I, and at another who was weaker than I
یحیٰ اموی نے کہا : ہم سے ا بن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ( اس میں ) انھوں نے کہا : ( آپ نے ) طویل قیام کیا ، آپ قیام کرتے ، پھر رکو ع میں چلے جاتے ۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو ) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی ( اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَارَةَ، - يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْبَرَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَخَا الأَنْصَارِ كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ " . فَقَالَ صَالِحٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ " . فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلاَ خِفَافٌ وَلاَ قَلاَنِسُ وَلاَ قُمُصٌ نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ .
Abdullah b. 'Umar reported:While we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), a person, one of the Ansar, came to him and greeted him. The Ansari then turned back. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: o brother of Ansar, how is my brother Sa'd be 'Ubada? He said: He is better. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who amongst you would visit him? He (the Holy Prophet) stood up and we also got up along with him, and we were more than ten persons. We had neither shoes with us, nor socks, nor caps, nor shirts. We walked on the barren land till we came to him. The people around him kept away till the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions with him came near him (Sa'd b. 'Ubada)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا ، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے انصار کے بھائی ( انصاری ) !میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا حال ہے ؟ " اس نے عرض کی : وہ اچھا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کون اسکی عیادت کرے گا؟ " پھر آپ اٹھے اور آپ کےساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم دس سے زائد لوگ تھے ، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے ، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی ۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے ، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جو آپ کےساتھ تھے ، ( ان کے ) قریب ہوگئے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
Ibn Umar said that Allah's Messenger (way peace be upon him) prescribed the payment of Zakat-ul-Fitr (on breaking the fast) of Ramadan for people, for every freeman, or slave, male and female among the Muslims-one sa' of dried dates, or one sa' of barley
امام مالک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لو گوں پر رمضان کا صدقہ فطر ( فطرانہ ) کھجور یا جو کا ایک صاع ( فی کس ) مقرر کیا ، وہ ( فرد ) مسلمانوں میں سے آزاد ہو یا غلا م مرد یا عورت ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " . وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَكَسَرَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ . قَالَ عُقْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ " الشَّهْرُ ثَلاَثُونَ " وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days, and Shu'ba (one of the narrators) (gave a practical demonstration how the Holy prophet (ﷺ) explained to them) by unfolding his hands thrice and folding his thumb at the third turn. 'Uqba (one of the narrators in this chain of transmitters) said: I think that he said that the month consists of thirty days and unfolded his palm three times
شعبہ نے ہمیں عقبہ بن حریث سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مہینہ انتیس کاہوتاہے ۔ "" شعبہ نے تین بار دونوں ہاتھوں کو ( دکھا کر ) ایک دوسرے سے جوڑا اور تیسری بار انگوٹھا کم کرلیا ۔ عقبہ نے کہا : میراخیال ہے ( پھر ) انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : "" مہینہ تیس کاہوتا ہے "" اور ( ایک دفعہ ) اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَذُكِرَ لِي - وَلَمْ أَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
Salim reported on the authority of his father ('Abdullah b. 'Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l-Hulaifa; the people of Syria at Juhfa, the people of Najd at Qarn (al-Manazil). Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said: It was mentioned to me but I did not myself bear it (directly) from the Messenger of Allah (ﷺ) having said this: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam
سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطا ب نے اپنے والد سے روایت کی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے تھے : "" اہل مدینہ کا مقام تلبیہ ( وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبيك اللهم لبيك کہنے کا آغاز ہو تا ہے یعنی میقات مراد ہے ) ذوالحلیفہ ہے اہل شام کا مقام تلبیہ مهيعه وہی جحفه ہے اور اہل نجد کا قرن ( المنازل ) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( مجھے بتا نے والے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ۔ ۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ فر ما یا "" اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا . يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ .
Jabir b. 'Abdullah and Salama b. al-Akwa' said:There came to us the proclaimer of Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger (ﷺ) has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women
شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:It was proposed that he (the Holy Prophet) be married to the daughter of Hamza, whereupon he said: She is not lawful for me for she is the daughter of my foster-brother, and that is unlawful by reason of fosterage what is unlawful by reason of genealogy
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے جابر بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( کے ساتھ نکاح کرنے ) کے بارے میں خواہش کا اظہار کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رحم ( ولادت اور نسب ) سے حرام ہوتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ إِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا " . قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَفَاحْتَسَبْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ قَالَ فَمَهْ .
