أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ خَصْلَتَانِ لاَ أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَىْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ قَالَ وَصَلاَةُ الإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ .
Al-Mughirah bin Shu'bah said:"There are two things which I never asked anyone about after I saw the Messenger of Allah (ﷺ). He was with us on a journey and he went away to relieve himself, then he came and performed Wudu', and he wiped over his forehead and two sides of his 'Imamah, and he wiped over his Khuffs." He said: "And (the other issue) the Imam's Salah behind one of his followers. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was on a journey and time for prayer came. The Prophet (ﷺ) could not join them, so they called the Iqamah and they asked Ibn 'Awf to lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and offered the remainder of the prayer behinf Ibn 'Awf, then when Ibn 'Awf said the Salah, the Prophet (ﷺ) stood up and completed what he had missed (of the prayer)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، ( پہلی چیز یہ ہے کہ ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، ( دوسری چیز ) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The closest that a person can be to his Lord, the Mighty and Sublime, is when he is prostrating, so increase in supplication then
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا ( سجدے میں ) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلاَةُ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا بِهِ مِنْ كِتَابِهِ وَهَذَا خَطَأٌ .
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said:"We said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we know about sending salams upon you, but how should we send salah upon you?' He said: "Say: 'Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad, kama sallaita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammad kama barakta 'ala ali Ibrahim fil-'alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.)'" (One of the narrators) Ibn Abi Laila said: "We used to say: 'And also upon us.'" Abu Abdur-Rahman (An-Nasa'I) said: It was narrated from his book, and this is a mistake
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ ( درود ) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ ( درود ) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مَخْلَدٍ، - ثِقَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Ubaidullah bin'Amr bin Zaid narrated from Habib bin Abi Thabit, from Muhammad bin Ali that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) woke up and cleaned his teeth,' and he quoted the hadith
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے مسواک کی، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، مَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الآخَرُ فَقَالَ الَّذِي قَامَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَامَ قَالَ لَهُ الَّذِي جَلَسَ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ جَلَسَ .
It was narrated from Ibn 'Abbas and Al-Hasan bin 'Ali that:a funeral passed by them and one of them stood and the other sat. The one who stood up said: "By Allah, I know that the Messnger of Allah stood up." The one who was sitting said: "I know that the Messenger of Allah sat
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے، اور دوسرے بیٹھے رہے، تو جو کھڑے ہو گئے تھے انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا: مجھے ( یہ بھی ) معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بعد میں ) بیٹھے رہنے لگے تھے۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ قَالَ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah used to encourage (us) to pray Qiyam during Ramadan, without insisting on that, and he said: 'Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے، رمضان میں قیام اللیل کی ترغیب دلاتے تھے، ( اور ) فرماتے: ”جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کی، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
Hakim bin Hizam said:"The Messenger of Allah said: "The best kind of charity is that which is given when you are rich, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ( یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو ) ، اور اوپر والا ہاتھ ( دینے والا ہاتھ ) نیچے والے ہاتھ ( لینے والا ہاتھ ) سے بہتر ہے، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِيهِمَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ .
It was narrated from 'Imran:That the Messenger of Allah combined Hajj and "Umrah, then no Qur'an was revealed concerning that, and the Prophet did not forbid it, regardless of what one man may say
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ - هُوَ الشَّامِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الأَصْبَغِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَقَالَ " مَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated from 'Abdullah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that snakes be killed and he said:"Whoever fears their vengeance is not one of us
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جو ان کے بدلے ( اور انتقام و قصاص ) سے ڈرے ( اور ان کو نہ مارے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ " وَعِنْدَكَ أَحَدٌ " . قُلْتُ نَعَمْ بِنْتُ حَمْزَةَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
It was narrated that 'Ali, may Allah be pleased with him, said:"I said: 'O Messenger of Allah, why do you choose wives from among Quraish and not from among us?' He said: 'Do you have anyone in mind?' I said: 'Yes, the daughter of Hamzah.' The Messenger of Allah said: 'She is not permissible for me (to marry); she is the daughter of my brother through breast-feeding
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور ( ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں ) آپ ہمیں چھوڑ رہے ( اور نظر انداز فرما رہے ) ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ( شادی کے لائق ) ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخُو عَبْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ " خُذِ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ وَخَلِّ سَبِيلَهَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا .
