بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
11 hadith
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلاَةً مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَامٍ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَقَارِبَةً وَكَانَتْ صَلاَةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَدَّ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ‏.‏ ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ‏.‏
Thabit reported it on the authority of Anas:I have never said such a light and perfect prayer as I said behind the Messenger of Allah (ﷺ). The prayer of the Messenger. of Allah (ﷺ) was well balanced. And so too was the prayer of Abu Bakr well balanced. When it was the time of 'Umar b. al-Khattab he prolonged the morning prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah listened to him who praised Him, he stood erect till we said: He has forgotten. He then prostrated and sat between two prostration till we said: He has forgotten
۔ بہز بن حماد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے کسی کے پیچھے نبی اکرمﷺ سے زیادہ ہلکی نماز نہیں پڑھی جو کامل ہو ۔ رسول اللہﷺ کی نماز ( میں ارکان کی طوالت ) قریب قریب تھی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی تھی ۔ جب عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( امیر مقرر ) ہوئے تو انہوں نے نماز فجر ( میں قراءت ) لمبی کر دی ۔ اور رسول اللہﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ ( شاید سر اٹھانا ) بھول گئے ہیں ، پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھے رہتے حتیٰ کہ ہم سمجھتے ( کہ شاید ) آپ بھول گئے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ، - وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ ‏ "‏ وَقْتُ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the times of prayers. He said: The time for the morning prayer (lasts) as long as the first visible part of the rising sun does not appear and the time of the noon prayer is when the sun declines from the zenith and there is not a time for the afternoon prayer and the time for the afternoon prayer is so long as the sun does not become pale and its first visible part does not set, and the time for the evening prayer is that when the sun disappears and (it lasts) till the twilight is no more and the time for the night prayer is up to the midnight
حجاج نے جو حجاج اسلمی کے بیٹے ہیں ، قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوںکے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہےجب تک سورج کا پہلا کنارہ نہ نکلے ، اور ظہر کا وقت ہے جب سورج آسمان کی درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل جائے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو جائے اور عصر کی نماز کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور اس کا ( غروب ہونے والا ) پہلا کنارہ ڈوبنے لگے ، اور مغرب کی نماز کا وقت تب ہے جب سورج غروب ہو جائےجو سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ وَاجْعَلْنِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَشُكَّ ‏.‏
Salama said:I met Kuraib and he reported Ibn `Abbas as saying: I was with my mother's sister Maimuna and the Messenger of Allah (ﷺ) came there, and then he narrated the rest of the hadith as was narrated by Ghundar and said these words: "Make me light," beyond any doubt
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ سلمہ نے کہا : میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ پھر انھوں نے غندر ( محمد بن جعفر ) کی حدیث ( 1794 ) کی طرح بیان کیا اور کہا : "" اور مجھے سراپا نور کردے "" اور انھوں نے ( کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that (once) the Messenger of Allah (may peace be upon him, ) was presented with beef. It was said (by someone) that it had been given to Barira as Sadaqa. Upon this he (the Prophet) said:It is a Sadaqa for her and a gift for us
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گائے کا گو شت پیش کیا گیا اور بتا یا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اورہما رے لیے ہدیہ ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I said to'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah (ﷺ) fast for a full month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted throughout, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےدریافت کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے ، جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ، قَالَ تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا ‏.‏ - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ - قَالَ - فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Jam at al-Dubu'i reported:I performed Tamattu' but the people dis- couraged me to do so. I came to Ibn 'Abbas and asked him about it. He ordered me to do so. I came to the House (Ka'ba) and slept. I saw a visitant in the dream who said: 'Umra is acceptable and so is the Hajj performed for God's sake. I came to Ibn Abbas and informed him about that Which I saw in the dream whereupon he said: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest This is the Sunnah of Abu'l-Qasim (the Holy Pro- phet) (ﷺ)