Anas b. Sirin reported that he had heard Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) as saying. I divorced my wife while she was in the state of menses. 'Umar (Allah be pleased with him) came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him about it, whereupon he (Allah's Apostle) said:Command him to take her back and when she is pure, then divorce her. I said to Ibn 'Umar Allah be pleased with them): Did you count that pronouncement of divorce? He said: Why not?
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھی ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے ، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو تب اسے طلاق دے ۔ " میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے کہا : تو ( اور ) کیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رُمْحٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً . فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَيِّنْ " . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:Mention was made of li'an in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). And Asim b. 'Adi passed a remark about it and then turned away, and a man of his tribe came to him complaining that he had found a man with his wife, whereupon 'Asim said: I have been taken by my words. He took him to Allah's Messenger (ﷺ) and told him about the man whom he had found with his wife and this man was a lean, yellow-coloured man with lank hair, and the person who was accused of committing adultery with her (his wife) had fleshy shanks, with wheat complexion and heavy bulk. Allah's Messenger (ﷺ) said: O Allah, make (this case) manifest. And as she gave birth to a child, whose face resembled that person about whom her husband had made mention that he had found her with, and Allah's Messenger (may peace be, upon him) had asked them to invoke curses. A person said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him): Is she (that woman) about whom Allah's Messenger (may peace be upen him) (said):" If I were to stone anybody without evidence, I would have stoned her"? Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) said: No, it is not she. That woman was one who openly spread evil in society
عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر ہوا ۔ عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا پھر وہ چلے گئے ۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ۔ عاصم نے کہا میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے ۔ پھر عاصمؓ اس کو لے کر رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ دبلا سیدھے بالوں والا تھا ۔ او رجس پر دعویٰ کرتا تھا وہ پر گوشت پنڈلیوں والا ، گندم رنگ ، موٹا تھا ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ تو کھول دے ۔ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی ۔ تب جناب رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا دونوں ۔ میں ایک شخص بولا اے ابن عباسؓ! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباسؓ نے کا نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی ( یعنی لوگ کہتے تھے کہ یہ فاحشہ ہے نہ گواہ تھے نہ اقرار تھا ) ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو هِشَامٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا .
A'isha reported that the husband of Barira was a slave
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّلَقِّي لِلرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا وَعَنِ النَّجْشِ وَالتَّصْرِيَةِ وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the (people) meeting the caravan (for entering into business transaction with them), and the selling of goods by a townsman on behalf of a man of the desert, and seeking by a woman the divorce of her sister (from her husband), and outbidding (against one another), and tying up the udders (of animals), and buying of (things) in opposition to one's brother
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں کو آگے جا کر ( ان کے راستوں میں ) ملنے سے ، شہری کو کسی دیہاتی کے لیے بیع کرنے سے ، عورت کو اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرنے سے ، محض بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے ، جانور کے تھنوں میں دودھ روکنے سے ، اور اپنے بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرنے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ . فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ . أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
Anas (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade the sale of the fruit of date-palms until it becomes mellow. We (some of the other narrators in the chain of transmitters) said:What does the word" mellow" mean? He said: (There the fruit) turns red or yellow. Don't you see if Allah had checked (the growth of) fruits; then what for the wealth of your brother would be permissible for you?
اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس کے رنگ بدلنے ( زھو ) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے ، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا ، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ آدَمَ - حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، - وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ كَامِلَةً .
Aba Ishaq reported this hadith on the authority of al-Bara' (Allah be pleased with him) with a slight variation of words, viz. the last sura that was revealed complete
عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق کے حوالے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا : آخری سورت جو مکمل نازل کی گئی ۔ ( تامة کے بجائے كاملة کے الفاظ ہیں)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا . فَقَالَ " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .
Nu'man b. Bashir reported:My father brought me to Allah's Messenger (ﷺ) and said: I have donated this slave to my son. whereupon he said: Have you made (such) donation to every one or your sons? He said: No. Thereupon he (the-Holy Prophet) said: Then take him back
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ( ایسا ) تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that a person said to Allah's Apostle (ﷺ):My father died and left behind property without making any will regarding it. Would he be relieved of the burden of his sins if I give sadaqa on his behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میرے والد فوت ہو گئے ہیں ، انہوں نے مال چھوڑا ہے اور وصیت نہیں کی ، اگر ( یہ مال ) ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے تو کیا ( یہ ) ان کی طرف سے کفارہ بنے گا؟ آپ نے فرمایا : " ہاں
وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ حَافِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ " لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ " .
