وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ .
Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the noon prayer:" Glorify the name of thy Most High Lord in the morning prayer longer than this" (lxxxvii)
ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ " . فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " . فَقَالَ رَجُلٌ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا . فَقَالَ " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَىْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " .
Anas reported:A man came panting and entered the row of worshippers and said: Praise be to Allah, much praised and blessed. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished the prayer he said: Who amongst you uttered these words? The people remained silent. He (the Prophet again said) -: Who amongst you uttered these words? He said nothing wrong. Then a man said: I came and had a difficulty in breathing, so I uttered them. He replied: I saw twelve angels facing one another as to who will take them up (to Allah)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی ، اس نے کہا : الحمد اللہ حمد کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ‘ پاک اور برکت والی حمد ۔ ‘ ‘ جب رسو ل اللہ ﷺ نےنماز پوری کرلی تو آپ نے پوچھا ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا ؟ ‘ ‘ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے ۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ’’تم میں یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی ۔ ‘ ‘ تب ایک شخص نے کہا : میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو ( اس میں ) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " . فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ مَا مَثْنَى مَثْنَى قَالَ أَنْ يُسَلِّمَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The night prayer consists of pairs and when you see the approach of dawn, make this number odd by one rak'ah. It was said to Ibn 'Umar: What does the (word) pair imply? He said: (It means) that salutation is uttered after every two rak'ahs
عقبہ بن حریث نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات کی نماز دو رکعت ہے اور جب تم دیکھو کہ صبح آیا چاہتی ہے تو ایک رکعت سے ( اپنی نماز کو ) وتر کرو ۔ " ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی : مثنیٰ ، مثنیٰ ، کا کیا مفہوم ہے؟انھوں نے کہا : یہ کہ تم ہر دو رکعتوں ( کے آخر ) میں سلام پھیرو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلاَهُ عَنِ الْحَرُورِيَّةِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُهَا قَالَ لاَ أَدْرِي مَنِ الْحَرُورِيَّةُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ - وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا - قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ فَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ . لاَ يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ - أَوْ حَنَاجِرَهُمْ - يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَى سَهْمِهِ إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رِصَافِهِ فَيَتَمَارَى فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَىْءٌ " .
Abu Salama and 'Ata' b. Yasar came to Abu Sa'id al-Khudri and asked him about Haruriya, saying:Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) making a mention of them? He (Abu Sai'd al-Khudri) said: I don't know who the Haruriya are, but I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There would arise in this nation (and he did not say" out of them" ) a people and you would hold insignificant your prayers as compared with their prayers. And they would recite the Qur'an which would not go beyond their throats and would swerve through the religion (as blank) just as a (swift) arrow passes through the prey. The archer looks at his arrow, at its iron head and glances at its end (which he held) in the tip of his fingers to see whether it had any stain of blood
محمد بن ابراہیم نے ابو سلمہ اورعطاء بن یسار سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے حروریہ کے بارے میں دریافت کیا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سناتھا؟انھوں نے کہا : حروریہ کوتو میں نہیں جانتا ، البتہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے یہ سنا ہے؛ " اس امت میں ایک قوم نکلے گی ۔ آپ نے " اس امت میں سے " نہیں کہا ۔ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں سے ہیچ سمجھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق ۔ ۔ ۔ یا ان کے گلے ۔ ۔ ۔ سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ اس طرح دین سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کیے ہوئے جانور سے نکل جاتا ہے اور تیر انداز اپنے تیر کی لکڑی کو ، اس کے پھل کو ، اسکی تانت کو دیکھتا ہے اور اس کے پچھلے حصے ( سوفار یا چٹکی ) کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتا ہے کے کہا اس کے ساتھ ( شکار کے ) خون میں کچھ لگا ہے ۔ " ( تیر تیزی سے نکل جائے تو اس پر خون وغیرہ زیادہ نہیں لگتا ۔ اسی طرح تیزی کے ساتھ دین سے نکلنے والے پردین کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا ۔)
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ، الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
Salama b. Akwa' reported:We, during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), in one month of Ramadan (observed fast according to our liking). He who wished to fast lasted and he who wished to break broke it and fed a needy person as an expiation 1544 till this verse was revealed:" He who witnesses among you the month (of Ramadan) he should observe fast during it" (ii)
عمرو بن سواد عامری ، عبداللہ بن وہب ، عمروبن حارث بکیر بن اشجع ، یزید مولی سلمۃ بن اکوع ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رمضان کےمہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کو فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَفَلْيَصُمْهُ ) تو جو تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہوتو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ " وَشَقَّ وَدَعَا " .
