أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالآيَةُ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ } .
Jasrah bint Dijajah said:"I heard Abu Dharr say: 'The Prophet (ﷺ) stayed up all night repeating one verse. The verse was: 'If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی، وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو ( غالب و زبردست ) ہے، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( المائدہ: ۱۱۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا لاَ نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا وَأَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ فَقَالَ " إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَلْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"We used not to know what we should say in each rak'ah apart from glorifying, magnifying and praising our Lord. But Muhammad (ﷺ) taught us everything about what is good. He said: "When you sit following every two rak'ahs, then say: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu 'alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger), then choose any supplication that you like and call upon Allah the Mighty and Sublime with it
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہر دو رکعت ( کے بعد قعدہ ) میں کیا کہیں، سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی پاکی بیان کریں، اور اس کی بڑائی اور حمد و ثنا کریں، حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے فواتح اور خواتم سکھا دئیے ہیں ( یعنی وہ ساری باتیں سکھا دی ہیں جن میں خیر و بھلائی ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ہر دو رکعت کے بعد بیٹھو تو کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اسے جو دعا بھی اچھی لگے اختیار کرے، اور اللہ عزوجل سے دعا کرے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ يَحْيَى - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمٍّ، لَهُ بَدْرِيٍّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ وَنَحْنُ لاَ نَشْعُرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي فَقَالَ " إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلاَةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِكَ " .
It was narrated from 'Ali- who is bin Yahya- from his father that:A paternal uncle of his who was present at Badr told him, that a man entered the masjid and prayed, and the Messenger of Allah (ﷺ) was watching, but we did not realize. When he had finished, he came and greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with salam. He said: "Go back and pray, for you have not prayed." So he went back and prayed, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: "Go back and pray, for you have not prayed." (This happened) two or three times. Then the man said to him: "By the One who has honored you , O Messenger of Allah (ﷺ), I have tried my best; teach me." He said: "When you get up to pray, perform wudu and do it well, then turn to face the Qiblah and say the takbir. Then recite the Quran, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing straight, then prostrate until you are at ease prostrating, then sit up until you are at ease sitting, then prostrate until you are at ease prostrating, then get up, and continue doing that until you have finished your prayer
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے ( جواب دینے کے بعد ) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے ( ابھی بھی ) نماز نہیں پڑھی ہے ، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ بِهَا هَكَذَا - وَوَصَفَ شُعْبَةُ - نَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ فَأَعْجَبَهُ قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ السُّنِّيِّ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ رضى الله عنه .
It was narrated from Al-Hakam, from his father, that when the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', he would take a handful of water and do this with it. Shu'bah described it:"He would sprinkle his private parts with it." [1] Shaikh Ibn As-Sunni said: "Al-Hakam (one of the narrators) is Ibn Sufyan Ath-Thaqafi. [1] The purpose is to ward off devilish whispers lest the person think any emission has taken place, and thus think that his Wudu' has been invalidated
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، ( خالد بن حارث کہتے ہیں ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } وَكَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " . ثَلاَثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ .
Bahz bin Asad, said:"Shu'bah narrated to us, from Salamah and Zubaid, from Dharr, from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Witr: "Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.' And when he said the taslim, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice the third time
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تھے، تو «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور تیسری بار اپنی آواز بلند کرتے۔
أَخْبَرَنِي مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about he children of the idolators and he said: 'Allah knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فِطْرٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّوْمُ جُنَّةٌ " .
It was narrated that Muadh bin Jabal said:"The Messenger of Allah said: 'Fasting is a shield
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ وَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ " . قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ وَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ " . قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلاَ يُعْطِي بِهِ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah said:"Shall I not tell you of the best of the people in status?" We said: "Yes. O Messenger of Allah!" He said: "A man who rides his horse in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, until he dies or is killed. Shall I not tell you of the one who comes after him (in status)?" We said: "Yes, O Messenger of Allah!" He said; "A man who withdraws to a mountain pass and establishes Salah, and pays Zakah, and keeps away from the evil of people. Shall I not tell you of the worst of people?" We said: "Yes, O Messenger of Allah!" He said: "The one who asks for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, but does not give (when he is asked) for His sake
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، یا وہ قتل کر دیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے“۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! بتائیے، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں ( گوشہ نشین ہو جائے ) نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟“، ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ " .
It was narrated from Khallad bin As-Sa'ib, from his father that the Messenger of Allah said:"Jibril came to me and said: 'O Muhammad! Tell your Companions to rise their voices when reciting the Talbiyah
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا . فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ . قَالَ " وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ " .
It was narrated that 'Uqbah bin Al-Harith said:I married a woman, then a black woman came to us and said: I breast-fed you both. I went to the Prophet and said: I married so and so and a black woman came to me and said: I breast-fed you both. He turned away from me so I came to him from the other side and said: She is lying. He said: "How can you be intimate with your wife when she says that she breast-fed you both? Leave her (divorce her)
عقبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، ( یہ سن کر ) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا ۱؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، وَعَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى، نَزَلَتْ بَعْدَ الْبَقَرَةِ .
It was narrated from 'Abdullah that the shorter Surah, that speaks of women (At-Talaq), was revealed after Al-Baqarah
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی ( یعنی طلاق ) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی ( بڑی ) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that :The Prophet [SAW] said: "Whoever bears weapons against us, he is not one of us
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ " إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلاَ تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I used to sell gold for silver, or silver for gold. I came to the Messenger of Allah and told him about that, and he said: 'If you make a deal with your companion, d o not leave him when there is still any ambiguity (in the deal) between you
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا إِذَا طُمِسَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا وَفِي الْيَدِ الشَّلاَّءِ إِذَا قُطِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا وَفِي السِّنِّ السَّوْدَاءِ إِذَا نُزِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:the Messenger of Allah ruled that one-third of the Diyah should be paid for a sightless eye that looks fine, if it is destroyed; one-third of the Diyah should be paid for a paralyzed hand if it is cut off; and one-third of the Diyah should be paid for a black tooth if it is knocked out
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ .
It was narrated from Ibrahim that his father told him that he heard 'Ali say:"The Messenger of Allah [SAW] forbade me to recite Qur'an while bowing and to wear gold and garments dyed with safflower
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that :The Prophet [SAW] said: "Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, and not having repented, will not drink it in the Hereafter