Uqba b. Amir reported:My sister took a vow that she would walk bare foot to the house of Allah (Ka'ba). She asked me to inquire from Allah's Messenger (ﷺ) about it. I sought his decision and he said: She should walk on foot and ride also
مفضل بن فضالہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبداللہ بن عیاش نے یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوالخیر سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میری بہن نے ننگے پاؤں پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی اور مجھ سے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے فتویٰ لوں ، میں نے آپ سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( بقدر استطاعت ) پیدل چلے اور سوار ہو
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ، نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ " إِنِّي لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
Abu Musa al-Ash'ari reported:We came to Allah's Messenger (ﷺ) requesting him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: There is nothing with me with which I should equip you. By Allah, I would not provide you with (riding camels). Then Allah's Messenger (ﷺ) sent to us three camels with spotted bumps. We said: We came to Allah's Messenger (ﷺ) asking him to equip us with riding animals. He took an oath that he could not equip us. We came to him and informed him. He said: By Allah, I do not take an oath, but when I find the other thing better than that, I do that which is better
جریر نے ہمیں سلیمان تیمی سے خبر دی ، انہوں نے ضرب بن نقیر قیسی سے ، انہوں نے زہدم سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں ، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف سفید کوہان والے تین ( جوڑے ) اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی ، چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ( آپ کی قسم ) کے بارے میں ) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا ، پھر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، - وَهُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ - أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ .
Anas b. Malik reported:There came to Allah's Messenger (ﷺ) eight persons from the tribe of 'Ukl, but with this addition that he did not cauterise (the wounds which hid been inflicted upon them while punishing them)
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ( قبیلہ ) عُکل کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ آگے انہی کی حدیث کی طرح ہے اور انہوں نے حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے : اور آپ نے ( خون روکنے کے لیے ) انہیں داغ نہیں دیا ۔ ( اس طرح وہ جلدی موت کے منہ میں چلے گئے)
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . فَقُطِعَتْ .
Jaibir reported that a woman from the tribe of Makhzum committed theft. She was brought to Allah's Apostle (ﷺ) and she sought refuge (intercession) from Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:By Allah, even if she were Fatima, I would have her hand cut off. And thus her hand was cut off
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر فاطمہ ( بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ) ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ " چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ اكْتُبْ إِلَىَّ بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلاَثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
Sha'bi reported that the scribe of al-Mughira b. Shu'ba said:Mu'awiya wrote to Mughira: Write for me something which you heard from Allah's Messenger (ﷺ) ; and he wrote: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying. Verily Allah disapproves three thingq for you: irrelevant talk, wasting of wealth and persistent questioning
شعبی سے روایت ہے ، کہا : مجھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا : مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ تو انہوں نے ان کو لکھا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے : قیل و قال ، مال کا ضیاع اور کثرتِ سوال
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ " يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلاَ شَىْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ " .
Abu Shuriah al-Khuza'i reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:(The period of the entertainment of a guest is three days, and utmost kindness and courtesy is for a day and a night. =" It is not permissible for a Muslim to stay with, his brother until he makes him sinful. They said: Messenger of Allah, how he would make him sinful? He (the Holy Prophet) said: He stays with him (so long) that nothing is left with him to entertain him
وکیع نے کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سعید بن ابی سعید مقبری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوشریح خزاعی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہمان نوازی تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں ( ہی ) ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے ۔ " صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ آپ نے فرمایا : " وہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میزبانی کر سکے ( تو وہ غلط کام کے ذریعے سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ " .
