بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
12 hadith
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاَةً وَلاَ أَتَمَّ صَلاَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Anas reported:I never prayed behind an Imam who was more brief and more perfect in prayer than the Messenger of Allah (ﷺ)
شریک بن عبد اللہ ابی نمر نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ مکمل نماز پڑھانے والا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَفِئِ الْفَىْءُ بَعْدُ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ ‏.‏
A'isha reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said the afternoon" prayer as the sun shone in my apartment, and the afternoon shadow did not extend further. Abu Bakr said: The afternoon shadow did not appear to extend further
ابوبکر بن ابی شبیہ اور عمرو ناقد نے حدیث سنائی ، عمرو نے کہا : سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج میرےحجرے میں چمک رہا ہوتا تھا ، ابھی ( صحن کے مشرق حصے میں ) سایہ نہ پھیلاہوتا تھا ۔ ابو بکر نے ( معنی کے وضاحت کرتے ہوئے ) کہا : ابھی ( مشرق کی طرف ) سایہ ظاہر نہ ہوا ہوتا تھا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظِّمْ لِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعَرِي وَبَشَرِي وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ ‏.‏
Ibn `Abbas reported:I spent a night with my maternal aunt (sister of my mother) Maimuna. The Apostle of Allah (ﷺ) got up during the night and relieved himself, then washed his face and hands and went to sleep. He then got up again, and came to the water skin and loosened its straps, then performed good ablution between the two extremes. He then stood up and observed prayer. I also stood up and stretched my body fearing that he might be under the impression that I was there to find out (what he did at night). So I also performed ablution and stood up to pray, but I stood on his left. He took hold of my hand and made me go around to his right side. The Messenger of Allah (ﷺ) completed thirteen rak`ahs of his night prayer. He then lay down and slept and snored (and it was his habit to snore while asleep). Then Bilal came and he informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then stood up for prayer and did not perform ablution, and his supplication included these words: "O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right hand, light on my left hand, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and enhance light for me." Kuraib (the narrator) said: There are seven (words more) which are in my heart (but I cannot recall them) and I met some of the descendants of Al-`Abbas and they narrated these words to me and mentioned in them: (Light) in my sinew, in my flesh, in my blood, in my hair, in my skin, and made a mention of two more things
سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت ( کی جگہ ) آئے ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا ، پھر دو ( طرح کے ) وضو ( بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو ) کے درمیان کا وضو کیا اور ( پانی ) زیادہ ( استعمال ) نہیں کیا اور ( وضو ) اچھی طرح کیا ، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی ، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ( کے حالات جاننے ) کی خاطر جاگ رہا تھا ، پھر میں نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ تو میں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب ( کھڑا ) کرلیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی ، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی ۔ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی ، آپ نے نماز پڑھی ( سنت فجر ادا کیں ) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا : "" اےللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھردے اورمیری دائیں طرف نور کردے اور میری بائیں طرف نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے لئے نور کو عظیم کردے ۔ "" ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) کریب نے بتایا کہ ( ان کے علاوہ مزید ) سات ( چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن ) کا تعلق جسم کے صندوق ( پسلیوں اور اردگرد کے حصے ) سے ہے ، میر ی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انھوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ، انھوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں ، میرے گوشت ، میرےخون ، میرے بالوں اور میری کھال ( کو نور کردے ) ، دو اور بھی چیزیں بتائیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأَكَلْتُهَا ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) found a date lying on the path and said:If it were not out of Sadaqa, I would have eaten it
زائد ہ نے منصور اور انھوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی انھوں نے کہا حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں ( پڑی ہو ئی ) ایک کھجور کے قریب سے گزرے تو فر ما یا : " اگر یہ ( امکا ن ) نہ ہو تا کہ یہ صدقے سے ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، - وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ - عَنْ سُلَيْمَانَ، بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏
Sahl b. Sa'd (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:In Paradise there is a gate which is called Rayyan through which only the people who fast would enter on the Day on Resurrection. None else would enter along with them. It would be proclaimed: Where are the people who fast that they should be admitted into it? And when the last of them would enter, it would be closed and no one would enter it
