حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ، فِي السَّفَرِ - وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ - فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَةَ الْحَضَرِ وَصَلاَةَ السَّفَرِ فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا .
Usamah bin Zaid said:“I asked Tawus about performing voluntary prayer while traveling. Al-Hasan bin Muslim bin Yannaq was sitting with him and he said: ‘Tawus told me that he heard Ibn ‘Abbas say: “The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined prayer while a resident and prayer when one is traveling. We used to pray when we were residents both before and after (the obligatory prayer), and we used to pray both before and after (the obligatory prayer) when we were traveling.’”
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ، يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغُسْلِ فِيهِ .
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:"I asked Sulaiman bin Yasar about a garment which gets semen on it. 'Should I wash it off or wash the entire garment?' Sulaiman said: 'Aishah said: "Semen used to get on the garment of the Messenger of Allah and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see the marks left on it by washing
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