بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
17 hadith
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الأَزْدِيُّ، قَالَ صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ وُهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ ‏.‏
An-Nadr bin Kathir Abu Sahl Al-Aszidi said:"Abdullah bin Tawus prayed beside me at Mina, in Masjid Al-Khaif, and when he made the first prostration he raised his head and raised his hands up to his face. I found that strange and I said to Wuhaib bin Khalid: "This man does something that I have never seen anyone do." Wuhaib said to him: 'You do something that I have never seen anyone do.' Abdullah bin Tawus said: 'I saw my father do it, and my father said: "I saw Ibn 'Abbas do it and 'Abullah bin Abbas said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing it
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ أَتَمْسَحُ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ ‏.‏ وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ وَكَانَ إِسْلاَمُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَسِيرٍ ‏.‏
It was narrated from Jarir bin 'Abdullah that he performed Wudu' and wiped over his Khuffs. it was said to him:"Are you wiping (over you Khuffs)?" He said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping (over his Khuffs)." The companions of 'Abdullah liked what Jarir said, because Jarir became Muslim shortly before the Prophet (ﷺ) died.[1] [1]In the narration recorded by At-Tirmidhi Nos. 93,94) this comment is attributed to Ibrahim, one of the narrators
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "Whoever sends salah upon me once, Allah (SWT) will send salah upon him tenfold
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک ( مرتبہ ) صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا ۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ وَلاَ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ ‏.‏
Mansur reported from Al-Hakam, from Miqsam, from Ibn 'Abbas that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with seven or five (rak'ahs), not separating between them with the taslim
منصور حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَالِكٌ بِسُوءٍ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلاَّ بِخَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Something bad was said in the presence of the Prophet about a person who had died. He said: 'Do not say anything but good about your dead
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو“۔
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins, and whoever spends the night of Lailat Al-Qadr in prayer out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُحِلِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that the Prophet said:"Protect yourselves from the Fire, even with half a date
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّهَا، لَفِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَقَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي الْعُمْرَةَ فِي الْحَجِّ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I heard 'Umar say" 'By Allah, I forbid you to forbid you to perform Tamattur,' but it is mentioned in the Book of Allah and the Messenger of Allah did it" meaning 'Umrah with Hajj
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلاً يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُرَاهُ فُلاَنًا ‏"‏ ‏.‏ لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا - لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - دَخَلَ عَلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amrah that 'Aishah told her that the Messenger of Allah was with her, and she heard a man asking permission to enter Hafsah's house. 'Aishah said:"I said: 'O Messenger of Allah, there is a man asking permission to enter your house.' The Messenger of Allah said: 'I think it is so-and-so the paternal uncle of Hafsah through breast-feeding.' 'Aishah said: If so-and-so (her own paternal uncle through breast-feeding) were alive, would he be allowed to enter upon me?' The Messenger of Allah said: 'What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے“، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت ( دودھ کا رشتہ ) ویسے ہی ( نکاح کو ) حرام کرتا ہے جیسے ولادت ( نسل ) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالاَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ، نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَنْكِحَ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ ‏.‏
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth one day after her husband died. She came to the Messenger of Allah and asked his permission to marry, and he gave her permission to marry and she married
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي قَالَ ‏"‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَىَّ قَالَ ‏"‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَىَّ قَالَ ‏"‏ فَانْشُدْ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَىَّ قَالَ ‏"‏ فَقَاتِلْ فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:A man came to the Messenger of Allah [SAW] and said: "O Messenger of Allah, what do you think if someone comes to steal my wealth?" He said: "Urge him by Allah." He said: "What if he persists?" He said: "Urge him by Allah." He said: "What if he persists?" He said: "Urge him by Allah." He said: "What if he persists?" He said: "Then fight. If you are killed you will be in Paradise and if you kill him, he will be in the Fire
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ، ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الذَّهَبُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ ‏"‏ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ إِنَّ هَذَا لاَ يَقُولُ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ عُبَادَةُ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ بِهَا مُعَاوِيَةُ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Gold, equal amount."' (One of the narrators) Yaqub did not mention: "Equal amount." Muawiyah said: "This does not mean anything." 'Ubadah said; "By Allah I do not care if I am in a land where Muawiyah is not present. I bear witness that I heard the Messenger of Allah say that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ ضَرَّتَيْنِ، ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ ‏.‏ فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ تُغَرِّمُنِي مَنْ لاَ أَكَلْ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَهَلّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ ‏ "‏ سَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ ‏.‏
It was narrated from Al-Mughirah bin shu'bah that:there were two co-wives, one of whom struck the other with a tent people and killed her. The Messenger of Allah ruled that the Diyah was to be paid by the 'Asabah of the killer, and that a slave should be given (as diyah) for the child in her womb. The Bedouin Said: "Are you penalizing me for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked/" He said: "Rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah," and he ruled that a slave should e given (as Diyah) for the child in her womb
وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، عَنْ عُقْبَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حِمَّانَ، قَالَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَدَعَا نَفَرًا مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الذَّهَبِ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ ‏.‏
Ibn Himman said:"Mu'awiyah went on Hajj and he called a group of Ansar to the Ka'bah. He said: 'Did you hear the Messenger of Allah [SAW] forbid gold?' They said: 'Yes.' He said: 'And I bear witness to that
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا نَهَى عَنِ الظُّرُوفِ شَكَتِ الأَنْصَارُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that :When the Messenger of Allah [SAW] forbade large water skins that are cut from the top and can no longer be closed, Ansar complained and said: "O Messenger of Allah, we do not have any vessels." The Prophet [SAW] said: "Then there is no harm
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ‏ "‏ إِقَامُ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) which action is most beloved to Allah? He said: 'Establishing prayer on time, honoring one's parents and Jihad in the cause of Allah
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِي صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سَلُوهُ لأَىِّ شَىْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Aishah that:The Messenger of Allah (ﷺ) sent a man on a campaign, and he used to recite to his companions when leading them in prayer, and would conclude with 'Say: He is Allah, (the) One.' When they returned, they told the Messenger of Allah (ﷺ) about that. He said: "Ask them why he did that." So they asked him and he said: "Because it is a description of the Most Merciful, the Mighty and Sublime, and I love to recite it." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Tell him that Allah (SWT), the Mighty and Sublime, loves him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت «‏قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے ۔