بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
14 hadith
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ ‏{‏ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ‏}‏ حَتَّى قَرَأَ ‏{‏ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ‏}‏ قَالَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا وَلاَ أَدْرِي مَا قَالَ ‏.‏
Qutba b. Malik reported:I said prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) led it and he recited" Qaf. (I.). By the Glorious Qur'an," till he recited" and the tall palm trees" (l. 10). I wanted to repeat it but I could not follow its significance
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ نے مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی ، آپ ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھی حتی کہ آپ نے ﴿والنخل باسقت﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار ( ذہن میں ) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس ( کے مفہوم ) کا پتہ نہ چلا ۔
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ ثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ تَكْبِيرَةً ‏"‏ ‏.‏
Ka'b b. 'Ujra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There are certain ejaculations, the repeaters of which or the performers of which after every prescribed prayer will never be caused disappointment:" Glory be to Allah" thirty-three times." Praise be to Allah" thirty-three times, and" Allah is most Great" thirty-four times
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا ، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ ( نماز کے یا ) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہرفرض نماز کے بعد انھیں کہنے والا ۔ ۔ یا ان کو ادا کرنے والا ۔ کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا ، تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اورچونتیس با ر اللہ اکبر ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Witr is a rak'ah at the end of the prayer
ابو تیاح نے کہا : مجھے ابو مجلز نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ وَفِي ثَوْبِ بِلاَلٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Jirana on his way back from Hunain, and there was in the clothes of Bilal some silver. The Messenger of Allah (ﷺ) took a handful out of that and bestowed it upon the people. He (the person who had met the Prophet at Ji'rana) said to him:Muhammad, do justice. He (the Holy Prophet) said: Woe be upon thee, who would do justice if I do not do justice, and you would be very unfortunate and a loser if I do not do justice. Upon this Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) said: Permit me to kill this hypocrite. Upon this he (the Holy Prophet) said: May there be protection of Allah! People would say that I kill my companions. This man and his companions would recite the Qur'an but it would not go beyond their throat, and they swerve from it just as the arrow goes through the prey
لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کے لوگوں کو دے رہے تھے ۔ تو اس نے کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عدل کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تیرے لئے ویل ( ہلاکت یاجہنم ) ہو!اگر میں عدل نہیں کررہا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کررہا تو میں ناکام ہوگیا اور خسارے میں پڑ گیا ۔ " اس پر حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں اس بات سے ) اللہ کی پناہ ( مانگتا ہوں ) !کہ لوگ ایسی باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں ۔ یہ شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا ، ( یہ لوگ ) اس طرح اس ( دین اسلام ) سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ( آگے ) نکل جاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، بْنُ طَهْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَنَادَيَا ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibrahim b. Tahman with the same chain of transmitters but with this variation that he said:Both of them made the announcement
عبد بن حمید ، ابو عامر ، عبدالملک بن عمرو ، ابراہیم بن طہمان اس سند کے ساتھ بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں جا کر اعلان کردو ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abdullah b. Umar who narrates from the Prophet of Allah (ﷺ) who said:He who took up arms against us is not of us
عبید ا للہ اور امام مالک نےنافع سے اور انہو ں نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، - رضى الله عنه - قَالَ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ‏.‏
Imran b. al-Husain (Allah be pleased with him) said:Know well that Allah's Messenger (ﷺ) combined 'Hajj and 'Umra, and nothing was revealed in the Book (to abrogate it), and the Messenger of Allah (ﷺ) too did not forbid us from (combining) them. And whatever a person said was out of his personal opinion
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے انھوں نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : جا ن لو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کیا تھا ۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب ( میں کو ئی بات ) نازل ہو ئی ۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا : پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَيَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ وَقَالَ ‏ "‏ فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ‏"‏ ‏.‏ خِلاَفَ رِوَايَةِ يَحْيَى ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording
قتیبہ بن سعید نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے ، انہوں نے اور یعقوب بن عبدالرحمٰن دونوں نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ( بعجہ کا مکمل نام لیتے ہوئے ) بعجہ بن عبداللہ بن بدر کہا ۔ اور یحییٰ کی روایت کے برعکس ( ان وادیوں میں سے ایک وادی کے بجائے ) " ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں " کہا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارًا، لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ فَقَالَ ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ فَعَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فِي الثَّالِثَةِ ‏.‏ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ ‏.‏