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of narrators and the transmitters said:He tore and called
جریر او رعیسیٰ نے اعمش سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا : ’’ اور گریبان چاک کیا اور پکارا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، - رضى الله عنهم - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
Hafsa (Allah be pleased with her), the wife of Allah's Apostle (ﷺ), said:Messenger of Allah. what about people who have put off Ihram whereas you have not put it off after your 'Umra? He said: I have stuck my hair and have driven my sacrificial animal, and would not, therefore, put off Ihram until I have sacrificed the animal
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انھوں نے ( عمرے کے بعد ) احرا م کھول دیا ہے ۔ اور آپ نے اپنے عمرے ( آتے ہی طواف وسعی جو عمرے کے منسک کے برابر ہے ) کے بعد احرا م نہیں کھولا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند یا خطمی بوٹی سے ) چپکالیا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈا ل دیے ۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م نہیں کھول سکتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الآخَرَ " . قِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:No two such persons shall be together in Hell as if one of them is such that his presence hurts the other. It was asked: Messenger of Allah, who are they? He said: A believer who killed a disbeliever and (then) kept to the right path
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو شخص جہنم میں اس طرح اکٹھے نہیں ہوں گے کہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کو نقصان پہنچا سکے ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ فرمایا : " وہ مومن جس نے ( جہاد کرتے ہوئے ) کسی کافر کو قتل کیا ، پھر دین پر مضبوطی سے جما رہا ۔
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ - قَالَ - فَعَادَ كَمَا كَانَ فَقَالَ " دُونَكُمْ هَذَا " .
Anas b Malik reported:Abu Talha sent me to Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same, but 'there is a slight variation of wording that he said at the end (The Holy Prophet) took what was left (of the food) and collected it and then invoked blessings upon it and it returned to its original state. He (the Holy Prophet) then said Take this
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے اس کے آخر میں یوں کہا : جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں بر کت کی دعا کی کہا : تو وہ ( پھر سے ) اتنا ہی ہو گیا : جتنا تھا پھر فرما یا : " تمھارے لیے ہے ۔ " ( آپ نے کھا نے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ " .
Asma' reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I have a co-wife. Is there any harm for me if I give her the false impression (of getting something from my husband which he has not in fact given me)? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The one who creates such a (false impression) of receiving what one has not been given is like one who wears the garment of falsehood
عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے فاطمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا : میری ایک سوکن ہے ، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں خود کو ا پنے خاوند کے ایسے مال سے سیر ہوجانے والی ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو نہیں دیا گیا اس ( مال یاکھانے ) سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلاَثًا فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Messenger having said:There is a group of jinns in Medina who accepted Islam, so he who would see anything from these occupants should warn him three times; and if he appears after that, he should kill him for he is a satan
ابن عجلا ن نے کہا : مجھے صیفی نے ابو سائب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا ؛ میں نے ان ( حضرت ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مدینہ میں جنوں کی کچھ نفری رہتی ہے جو مسلمان ہو گئے ہیں جو شخص ان ( پرانے ) رہائشیوں میں سے کسی کو دیکھتے تو تین دن تک اسے ( جا نےکو ) کہتا رہے ۔ اس کے بعد اگر وہ اس کے سامنے نمودار ہو تو اسے قتل کر دے ، کیونکہ وہ شیطان ( ایمان نہ لا نے والا جن ) ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ " يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ " . وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ " مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ " .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are):" The newborn child is touched by the satan (when he comes in the world) and he starts crying because of the touch of satan." In the hadith transmitted on the authority of Shu'aib there is a slight variation of wording
معمر اور شعیب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی ، دونوں نے کہا : " ( بچہ ) جب پیدا ہو تا ہے تو ( شیطان ) اسے کچوکا لگا تا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگا نے سے چیخ کر روتا ہے ۔ " اور شعیب کی حدیث میں ( خود کو ، کے بغیر صرف ) " شیطان کے کچوکا سے " کے الفا ظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي . فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ . فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ . فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ - يَعْنِي اللَّيْلَ - فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قُرَيْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلاَ يَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَمْسَى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَى لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ . فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي . فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي " . فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ . فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ . فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ .
Ibn `Abbas reported that when Abu Dharr heard of the advent of the Apostle (ﷺ) in Mecca he said:Brother, ride in this valley and bring information for me about the person who claims that there comes to him information from the Heavens. Listen to his words and then come to me. So he rode on until he came to Mecca and he heard his words (the sacred words of the Holy Prophet) and then came back to Abu Dharr and said: I have seen him exhorting (people) to develop good morals and his expressions can in no way be termed as poetry. He (Abu Dharr) said: I have not been satisfied with it regarding that which I had in my mind (as I sent you). So he took up provisions for the journey and a small water-skin containing water (and set forth) until he came to Mecca. He came to the mosque (Ka`bah) and began to look for Allah's Apostle (ﷺ) and he did not recognize him (the Holy Prophet) and he did not even like that he should ask about him from anyone until it was night, and he slept. `Ali saw him and found him to be a stranger. So he went with him. He followed him but one did not make any inquiry from the other about anything until it was morning. He then brought the water and his provisions to the mosque and spent a day there, but he did not see Allah's Apostle (ﷺ) until it was night. He then returned to his bed, and there happened to pass `Ali and he said: This man has not been able to find his destination until this time. He made him stand and he went with him and no one made an inquiry from his companion about anything. And when it was the third day he did the same. `Ali made him stand up and brought him along with him. He said: By Him, besides Whom there is no god, why don't you tell me (the reason) which brought you here to this town? He said: (I shall do this) provided you hold me promise and a covenant that you would guide me aright. He then did that. He (`Ali) said: Verily, he is truthful and he is a Messenger of Allah (ﷺ) and when it is morning, follow me and if I would say anything from which I would sense fear about you I would stand (in a manner) as if I was throwing water and if I move on, you then follow me until I get in (some house). He did that and I followed him until he came to Allah's Messenger (ﷺ). He entered (the house) of Allah's Apostle (ﷺ) along with him and listened to his words and embraced Islam at this very place. Allah's Apostle (ﷺ) said to him: Go to your people and inform them until my command reaches you. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, I shall say to the people of Mecca this thing at the top of my voice. So he set forth until he came to the mosque and then spoke at the top of his voice (saying): I bear testimony to the fact that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. The people attacked him and made him fall down when al-`Abbas came and he leaned over him and said: Woe be upon you, don't you know that he is from amongst the tribe of Ghifar and your trading route to Syria passes through (the settlements of this tribe), and he rescued him. He (Abu Dharr) did the same on the next day and they (the Meccans) again attacked him and al-`Abbas leaned upon him and he rescued him
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام میں داخل ہوئے ۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا ، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور وہ لیٹ رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا ۔ پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے گئے ۔ وہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس شخص کو اپنا ٹھکانہ معلوم ہو ۔ پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کو ساتھ لے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی ۔ پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ، پھر کہا کہ تم مجھ سے وہ بات کیوں نہیں کہتے جس کے لئے تم اس شہر میں آئے ہو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہد اور وعدہ کرتے ہو کہ راہ بتلاؤ گے تو میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تو انہوں نے بتایا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ شخص سچے ہیں اور وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا ، اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ( یعنی پیشاب کا بہانہ کروں گا ) اور اگر چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا ۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس آنا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میرا حکم تجھے پہنچے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تو یہ بات ( یعنی دین قبول کرنے کی ) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں آئے اور چلا کر بولے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“ ۔ لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا کہ تمہای خرابی ہو ، تم نہیں جانتے کہ یہ شخص ( قوم ) غفار کا ہے اور تمہارا سوداگری کا راستہ شام کی طرف ( قوم ) غفار کے ملک پر سے ہے ( تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے ) ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن پھر ویسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں چھڑا لیا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ " . وَضَمَّ أَصَابِعَهُ .
Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He, who brought up two girls properly till they grew up, he and I would come (together) (very closely) on the Day of Resurrection, and he interlaced his fingers (for explaining the point of nearness between him and that person)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