بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
5
4 hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ ‏"‏ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) led his Companions in prayer one day. When he had finished prayer he turned to face the people and said: ‘What is wrong with some people that they lift their gaze to the heavens?’ He spoke severely concerning that: ‘They should certainly abstain from that or Allah will snatch away their sight.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں ( بحالت نماز ) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تک فرما دیا: لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لاِبْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The rewards of the good deeds that will reach a believer after his death are: Knowledge which he taught and spread; a righteous son whom he leaves behind; a copy of the Qur'an that he leaves as a legacy; a mosque that he built; a house that he built for wayfarers; a canal that he dug; or charity that he gave during his lifetime when he was in good health. These deeds will reach him after his death
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ لَهُ مَنْزِلاَنِ مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ }‏ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one among you who does not have two abodes: An abode in Paradise and an abode in Hell. If he dies and enters Hell, the people of Paradise inherit his abode. This is what Allah says: ‘These are indeed the inheritors.’” [23:]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي، هَذَا شَيْئًا فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلاَءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Prophet got up during the night and went to the toilet and relieved himself, then he washed his face and hands, and went back to sleep. (Sahih) Another chain with similar wording
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