حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلاَ يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ " .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever eats anything from this plant, let him not come to the mosque.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے ( پیاز و لہسن ) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلاَ رِيحَ لَهَا " .
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that:The Prophet said: "The likeness of the believer who recites the Qur'an is that of a citron, the taste and smell of which are good. The likeness of a believer who does not read the Qur'an is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The likeness of a hypocrite who reads the Qur'an is that of a sweet basil, the smell of which is good but its taste is bitter. And the likeness of a hypocrite who does not read the Qur'an is that of a colocynth (bitter apple), the taste of which is bitter and it has no smell
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ ( خوشبودار گھاس وغیرہ ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ ( اندرائن ) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے، اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ .
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:“I used to twist the garlands for the sacrificial animal of the Prophet (ﷺ), and his sacrificial animal would be garlanded and sent (to Makkah), and he would stay (in Al-Madinah) without avoiding any of the things that the one in Ihram avoids.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ۱؎ کے لیے قلادہ ( پٹہ ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِلاَقِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَةٌ الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْعُلَمَاءُ ثُمَّ الشُّهَدَاءُ " .
It was narrated from ‘Uthman bin ‘Affan that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Three will intercede on the Day of Resurrection: The Prophets, then the scholars, then the martyrs.”
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کر سکیں گے: انبیاء، علماء پھر شہداء ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'If anyone of you touches his penis, then he has to perform ablution
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنی شرمگاہ چھوئے تو اس پر وضو لازم ہے ۔