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جنت میں ایک ( ایسا ) دروازہ ہے جسے " الریان " کہا جا تا ہے قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ ان کے سوا کو ئی اور داخل نہیں ہوں گے ۔ جب ان میں سے آخری ( فرد ) داخل ہو جا ئے گا ۔ تو وہ ( دروازہ بند کر دیا جا ئے گا ، اس کے بعدکوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلاَّ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this variation (of words):" Talha and another person also were among those who had not brought the sacrificial animals with them and so they put off Ihram
محمد ، یعنی ابن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ انھوں نے کہا : جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے ، لہذا ان دونوں نے ( عمرے کے بعد ) احرام کھول دیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا فُلاَنٌ شَهِيدٌ فُلاَنٌ شَهِيدٌ حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا فُلاَنٌ شَهِيدٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ ‏"‏ أَلاَ إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'Umar b. Khattab that when it was the day of Khaibar a party of Companions of the Apostle (ﷺ) came there and said:So and so is a martyr, till they happened to pass by a man and said: So and so is a martyr. Upon this the Messenger of Allah remarked: Nay, not so verily I have seen him in the Fire for the garment or cloak that he had stolen from the booty, Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Umar son of Khattab, go and announce to the people that none but the believers shall enter Paradise. He ('Umar b. Khattab) narrated: I went out and proclaimed: Verily none but the believers would enter Paradise
حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی ، کہا : خیبر ( کی جنگ ) کا دن تھا ، نبی ﷺ کے کچھ صحابہ آئے اور کہنے لگے : فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے ، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے : وہ شہید ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہرگز نہیں ، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عبا ( چوری کرنے ) کی نبا پر آگ میں دیکھا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے خطاب کے بیتے ! جاکر لوگوں میں ا علان کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں باہر نکلا اور ( لوگوں میں ) اعلان کیا : متنبہ رہو! جنت میں مومنوں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
It has been narrated (through yet another chain of transmitters) on the same authority, i. e. Abu Musa, who said:We, came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, one of us hho fights to display his valour... (followed by the same words as we have in the previous tradition)
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی شخص اظہار شجاعت کے لیے لڑتا ہے ۔ پھر اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو، بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Sa'id b. Zaid b. 'Amr b. Nufail reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: Truffles are a kind of 'Manna' and their juice is a medicine for the eyes
جریر اور عمر بن عبید نے عبدالملک بن عمیر سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا " کھمبی من ( وہ کھانا جو سلویٰ کے ساتھ بنی اسرا ئیل کے لیے آسمان کی جانب سے اتراتھا ) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، التَّيْمِيِّ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عِيسَى ‏"‏ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ‏"‏ ‏.‏
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I happened to pass by Moses as he was busy in saying prayer in his grave, and in the hadith transmitted on the authority of 'Isa there is an addition of these words:, I happened to pass on the occasion of the Night journey
عیسیٰ بن یونس جریر اور سفیان نے سلیمان تیمی سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ " اور عیسیٰ کی حدیث میں مزید یہ ہے : " جس رات مجھے اسراء پر لے جا یا گیا میں ( موسیٰ علیہ السلام کے قریب سے ) گزرا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ‏.‏
Abd al-Rahman reported that he heard Hassin b. Thabit al-Ansari call Abu Huraira to bear witness by saying:I adjure you by Allah if you had not heard Allah's Apostle (ﷺ) saying: Hassin, give a reply on behalf of the Messenger of Allah. O Allah, help him with Ruh-ul-Qudus. Abu Huraira said: Yes, it is so
زہری نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انھوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گواہی طلب کررہے تھے ، ( کہہ رہے تھے : ) میں تمھارے سامنے اللہ کا نام لیتا ہوں! کیاتم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناتھا ۔ " حسان!اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو ۔ اےاللہ!روح القدس کے ذریعے سے اس کی تائید فرما! " ؟ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ ‏ "‏ تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:It was said to Allah's Messenger (ﷺ): What is your opinion about the person who has done good deeds and the people praise him? He said: It is glad tidings for a believer (which he has received in this mortal world)
حماد بن زید نے ابوعمران جونی سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے ۔