حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيُقِيمُ صُلْبَهُ وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلاً ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ تِجَاهَ الْقِبْلَةِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ .
It was narrated that ‘Amrah said:“I asked ‘Aishah: ‘How did the Messenger of Allah (ﷺ) perform prayer?’ She said: ‘When the Prophet (ﷺ) performed ablution, he would put his hand in the vessel and say Bismillah, and he would perform ablution properly. Then he would stand and face the Qiblah. He would say the Takbir raising his hands parallel to his shoulders. Then he would bow, putting his hands on his knees and keeping his arms away from his sides. Then he would raise his head and straighten his back, and he would stand a little longer than your standing. Then he would prostrate, pointing his hands towards the Qiblah, keeping his arms away (from his sides) as much as possible, according to what I have seen. Then he would raise his head and sit on his left foot with his right foot held upright, and he disliked leaning towards his left side.’”
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو ( اپنی بغلوں سے ) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، ( اور قعدہ اولیٰ میں ) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ وَيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people's attention, Allah will admit him to Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ، قَالَ كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلاَمِ " .
Abu Samh said:"I was a servant of the Prophet, and Hasan and Husain was brought to him and (the infant) urinated on his chest. They wanted to wash it, but the Messenger of Allah said: 'Sprinkle water on it, for the urine of a girl should be washed, but the urine of a boy should be sprinkled over with water
ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