Anas reported that:Allah's Messenger (ﷺ) had a Persian neighbour who made excellent soup. He prepared some for Allah's Messenger (ﷺ) and then came to him to invite him to eat. He (Allah's Messenger) said, "and her too," referring to `Aisha. The man said "No," so Allah's Messenger (ﷺ) then said "No." He returned later to invite him again, so Allah's Messenger (ﷺ) said "and her too." The man said "No," so Allah's Messenger (ﷺ) then said "No." He returned another time to invite him and Allah's Messenger (ﷺ) said, "and her too." The man said yes on this third occasion, and they then stood eagerly to go out together to the man's home
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا تیار کیا ، پھرآکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : " ان کو بھی دعوت ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ( مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں ) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نہیں ۔ " وہ پھر دعوت دینے کے لئے آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " توتیسری بار اس نے کہا : ہاں ۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. 'Auf said that he heard Mu'awiya b. Abi Sufyin during the season of Hajj, (saying) as he sat upon the pulpit holding a bunch of hair in his hand which was (previously) in the hand of his sentinel:O people of Medina, where are your scholars? I heard Allah's Messenger (ﷺ) forbidding this and saying: That the people of Bani Isra'il were ruined at the time when their women wore such hair
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی ، انھوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، جس سال انھوں نے حج کیا ، سنا ، وہ منبر پر تھے ، انھوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی ( جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں ) اور کہہ رہے تھے : مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ ان ( لٹوں وغیرہ ) سے منع فرماتے تھے اورفرمارہے تھے : " جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنا نا شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے ۔ " ( جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش وتنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ ‏{‏ وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا‏}‏ ‏.‏ فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported:We were with Allah's Messenger (ﷺ) in a cave when there was revealed to him (the Sura al-Mursalat, i. e. Sura lxxvii.:" By those sent forth to spread goodness" ) and we had just heard (it) from his lips that there appeared before us a snake. He said: Kill it. We hastened to kill it, but it slipped away from us, thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah saved it from your harm just as he saved you from its evil
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( سورۃ ) ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾نازل ہو ئی ، ہم اس سورت کو تازہ بہ تازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کر ( سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس کو مار دو ۔ " ہم اس کو مارنے کے لیے جھپٹےتو وہ ہم سے آگے بھا گ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعالیٰ نے اس کو تمھا رے ( ہاتھوں ) نقصان پہنچنےسے بچا لیا جس طرح تمھیں اس کے نقصان سے بچا لیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجَ شِيصًا فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِنَخْلِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا قُلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ ‏"‏ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by the people who had been busy in grafting the trees. Thereupon he said:If you were not to do it, it might be good for you. (So they abandoned this practice) and there was a decline in the yield. He (the Holy Prophet) happened to pass by them (and said): What has gone wrong with your trees? They said: You said so and so. Thereupon he said: You have better knowledge (of a technical skill) in the affairs of the world
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ۔ اور حماد ہی نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے ، آپ نے فر ما یا : " اگر تم یہ نہ کروتو ( بھی ) ٹھیک رہے گا ۔ " کہا : اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجور یں پیدا ہو ئیں ، پھرکچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فر ما یا : " تمھا ری کھجوریں کیسی رہیں ؟ " انھوں نے کہا : آپ نے اس اس طرح فر ما یا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اپنی دنیا کے معاملا ت کو زیادہ جاننے والے ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، ‏.‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ الْمَلاَئِكَةِ وَبُكَاءُ الْبَاكِيَةِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but with this difference that there is no mention of the Angels and the weeping of a female mourner
ابن جریج اور معمر دونوں نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، مگر ابن جریج کی حدیث میں فرشتوں اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم أَوْصَانِي ‏ "‏ إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَكْثِرْ مَاءَهُ ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported Allah's Messenger (ﷺ) commanded me thus:Whenever you prepare a broth, add water to it, and have in your mind the members of the household of your neighbours and then give them out of this with courtesy
شعبہ نے ابو عمران جونی سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی : " جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے ہمسایوں میں سے کسی ( ضرورت مند ) گھرانے کو دیکھو اور اس میں سے کچھ اچھے طریقے سے ان کو بھجوا دو ۔