بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
15
2 hadith
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ قَالَ فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا هَا هُنَا ‏.‏ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى
Abdullah b. Umar reported that he reached the Ka'ba and Allah's Apostle (ﷺ) had entered therein, and Bilal and Usama too. 'Uthman b. Talha closed the door to them, and they stayed there for a considerable time, and then the door was opend and Allah's Apostle (ﷺ) came out, and I went upstairs and entered the House and said:Where did Allah's Apostle (ﷺ) observe prayer? They said: At this very place. I, however, forgot to ask them about the (number of) rak'ahs that he observed
عبد اللہ عون نے ہمیں نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں دا خل ہو چکے تھے عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا ۔ کہا وہ اس میں کا فی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھو لا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا ئے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں دا خل ہوا میں نے پو چھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ں نما زپڑھی ؟ انھوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very depressing effect upon them (upon the companions of the Holy Prophet) and they said: Messenger of Allah, who amongst us would be (that unfortunate) person (who would be doomed to Hell)? He said: Good tidings for you, Yajuj Majuj would be those thousands (who would be the denizens of Hell) and a person (selected for Paradise) would be amongst you. He (the narrator) further reported that he (the Messenger of Allah) again said: By Him in Whose Hand is thy life, I hope that you would constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and we glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: BY Him in Whose Hand is my life, I wish you would constitute one-third of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and Glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise. Your likeness among the people is the likeness of a white hair on the skin of a black ox or a strip on the foreleg of an ass
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) پر حد درجہ گراں گزری ۔ انہوں نے پوچھا ‎ : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک ) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا ۔ ) ، پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی ، پھر فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ ( دوسری ) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