ابو حمزہ ضبعی نے کہا : میں نے حج تمتع ( کا ارادہ ) کیا تو ( متعدد ) لوگوں نے مجھے اس سے روکا ، میں ( اسی شش و پنج میں ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسارکیا تو انھوں نے مجھے اس ( حج تمتع ) کا حکم دیا ۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آکر سو گیا ، نیند میں دورا ن خواب میرے پاس ایک شخص آیا ۔ اور کہا ( تمھا را ) عمرہ قبول اور ( تمھا را ) حج مبرو ( ہر عیب سےپاک ) ہے ۔ انھوں نے کہا میں ( دوباراہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور جو دیکھا تھا ۔ کہہ سنا یا ۔ وہ ( خوشی سے ) کہہ اٹھے ( عربی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ( تمھا را خواب اسی کی بشارت ہے)
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ‏}‏ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
This hadith is also transmitted by Ahmad b. Sa'id, Habban, Sulaiman b. Mughira on the authority of Anas who said:When the verse was revealed:" Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle," no mention was made of Sa'd b, Mu'adh in it
(جعفر بن سلیمان کے بجائے ) سلیمان بن مغیرہ نے ثابت ( بنانی ) سے نقل کرتے ہوئے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ﴿ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾..... انہوں نے بھی سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى، بْنِ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Sufyan who said that he heard 'Umar b. al-Khattab relate (this tradition) from the Prophet (ﷺ) while he was delivering a sermon from the pulpit
لیث ، حماد بن زید ، عبدالوہاب ثقفی ، سلیمان بن حیان ، حفص بن غیاث ، یزید بن ہارون ، ابن مبارک اور سفیان سب نے یحییٰ بن سعید سے ، مالک کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔ سفیان کی حدیث میں ہے : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَنَحْنُ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ رَعَيْتَ الْغَنَمَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ رَعَاهَا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Marr az-Zahran, and we were plucking the fruit of the Arak tree, whereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: Pluck only its black ones (for they are the most pleasant). We said: Allah's Messenger, it seems you shepherded the flock. He said: Yes. Has there been a prophet who did not shepherd it (or some words like it)?
ابو سلمہ عبد الرحمٰن نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مرالظہرا ن ( کے مقام ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان میں سے سیاہ پیلو چنو ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یوں لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرا ئی ہو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہاں کو ئی نبی نہیں جس نے بکریاں نہ چرا ئی ہوں ۔ " یا اسی طرح کی بات ارشاد فرما ئی ۔
حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ بَيْنَمَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَيَّامُ اللَّهِ نَعْمَاؤُهُ وَبَلاَؤُهُ إِذْ قَالَ مَا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ رَجُلاً خَيْرًا أَوْ أَعْلَمَ مِنِّي ‏.‏ قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مِنْهُ أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ إِنَّ فِي الأَرْضِ رَجُلاً هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ‏.‏ قَالَ يَا رَبِّ فَدُلَّنِي عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَقِيلَ لَهُ تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا فَإِنَّهُ حَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَعُمِّيَ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ فَتَاهُ فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ لاَ يَلْتَئِمُ عَلَيْهِ صَارَ مِثْلَ الْكُوَّةِ قَالَ فَقَالَ فَتَاهُ أَلاَ أَلْحَقُ نَبِيَّ اللَّهِ فَأُخْبِرَهُ قَالَ فَنُسِّيَ ‏.‏ فَلَمَّا تَجَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ‏.‏ قَالَ وَلَمْ يُصِبْهُمْ نَصَبٌ حَتَّى تَجَاوَزَا ‏.‏ قَالَ فَتَذَكَّرَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ‏.‏ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي ‏.‏ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَأَرَاهُ مَكَانَ الْحُوتِ قَالَ هَا هُنَا وُصِفَ لِي ‏.‏ قَالَ فَذَهَبَ يَلْتَمِسُ فَإِذَا هُوَ بِالْخَضِرِ مُسَجًّى ثَوْبًا مُسْتَلْقِيًا عَلَى الْقَفَا أَوْ قَالَ عَلَى حَلاَوَةِ الْقَفَا قَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏.‏ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ وَعَلَيْكُمُ السَّلاَمُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مُوسَى ‏.‏ قَالَ وَمَنْ مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ‏.