It has been narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There will be for every perfidious person on the Day of Judgment a flag by which he will be recognised. It will be announced: Here is the breach of faith of so and so
یزید بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، وہ اس کے ذریعے سے پہچانا جائے گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی بدعہدی ( کا نشان ) ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ، بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَمَنْصُورٍ، وَحُمَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
The same tradition has been narrated through a different chain of transmitters
یونس بن عبید ، منصور ، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ . بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلاَءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ وَقَالَ فِي الْكَلْبِ " كُلْهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ إِلاَّ أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ " .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Tha'laba al- Khushani with a slight variation of (words):He (the Holy Prophet) said in regard to the game killed by (a trained) dog: Eat after three days provided it has not gone rotten
محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علاء سے ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے ابو ثعلبہ بن خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی ، پھر ابن حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر اورابو زاہریہ سے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی ، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اورکتے ( کے شکار ) کے بارے میں فرمایا : " تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو ، لیکن اگر اس سے بد بوآئے تو اس کو چھوڑ دو ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ . وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَقَالَ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ قَالَ وَانْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا . أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا .
Anas (b. Malik) reported Allah's Messenger (ﷺ) having said on the day of Nahr (Sacrifice):He who slaughtered (the animal as a sacrifice) before the ('Id) prayer. should repeat it (i. e. offer another animal). Thereupon a person stood up and said: Messenger of Allah, that is the day when meat is much desired, and he also made a mention of the need of his neighbour, and perhaps Allah's Messenger (ﷺ) attested it. He (the person who had sacrificed the animal before the 'Id prayer) said: I have a goat of less than one year of age with me and I like it more than two fleshy goats; should I offer it as a sacrifice? He permitted him to do so. He (the narrator) said: I do not know whether this permission was granted to anyone else besides him or not. Allah's Messenger (ﷺ) then turned towards two rams. and he slaughtered them, and the people' came to the goats and got them distributed amongst themselves (for offering them as sacrifice)
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے ایوب سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فر ما یا : " جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ پھر اسے کرے ۔ " تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہو تی ہے ۔ اس نے اپنے ہمسایوں کی ضرورت مندی کا بھی ذکر کیا ۔ ( ایسا لگا ) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کی ہو ۔ اس نے ( مزید ) کہا : اور میرے پاس ایک سالہ بکری ہے وہ مجھے گو شت والی دوبکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کردوں ؟کہا : آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں کہ آپ کی دی ہو ئی رخصت اس ( شخص ) کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں ؟پھر ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کا رخ کیا اور ان کو ذبحفر ما یا ۔ لوگ کھڑے ہو کر بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اس کو آپس میں تقسیم کرلیا ۔ ۔ ۔ یا کہا : اس کے حصے کر لیے ۔ ۔ ۔ ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي، عُثْمَانَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Wine is prepared from the (fruit) of these two trees-date-palm and vine
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ ابو کثیر نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شراب ان دو درختوں ( کے پھلوں ) سے بنائی جاتی ہے ۔ : کھجور اورانگورسے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
Ibn Umar reported that Umar b. Khattab saw (some one selling) the garments of silk at the door of the mosque, whereupon he said:Allah's Messenger, would that you buy it and wear it for the people on Friday and for (receiving) the delegations when they come to you? Upon this. Allah's Messenger (ﷺ) said: go who wears it has no share (of reward) in the Hereafter. Then these garments were sent to Allah" s Messenger (ﷺ), and he presented one of these silk garment to Umar. Thereupon Umar said: You make me wear (this silk garment) Whereas you said about the silk garment of Utarid (the person who had been busy selling this garment at the door of the mosque) what you had to say, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I have not presented you this for wearing it (but to make use of its price) ; so 'Umar presented it to his polytheist brother in Mecca
مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب ( بازار میں ) ایک ریشمی حُلَہ ( ایک جیسی رشیمی چادروں کا جوڑا بکتے ہو ئے ) دیکھا ۔ انھوں نے کہا : کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خریدلیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے ( خطبہ دینے کے لیے ) اور جب کو ئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرما ئیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو ( دنیا میں ) صرف وہ لو گ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما یا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد ( بن حاجب بن ز رارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے ) کے حلے کے بارے میں جو فرما یا تھا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا ۔ " پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھا ئی کو دے دیا جو مشرک تھا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلاَّهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ " .
Humran, the freed slave of 'Uthman b. 'Affan, reported on the authority of 'Uthman b. 'Affan that he heard Allah's Messenger (ﷺ) say:He who performed ablution for prayer and performed it properly and then went (to observe) obligatory prayer and offered it along with people or with the congregation or in the mosque, Allah would pardon his sins
معاذ بن عبد الرحمن نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی ، پھر فرض نماز کے لیے چل کرگیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "أَحَبُّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. لاَ يَضُرُّكَ بَأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ. وَلاَ تُسَمِّيَنَّ غُلاَمَكَ يَسَارًا وَلاَ رَبَاحًا وَلاَ نَجِيحًا وَلاَ أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلاَ يَكُونُ فَيَقُولُ لاَ." إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلاَ تَزِيدُنَّ عَلَىَّ .
Samura b. Jundub reported:The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said "The dearest phrases to Allah are four: Subhan Allah (Hallowed be Allah), Al-Hamdulillah (Praise be to Allah), La ilaha illa-Allah (There is no deity but Allah), Allahu Akbar (Allah is Greater). There is no harm for you in which of them begin with (while remembering Allah). And do not give these names to your servants: Yasar and Rabah and Najih and Aflah
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو چار کلمے ہیں «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ان میں سے جس کو چاہے پہلے کہے کوئی نقصان نہ ہو گا اور اپنے غلام کا نام یسار، رباح اور نجیح (اس کے وہی معنی ہیں جو افلح کے ہیں) اور افلح نہ رکھو۔ اس لیے کہ تو پوچھے گا وہاں وہ ہے (یعنی یسار یا رباح یا نجیح یا افلح) وہ کہے گا نہیں ہے۔“ سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چار نام فرمائے۔ تو زیادہ مت نقل کرنا مجھ سے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بِالسَّلاَمِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it
عبد العزیز دراوردی نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدانہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو ( تو بجا ئے اس کے وہ یہ کام کرے ) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جا نے پر مجبورکردو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ . وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي . وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي . وَلْيَقُلْ فَتَاىَ فَتَاتِي غُلاَمِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) so many ahadith and one of them is this that Allah's Messenger (ﷺ) said:None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, help your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant
ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ يَرَاهَا أَوْ تُرَى لَهُ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vision of a Muslim which he sees or which is shown to him, and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Mushir (the words are): "The pious dream is the forty-sixth part of Prophecy
علی بن مسہر اور عبدا للہ بن نمیر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کا ( سچا ) خواب خواہ وہ خود دیکھے یا اس کے متعلق ( کو ئی اور ) دیکھے ۔ " اور ابن مسہر کی روایت میں ہے : " اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً وَلاَ تُنْبِتُ كَلأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ " .
Abu Musa reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The similitude of that guidance and knowledge with which Allah, the Exalted and Glorious, has sent me is that of rain falling upon the earth. There is a good piece of land which receives the rainfall (eagerly) and as a result of it there is grown in it herbage and grass abundantly. Then there is a land hard and barren which retains water and the people derive benefit from it and they drink it and make the animals drink. Then there is another land which is barren. Neither water is retained in it, nor is the grass grown in it. And that is the similitude of the first one who develops the understanding of the religion of Allah and it becomes a source of benefit to him with which Allah sent me. (The second one is that) who acquires the knowledge of religion and imparts it to others. (Then the other type is) one who does not pay attention to (the revealed knowledge) and thus does not accept guidance of Allah with which I have been sent
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مثال جو اللہ نے مجھے ہدایت اور علم دیا ، ایسی ہے جیسے زمین پر بارش برسی اور اس ( زمین ) میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور چارا اور بہت سا سبزہ اگایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ کڑا سخت تھا ، اس نے پانی کو جمع رکھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس ( پانی ) سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا کہ انہوں نے اس میں سے پیا ، پلایا اور چرایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ نہ تو پانی کو روکے اور نہ گھاس اگائے ۔ ( جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا ) تو یہ اس کی مثال ہے کہ جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو اس چیز سے فائدہ دیا جو مجھے عطا فرمائی ، اس نے آپ بھی جانا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور جس نے اس طرف سر نہ اٹھایا ( یعنی توجہ نہ کی ) اور اللہ کی ہدایت کو جس کو میں دے کر بھیجا گیا قبول نہ کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِكْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا وَقَالاَ فِي حَدِيثِهِمَا " فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . وَمَا هُمَا ثَمَّ .
