بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
9 hadith
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ ‏.‏ أَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ ‏.‏ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ ‏.‏
Ma'dan b. Talha reported:I met Thauban, the freed slave. of Allah's Messenger (ﷺ), and asked him to tell me about an act for which, if I do it, Allah will admit me to Paradise, or I asked about the act which was loved most by Allah. He gave no reply. I again asked and he gave no reply. I asked him for the third time, and he said: I asked Allah's Messenger (ﷺ) about that and he said: Make frequent prostrations before Allah, for you will not make one prostration without raising you a degree because of it, and removing a sin from you, because of it. Ma'dan said that then lie met Abu al-Darda' and when he asked him, he received a reply similar to that given by Thauban
۔ معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے ، یا انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو ، تو ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خاموشی اختیار فرمائی ( اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا ، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہی سوال رسول اللہﷺ سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا : ’’تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘ معدان نے کہا : پھر میں ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملا تو ان سے ( یہی ) سوال کیا ، انہوں نے بھی مجھ س وہی کہا جو ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters
یحیی بن سعید نے اور معتمر بن سلیمان نے ہشام سے یہ حدیث ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصِيرٌ وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوهُ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had a mat and he used it for making an apartment during the night and observed prayer in it, and the people began to pray with him, and he spread it (the mat) during the day time. The people crowded round him one night. He (the Holy Prophet) then said:O people, perform such acts as you are capable of doing, for Allah does not grow weary but you will get tired. The acts most pleasing to Allah are those which are done continuously, even if they are small. And it was the habit of the members of Muhammad's (ﷺ) household that whenever they did an act they did it continuously
سعید بن ابی نے ابو سلمہ ( نم عبد الرحمان بن عوف ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی آپ رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے تو لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنی شروع کر دی آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے ایک رات لو گ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ نے فر ما یا : " لوگو !اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ ( اس وقت تک ) اللہ تعا لیٰ ( اجرو ثواب دینے سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناًاللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جا ئے چاہے وہ کمہو ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کو ئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ بر قرار رکھتے ۔)
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الاِثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ghailan b. Jarir with the same chain of transmitters, but with one variation, that there has been made mention of Monday and not of Thursday
ابان عطار نے کہا : ہمیں غیلان بن جریر نے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی مانند حدیث بیا ن کی ، مگر انھوں نے ( اپنی ) اس حدیث میں سوموار کا ذکرکیا ، جمعرات کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ، عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعَةً ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ‏.‏
Ibn'Umar (Allah be pleased with them) reported that when Allah's messenger (ﷺ) circumambulated in Hajj and Umra he walked swiftly in the first three circuit about the House, and then walked in four circuits, and then observed two rak'ahs of prayer, and then ran between al-Safa and al-Marwa
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے ( قدوم ) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرے کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتا ری سے چلتے پھر ( باقی ) چا ر میں ( عام رفتا ر سے ) چلتے ، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الإِسْنَادِ وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that he said:The people will constantly, and the rest of the hadith is the same as that transmitted by 'Abdul-Warith with the exception that there is no mention of the Messenger of Allah in that, but he observed at the end of the hadith: Allah and His Messenger told the truth
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے محمد سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ’’ لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... ‘ ‘ باقی حدیث عبد الوارث کی حدیث کی مانند ہے ۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریمﷺ کا ذکر نہیں کیا ، لیکن آخر میں یہ کہا ہے : ’’ اللہ اور اس کے رسول سے سچ فرمایا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقَيَهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When you travel (through a land) where there is plenty of vegetation, you should (go slow and) give the camels a chance to enjoy the benefit of the earth. When you travel (through a land) where there is scarcity of vegetation, you should hasten with them (so that you may be able to cross that land while your animals ore still in a good condition of health). When you make a halt for the night, avoid (doing so on) the road, for the tracks are the pathways of wild beasts or the abode of noxious little animals
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم شادابی ( کے زمانے ) میں سفر کرو تو زمین سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو اس ( سے متاثرہ علاقے میں ) سے ان ( اونٹوں کی ٹانگوں ) کا گودا بچا کر لے جاؤ ( تیز رفتاری سے نکل جاؤ تاکہ زیادہ عرصہ بھوکے رہ کر وہ کمزور نہ ہو جائیں ) اور جب تم رات کے آخری حصے میں قیام کرو تو گزرگاہ میں ٹھہرنے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ جانوروں کی گزر گاہ اور حشرات الارض کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
زہیر نے ہمیں سلیمان اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَيْرُ الأَنْصَارِ أَوْ خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ فِي ذِكْرِ الدُّورِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رضى الله عنه ‏.‏
Abu Usaid Ansari reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worthiest of the Ansar or the worthiest of the settlements and the clans of Ansar; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the story of Sa'd b. 'Ubida (Allah be pleased with him)
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : مجھے ابو سلمہ نے حدیث بیان کی ، انھیں حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " انصار میں سے یا ( فر ما یا : ) انصار کے گھرانوں میں سے بہترین ۔ ۔ ۔ " ( آگے انصار کے ) گھرا نوں کے بارے میں ان سب ( راویوں ) کی حدیث کے مانند ہے ۔ انھوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