‏ قَالَ مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ‏.‏ شَىْءٌ أُمِرْتُ بِهِ أَنْ أَفْعَلَهُ إِذَا رَأَيْتَهُ لَمْ تَصْبِرْ ‏.‏ قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ‏.‏ قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ‏.‏ قَالَ انْتَحَى عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ‏.‏ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ‏.‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَى أَحَدِهِمْ بَادِيَ الرَّأْىِ فَقَتَلَهُ فَذُعِرَ عِنْدَهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَعْرَةً مُنْكَرَةً ‏.‏ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ هَذَا الْمَكَانِ ‏"‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْلاَ أَنَّهُ عَجَّلَ لَرَأَى الْعَجَبَ وَلَكِنَّهُ أَخَذَتْهُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَمَامَةٌ ‏.‏ قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ‏.‏ وَلَوْ صَبَرَ لَرَأَى الْعَجَبَ - قَالَ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ‏"‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَ��َلَى أَخِي كَذَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا - ‏"‏ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ لِئَامًا فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ فَاسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ‏.‏ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ وَأَخَذَ بِثَوْبِهِ ‏.‏ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ فَإِذَا جَاءَ الَّذِي يُسَخِّرُهَا وَجَدَهَا مُنْخَرِقَةً فَتَجَاوَزَهَا فَأَصْلَحُوهَا بِخَشَبَةٍ وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ قَدْ عَطَفَا عَلَيْهِ فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ أَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا ‏.‏ وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Ubayy b. Ka'b narrated to us that he had heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Moses had been delivering sermons to his people. And he made this remark: No person upon the earth has better knowledge than I or nothing better than mine. Thereupon Allah revealed to him: I know one who is better than you (in knowledge) or there is a person on the earth having more knowledge than you. Thereupon he said: My Lord, direct me to him. It was said to him: Keep a salted fish as a provision for journey. The place where that fish would be lost (there you will find that man). So he set forth and a young slave along with him until they came to a place Sakhra. but he did not find any clue. So he proceeded on and left that young man there. The fish began to stir in water and the water assumed the form of an ark over the fish. The young man said: I should meet Allah's Apostle (peace be upon him) and inform him, but he was made to forget and when they had gone beyond that place, he (Moses) said to the young man: Bring breakfast. We have been exhausted because of the journey, and he (Moses) was not exhausted until he had crossed that (particular) place (where he had) to meet Khadir, and the youth was reminded and said: Did you not see that as we reached Sakhra I forgot the fish and it is satan alone who has made me forgetful of it'? It is strange that he has been able to find way in the ocean too. He said: This is what we sought for us. They returned retracing their steps, and he (his companion) pointed to him the location (where) the fish (had been lost). Moses began to search him there. He suddenly saw Khadir wrapped in a cloth and lying on his back. He said to him: As-Salamu-'Alaikum. He removed the cloth from his face and said: Wa 'Alaikum-us-Salam! Who are you? He said: I am Moses. He said: Who Moses? He said: Moses Of Bani Isra'il. He said: What brought you here? He said: I have come so that you may teach me what you have been taught of righteousness. He said: You shall have to bear with me, and how can you have patience about a thing of which you have no comprehensive knowledge? You will not have patience when you see me doing a thing I have been ordered to do. He said: If Allah pleases, you will find me patient, nor shall I disobey you in aught. Khadir said: If you follow me, don't ask me about anything until I explain it to you. So they went on until they embarked upon a boat. He (Khadir) made a hole in that. Thereupon he (Moses) said: You have done this so that you may drown the persons sitting in the boat. You have done something grievous. Thereupon he said: Did I not tell you that you will not be able to bear with me? Thereupon he (Moses) said: Blame me not for what I forgot and be not hard upon me for what I did. (Khadir gave him another chance.) So they went on until they reached a place where boys were playing. He went to one of them and caught hold'of one (apparently) at random and killed him. Moses (peace be upon him) felt agitated and said: You have killed an innocent person not guilty of slaying another. You have done something aboininable. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: May Allah have mercy upon us and Moses. Had he shown patience he would have seen wonderful things, but fear of blame, with respect to his companion, seized him and he said: If I ask anything after this, keep not company with me. You will then have a valid excuse in my case, and had he (Moses) shown patience he would have seen many wonderful things. He (the narrator) said: Whenever he (the Holy Prophet) made mention of any Prophet, he always said: May there be mercy of Allah upon us and upon my brother so and so. They, however, proceeded on until they came to the inhabitants of a village who were very miserly. They went to the meeting places and asked for hospitality but they refused to show any hospitality to them. They both found in that village a wall which was about to fall. He (Khadir) set it right. Thereupon he (Moses) said: If you so liked. you could get wages for it. Thereupon he said: This is the partince, of ways between me and you, and, taking hold of his cloth, he said: Now I will explain to you the real significance (of all these acts) for which you could not show patience. As for the boat, it belonged to the poor people working on the river and I intended to damage it for there was ahead of them (a king) who seized boats by force. (When he came) to catch hold of it he found it a damaged boat, so he spared it (and later on) it was set right with wood. So far as the boy is concerned, he has been, by very nature, an unbeliever, whereas his parents loved him very much. Had he grown up he would have involved them in wrongdoing and unbelief, so we wished that their Lord should give them in its place one better in purity and close to mercy. And as for the wall it belonged to two orphan boys in the city and there was beneath it a (treasure) belongin to them,... up to the last verse
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے لوگوں میں بیٹھے انھیں اللہ کے دن یاد دلارہے تھے ( اور ) اللہ کے دنوں سے مراد اللہ کی نعمتیں اوراس کی آزمائشیں ہیں ، اس وقت انھوں نے ( ایک سوال کے جواب میں ) کہا : میرے علم میں اس وقت روئے زمین پر مجھ سے بہتر اور مجھ سے زیادہ علم رکھنے والا اور کوئی نہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں اس شخص کو جانتاہوں جوان ( موسیٰ علیہ السلام ) سے بہتر ہےیا ( فرمایا : ) جس کے پاس ان سے بڑھ کر ہے زمین پر ایک آدمی ہے جو آپ سے بڑھ کر عالم ہے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : میرے پروردگار مجھے اس کا پتہ بتائیں ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : ان سے کہا گیا : ایک نمکین مچھلی کا زاد راہ لے لیں ، وہ آدمی وہیں ہوگا جہاں آپ سے وہ مچھلی گم ہوجائے گی ۔ فرمایا : موسیٰ علیہ السلام اور ان کا نوجوان ساتھی چل پڑے ، یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچے تو ان ( حضرت موسیٰ علیہ السلام ) پر ایک طرح کی بے خبری طاری ہو گئی اور وہ اپنے جوان کو چھوڑ کر آگے چلے گئے ۔ مچھلی ( زندہ ہو کر ) تڑپی اور پانی میں چلی گئی ۔ پانی اس کے اوپر اکٹھا نہیں ہو رہا تھا ، ایک طاقچے کی طرح ہو گیا تھا ۔ اس نو جوان نے ( اس مچھلی کو پانی میں جاتا ہوا دیکھ لیا اور ) کہا : کیا میں اللہ کے نبی ( موسیٰ علیہ السلام ) کے پاس پہنچ کر انھیں اس بات کی خبر نہ دوں!فرمایا : پھر اسے بھی یہ بات بھلا دی گئی ۔ جب وہ آگے نکل گئے تو انھوں نے اپنے جوان سے کہا : ہمارا دن کا کھانا لے آؤ ، اس سفر میں ہمیں بہت تھکاوٹ ہوگئی فرمایا : ان کو اس وقت تک تھکاوٹ محسوس نہ ہوئی تھی ۔ یہاں تک کہ وہ ( اس جگہ سے ) آگے نکل گئے تھے ۔ فرمایا : تو اس ( جوان ) کو یادآگیا اور اس نے کہا : آپ نے دیکھا کہ جب ہم چٹان کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے یہ بات بھلائی کہ میں اس کا ذکر کروں اور عجیب بات یہ ہے کہ اس ( مچھلی ) نے ( زندہ ہوکر ) پانی میں اپنا ر استہ پکڑ لیا ۔ انھوں نے فرمایا ہمیں اسی کی تلاش تھی پھر وہ دونوں واپس اپنے قدموں کےنشانات پر چل پڑے ۔ اس نے انھیں مچھلی کی جگہ دیکھائی ۔ انھوں نے کہا مجھے اسی جگہ کے بارے میں بتایا گیا تھا وہ تلاش میں چل پڑے تو انھیں حضرت خضر علیہ السلام اپنے اردگرد کپڑا لپیٹے نظرآگئے گدی کے بل ( سیدھے ) لیٹے ہوئے تھے یا کہا : گدی کے درمیانے حصے کےبل لیٹے ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا : السلام علیکم! ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : وعلیکم السلام! پوچھا : آپ کون ہیں؟کہا : میں موسیٰ علیہ السلام ہوں ، پوچھا ، کون موسیٰ؟کہا : بنی اسرائیل کے موسیٰ ، پوچھا : کیسے آنا ہوا ہے؟ کہا : میں اس لئے آیا ہوں کہ صحیح ر استے کا جو علم آپ کو دیاگیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں ۔ ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : میری معیت میں آپ صبر نہ کرپائیں گے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : ان شاء اللہ ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ۔ انھوں نے کہا : اگر آپ میرے پیچھے چلتے ہیں تو مجھ سے اس وقت تک کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں جب تک میں خود اس کا ذکر شروع نہ کروں ، پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو انھوں ( خضر علیہ السلام ) نے اس میں لمبا سا سوراخ کردیا ۔ کہا : انھوں نے کشتی پر اپنا پہلو کازور ڈالا ( جس سے اس میں درز آگئی ) موسیٰ علیہ السلام نے انھیں کہا : آپ نے اس لئے اس میں درز ڈالی کہ انھیں غرق کردیں ۔ آپ نے عجیب کام کیا ۔ ( خضر علیہ السلام نے ) کہا : میں نے آپ سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ کسی صورت صبر نہ کرسکیں گے ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : میرے بھول جانے پر میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھ سے سخت برتاؤ نہ کریں ۔ دونوں ( پھر ) چل پڑے یہاں تک کہ وہ کچھ لڑکوں کے پاس پہنچے ، ، وہ کھیل رہے تھے ۔ وہ ( خضر علیہ السلام ) تیزی سے ایک لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے قتل کردیا ۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام سخت گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ۔ انھوں نے کہا : کیا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر مار دیا؟ " اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو! اگر وہ جلدبازی نہ کرتے تو ( اور بھی ) عجیب کام دیکھتے ، لیکن انھیں اپنے ساتھی سے شرمندگی محسوس ہو ئی ، کہا : اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ، آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے اور ( فرما یا : ) اگر موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے تو ( اوربھی ) عجائبات کا مشاہدہ کرتے ۔ " ( ابھی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب انبیاء علیہ السلام میں سے کسی کا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع ( فرما تے ) : " ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور ہمارے فلاں بھا ئی پر ہم اللہ کی رحمت ہو! ۔ ۔ ۔ پھر وہ دونوں ( آگے ) چل پڑے یہاں تک کہ ایک بستی کے بخیل لو گوں کے پاس آئے ۔ کئی مجا لس میں پھر ےاور ان لوگوں سے کھا نا طلب کیا لیکن انھوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کردیا ، پھر انھوں نے اس ( بستی ) میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے ہی والی تھی کہ انھوں ( خضر علیہ السلام ) نے اسے سیدھا کھڑا کردیا ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : اگرآپ چاہتے تو اس پر اُجرت ( بھی ) لے سکتے تھے ۔ انھوں نےکہا : یہ میرے اور آپ کے درمیان مفارقت ( کا وقت ) ہے ۔ اور انھوں ( موسیٰ علیہ السلام ) نے ان کا کپڑا تھام لیا ( تاکہ وہ جدا نہ ہوجائیں اور کہا کہ مجھے ان کی حقیقت بتادو ) کہا : میں ابھی آپ کوان ( کاموں ) کی حقیقت بتاتاہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے ۔ جو کشتی تھی وہ ایسے مسکین لوگوں کی تھی جو سمندر میں ( ملاحی کا ) کام کرتے ہیں ۔ " آیت کے آخر تک " جب اس پر قبضہ کرنے والا آئے گا تو اسے سوراخ والی پائے گا اور آگے بڑھ جائے گا اور یہ لوگ ایک لکڑی ( کے تختے ) سے اس کو ٹھیک کرلیں گے اور جو لڑکا تھا تو جس دن اس کی سرشت ( فطرت ) بنائی گئی وہ کفر پر بنائی گئی ۔ اس کے والدین کو اس کے ساتھ شدید لگاؤ ہے ۔ اگروہ اپنی بلوغت تک پہنچ جاتا تو اپنی سرکشی اور کفر سے انہیں عاجز کردیتا ۔ ہم نے چاہا کہ اللہ ان دنوں کو اس کے بدلے میں پاکبازی میں بڑھ کر صلہ رحمی کے اعتبارسے بہتر بدل عطا فرمادے اور رہی دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ( اور اس کے نیچے ان دونوں کاخزانہ دفن تھا ۔ ) " آیت کے آخرتک ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ حَسَّانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ قَالَ ‏ "‏ كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ ‏.‏ فَقَالَ حَسَّانُ وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ ‏.‏
A'isha reported that Hassin said:Allah's Messenger, permit me to write satire against Abu Sufyan, whereupon he said: How can it be because I am also related to him? Thereupon he (Hassan) said: By Him Who has honoured you. I shall draw you out from them (their family) just as hair is drawn out from the fermented (flour). Thereupon Hassan said: The dignity and greatness belongs to the tribe of Bint Makhzum from amongst the tribe of Hisham, whereas your father was a slave
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے ابو سفیان ( مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب ) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے ، آپ نے فرمایا : "" اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہوگا؟ "" حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی!میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہرنکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتاہے ، پھر حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قصیدہ کہا : اور آل ہاشم میں سے عظمت ومجد کی چوٹی پر وہ ہیں جو بنت مخزوم ( فاطمہ بنت عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم ) کی اولاد ہیں ( ابو طالب ، عبداللہ اور زبیر ) اورتیرا باپ تو غلام ( کنیز کا بیٹا ) تھا ۔