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri, and there is a clear mention of the stories of ox and goat (and the words are):I believe in it and so do Abu Bakr and Umar, but they were not at that time present there
سفیان بن عیینہ اور سفیان ( ثوری ) دونوں نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےزہری سے یونس کی روایت کے ہم معنی روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں گا ئے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور دونوں نے اپنی حدیث کے الفا ظ کہے ۔ " میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکراور عمر ( بھی یقین رکھتے ہیں ۔ ) " اور وہ دونوں وہاں نہیں تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ فَقَالَ " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ " .
Nawwas b. Sam'an al-Ansari reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it
ابن مہدی نے ہمیں معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : " نیکی اچھا خلق ہے ، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
This hadith has been narrated through other chains of transmiters with slight variations of wording
عبدالوارث ، ابن علیہ ، جعفر بن سلیمان اور شعبہ سب نے یزید رشک سے اسی سند کے ساتھ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور عبدالوارث کی حدیث میں ( عرض کی گئی کے بجائے ) اس طرح ہے : ( عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Musa through another chain of transmitters
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے ، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ، بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
Ubida b. Samit reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who loves to meet Allah, Allah also loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah also abhors to meet him
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے ، اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْيَهُودَ، كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اصْنَعُوا كُلَّ شَىْءٍ إِلاَّ النِّكَاحَ " . فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا . فَلاَ نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا .
Thabit narrated it from Anas:Among the Jews, when a woman menstruated, they did not dine with her, nor did they live with them in their houses; so the Companions of the Apostle (ﷺ) asked The Apostle (ﷺ), and Allah, the Exalted revealed:" And they ask you about menstruation; say it is a pollution, so keep away from woman during menstruation" to the end (Qur'an, ii. 222). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do everything except intercourse. The Jews heard of that and said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid b. Hudair and Abbad b. Bishr came and said: Messenger of Allah, the Jews say such and such thing. We should not have, therefore, any contactwith them (as the Jews do). The face of the Messenger of Allah (way peace be upon him) underwent such a change that we thought he was angry with them, but when they went out, they happened to receive a gift of milk which was sent to the Messenger of Allah (ﷺ). He (the Holy Prophet) called for them and gave them drink, whereby they knew that he was not angry with them
حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ یہودی ، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نےآیت تاری : ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجیے ، یہ اذیت ( کاوقت ) ہے ، اس لیے محیض ( مقام حیض ) میں عورتوں ( کے ساتھ مجامعت ) سے دور ہو ‘ ‘ آخر تک ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جماع کے سوا سب کچھ کرو ۔ ‘ ‘ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے : یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے ۔ ( یہ سن کر ) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو یکا ہم ان ( عورتوں ) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں نکل گئے ، آگے سے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا ہدیہ آرہا تھا ، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو ( بلواکر ) دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الأُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
Hanzala Taimi Ufayyidi, the scribe of Allah's Messenger (ﷺ), reported:We were in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) and he brought to our minds the problems pertaining to Paradise and Hell-Fire. The rest of the hadith is the same
سفیان نے سعید جریری سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ تمیمی اُسیدی کاتب ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ۔ ۔ ۔ پھر ان دونوں ( جعفر بن سلیمان اور عبدالوارث بن سعید ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوِ الْمَرَارِ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ .
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who would climb this hill of Murar. The rest of the hadith is the same but with this variation that it was a desert Arab who was finding out his lost thing
یحییٰ بن حبیب حارثی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں خالد بن حارث نےحدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون ہےجو مراد مرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا ۔ " ( آگے ) معاذ عنبری کی حدیث کے مانند ، البتہ ( اس حدیث میں ) انھوں نے کہا : اور وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈنے کے لئے اعلان کرنے کے لئے آیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ . بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً . وَفِي حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَمَا أُوتُوا . مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ .
Abdullah reported:I was walking along with Allah's Apostle (ﷺ) in a field of Medina. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ۔ ان دونوں ( وکیع اور عیسیٰ ) نےاعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک ( اجزائے ہوئے ) کھیت میں جارہاتھا ۔ حفص کی حدیث کے مانند مکروکیع کی حدیث میں ہے : "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" "" اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے ۔ "" ( جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قرآءت ہے ۔ اور عیسیٰ بن یو نس کی اس روایت میں جوان سے ( علی ) بن خشرم نے بیان کی ہے وما اوتوا "" انھیں نہیں دیا گیا "" کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمِ النِّسَاءُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ " .
Muhammad reported that some (persons) stated with a sense of pride and some discussed whether there would be more men in Paradise or more women. It was upon this that Abu Huraira reported that Abu'l Qasim (the Holy Prophet) (ﷺ) said:The (members) of the first group to get into Paradise would have their faces as bright as full moon during the night, and the next to this group would have their faces as bright as the shining stars in the sky, and every person would have two wives and the marrow of their shanks would glimmer beneath the flesh and there would be none without a wife in Paradise
اسماعیل بن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے خبر دی کہ ( حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے ) باہمی اظہار ، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے ( اس موضوع پر ) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا : " پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سےزیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہوگی ۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی ( ایسے شفاف اور منور جسم والیں کہ ) ان کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا ۔ ( پوری ) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہوگا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، الشَّحَّامُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ، إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ أَلاَ ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلاَ فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلاَ غَنَمٌ وَلاَ أَرْضٌ قَالَ " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لْيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي قَالَ " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: 'Allah's Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allah's Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell
حمادبن زید نے کہا : ہمیں عثمان الشحام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے ، وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا : کیا آپ نے اپنےوالد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟انھوں نے کہا : ہاں ، میں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " عنقریب فتنے برپا ہوں گے سن لو!پھر ( اور ) فتنے برپا ہوں گے ، ان ( کےدوران ) میں بیٹھا رہنے و الا چلے والے سے بہتر ہوگا ، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگایاد رکھو!جب وہ نازل ہوگا یا واقع ہوں گے تو جس کے ( پاس ) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے ، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلاجائے اور جس کی زمین وہ زمین میں چلاجائے ۔ " ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو ایک شخص نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس کےبارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس یہ اونٹ ہوں ، نہ بکریاں ، نہ زمین؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنی تلوار لے ، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے ( کندکردے ) اورپھر اگر بچ سکےتو بچ نکلے!اے اللہ!کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا ۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ۔ کہا : تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر مجھے مجبور کردیا جائے اور لے جاکر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کردیاجائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنادے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اگر تم نے وار نہ کیا ہوا ) تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالَ عَبَّاسٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا - أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ فَقَالَ اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ " .
It is reported on the authority of Amir b. Sa'd that Sa'd b. Abi Waqqas was in the fold of his camels that his son 'Umar came to him. When Sa'd saw him he said:I seek refuge with Allah from the mischief of this rider. And as he got down he said to him: You are busy with your camels and your sheep and you have abandoned people who are contending with one another for kingdom. Sa'd struck his chest and said: Keep quite. I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah loves the servant who is God-conscious and is free from want and is hidden (from the view of people)
بکیر بن مسمار نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کےبیٹےعمر ( بن سعد ) ان کے پاس آئے جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا : میں اس سوار کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وہ اترے اور ان ( حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا : آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑرہے ہیں ( آپ کبھی اپناحصہ مانگیں ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا : خاموش رہو!میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے ، " اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو ، غنی ہو ، گم نام ( گوشہ نشیں ) ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} قَالَتْ نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ لاَ يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ لَهُ أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي .
A'isha said in connection with these words of Allah, the Exalted and Glorious:" And if a woman has reason to fear ill-treatment from her husband or that he might turn away from her" that it was revealed in case of a woman who lived with a person and perhaps he does not want to prolong (his relationship with her) whereas she has had sexual relationship with him (and as a result thereof) she got a child from him and she does not like that she should be divorced, so she says to him: I permit you to live with the other wife
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " اگر کوئی عورت اپنے خاوندکی طرف سے بے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرنے کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ ( آیت ) اس عورت کے متعلق نازل ہو ئی جو ( مدت سے ) کسی مرد کے ہاں ہو ۔ ( اسے اندیشہ ہو ) کہ شاید اب وہ اس سے ( اپنے تعلق کو ) زیادہ نہ کرے گا ۔ اور اس عورت ) کو اس کا ساتھ میسرہو اور اولاد ہو اور یہ نہ چاہے کہ وہ ( مرد ) سے چھوڑدے تو اس سے کہہ دے کہ تم میرے معاملے میں ( حقوق زوجیت سے ) بری الذمہ ہو ۔