Ar-Rubayy' bint Mu'awwidh bin 'Afra' narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint 'Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Messenger of Allah to complain about him, and the Messenger of Allah sent for Thabit and said:"Take what she owes you and let her go." He said: "Yes." And the Messenger of Allah ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ فَقَالَ لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ . قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Abu Barzah said:"Abu Bakr became infuriated with a man." He said: "If you tell me to, I will do it." He said: "By Allah, that is not for any human being after Muhammad [SAW]
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ أَتَى بِلاَلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالَ اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوِّهْ عَيْنُ الرِّبَا لاَ تَقْرَبْهُ " .
Abu Saeed said:"Bilal brought some Bami dates to the Messenger of Allah and he said: 'What is this? 'He said: 'I bought a Sa of them for two Sas. The Messenger of Allah said: "O! The essence of Riba, do not approach it
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتِ الْمَخْذُوفَةُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ عَقْلَ وَلَدِهَا خَمْسَمِائَةٍ مِنَ الْغُرِّ وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا وَهْمٌ وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَرَادَ مِائَةً مِنَ الْغُرِّ . وَقَدْ رُوِيَ النَّهْىُ عَنِ الْخَذْفِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ .
Abdullah bin Buraidah narrated that:a woman threw pebbles at another woman and the woman who was struck miscarried. The matter was referred to the prophet and he set the blood money for her child at five hundred sheep. And on that day, he forbade throwing pebbles. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This is an error, and it must be that the intent was one hundred camels. And the prohibition of throwing pebbles has been related from 'Abdullah bin Buraidah, from 'Abdullah bin Mughaffal
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْطَعُ الأَيْدِي فِي السَّفَرِ " .
It was narrated that Junadah bin Abi Umayyah said:"I heard Busr bin Abi Artah say: 'I heard the Messenger of Allah say: Hand should not be cut off while traveling
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لإِنَاثِ أُمَّتِي وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا " .
It was narrated from Abu Musa that :The Messenger of Allah [SAW] said: "Gold and silk have been permitted for the females of my Ummah, and forbidden to the males
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لاَ يُسْمَعُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَلْ سَمِعَهُ مِنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
It was narrated from Sa'eed, from Abu Hurairah who said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Allahumma inni a'udhu bika min 'ilmin la yanfa'u, wa min qalbin la yakhsha'u, wa min nafsin la tashba'u, wa min du'a'in la yusma' (O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is of no benefit, a heart that is not humble, a soul that is not satisfied and a supplication that is not heard)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً قَالَ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَرِّ الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا لَمْ يَجِدْ سِقَاءً يُنْبَذْ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ .
Jabir said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade Al-Muzaffat jars, Ad-Dubba' (gourds), An-Naqir, and if the Prophet [SAW] could not find a water-skin in which to make Nabidh, it would be made for him in a small vessel of stone
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، - وَاسْمُهُ غَزْوَانُ - قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِالْمَدِينَةِ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ . قِيلَ لَهُ لِمَ قَالَ لِئَلاَّ يَكُونَ عَلَى أُمَّتِهِ حَرَجٌ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) used to pray in Al-Madinah combining two prayer. Joining Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha', when there was no fear nor rain. It was said to him:"Why?" He said: "So that there would not be any hardship on his Ummah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلاَ قَرَأْتَ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا " .
It was narrated that Jabir said:"A man from among the Ansar passed Mu'adh leading two camels, when he (Mu'adh) was praying maghrib, and he was starting to recite Al-Baqarah. So that man prayed then went away. News of that reached the Prophet (ﷺ) and he said: 'Do you want to cause hardship to the people, O Mu'adh; do you want to cause hardship to the people, O Mu'adh? Why don't you recite: 'Glorify the Name of your Lord, the Most High' and 'By the sun and its brightness' and the like?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، تو اس شخص نے ( الگ جا کر ) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے ۔