أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), narrated that:When he finished the prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray for forgiveness three times and say: 'Allahumma anta asalam, wa minka as-salam tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram (O Allah, You are the source of eace (or the One free from all faults) and from You comes peace, blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ قَالَ أَتَيْتُ رَجُلاً يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ . قَالَ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ . فَقَالَ عَنْ أَىِّ شَىْءٍ تَسْأَلُ قُلْتُ عَنِ الْخُفَّيْنِ . قَالَ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَمَرَنَا أَنْ لاَ نَنْزِعَهُ ثَلاَثًا إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ .
Zirr bin Hubaish narrated:"I came to a man called Safwan bin 'Assal and sat at his door. He came out and said: 'What do you want?' I said: 'I am seeking knowledge.' He said: 'The angels lower their wings for the seeker of knowledge out of pleasure at what he is seeking.' He said: 'What do you want to know about?' I said: 'About the Khuffs.' He said: 'When we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ الصُّورِيَّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا يُوتِرُ فِيهَا وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدَ الْوَتْرِ فَإِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصُّبْحِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that :He asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) at night. She said: "He used to pray thirteen rak'ahs: nine rak'ahs standing, one of which was witr, and two rak'ahs sitting. When he wanted to bow he would stand up, and bow and prostrate, and he did that after witr. Then when he heard the call for Subh, he stood up and prayed two brief rak'ahs
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے، نو رکعت کھڑے ہو کر، اس میں وتر بھی ہوتی اور دو رکعت بیٹھ کر، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع اور سجدہ کرتے، اور ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب آپ فجر کی اذان سنتے تو کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ فِي وَسَطِهَا .
It was narrated that Samurah said:"I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah for Umm kab who had died in childbirth, and the Messenger of Allah stood in line at her mid-section to pray
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
It was narrated from Abu Saeed that he heard the Messenger of Allah say:"There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, the mighty and sublime, but Allah the mighty and sublime, will separate his face from the fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ وَلاَ يَسْأَلْنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ " .
It was narrated from Mu'awiyah that the Messenger of Allah said:"Do not be demanding when asking. If one of you asks me for anything and I give it reluctantly, there will be no blessing in it
معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمٹ کر مت مانگو، اور تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز اس لیے نہ مانگے کہ میں اسے جو دوں اس میں اسے برکت دی جائے، اور حال یہ ہو کہ میں اسے نہ دینا چاہوں“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يُقِيمُ وَلاَ يُحْرِمُ .
It was narrated that Aishah said:"I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah, then he would stay with his family and not enter Ihram
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، قَالاَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا فَتُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَلُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا أَثَرًا قَالُوا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا نَجِدُ فِيهَا يَعْنِي أَثَرًا . قَالَ أَقُولُ بِرَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ لَهَا كَمَهْرِ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ تَزَوَّجَتْ رَجُلاً فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَقَضَى لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ . فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الأَسْوَدُ غَيْرُ زَائِدَةَ .
It was narrated that 'Alqamah and Al-Aswad said:"A man was brought to 'Abdullah who had married a woman without naming a dowry for her, then he died before consummating the marriage with her. 'Abdullah said: 'Ask whether they can find any report about that.' They said: 'O Abu 'Abdur-Rahman, we cannot find any report about that.' He said: 'I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah. She should have a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the 'Iddah.' A man from Ashja' stood up and said: "The Messenger of Allah passed a similar judgment among us concerning a woman called Birwa' bint Washiq. She married a man who died before consummating the marriage with her, and the Messenger of Allah ruled that she should be given a dowry like that of her peers, and she could inherit, and she had to observe the 'Iddah.' 'Abdullah raised his hands and said the Takbir
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اسے مہر مثل دیا جائے گا ۱؎، نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث میں اس کا حق و حصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی۔ ( یہ سن کر ) اشجع ( قبیلے کا ) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا، اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس ( خلوت میں ) جانے سے پہلے مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان کی عورتوں کی مہر کے مطابق اس کی مہر کا فیصلہ کیا اور ( بتایا کہ ) اسے میراث بھی ملے گی اور عدت بھی گزارے گی۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ( اور خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ صحیح ہوا ) اور اللہ اکبر کہا ( یعنی اللہ کی بڑائی بیان کی ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اسود کا ذکر زائدہ کے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ، عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي وَأَمَرَ وَكِيلَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَتَقَالَّتْهَا فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَهَا فُلاَنٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَزَعَمَ أَنَّهُ شَىْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ . قَالَ " صَدَقَ " . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ امْرَأَةٌ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا فَانْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى " . فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا فَقَالَ " أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَمْلَقُ مِنَ الْمَالِ " . فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ .
Abdur-Rahman bin 'Asim narrated that Fatimah bint Qais -who was married to a man of Banu Makhzum- told him that he divorced her three times. He went out on a military campaign and told his representative to give her some provision. She thought it was too little, so she went to one of the wives of the Prophet, and the Messenger of Allah came in while she was with her. She said:"O Messenger of Allah, this is Fatimah bint Qais who has been divorced by so-and-so. He sent her some provision but she rejected it. He said that it was something he did not have to do (a favor)." He said: "He is telling the truth." The Prophet said: "Go to Umm Kulthum and observe your 'Iddah in her house." Then he said: "Umm Kulthum is a woman who has a lot of visitors. Go to 'Abdullah bin Umm Maktum for he is blind." So she went to 'Abdullah and observed her 'Iddah in his house, until her 'Iddah was over. Then Abu Al-Jahm and Mu'awiyah bin Abi Sufyan proposed to her. So she came to the Messenger of Allah to consult him about them. He said: "As for Abu Al-Jahm, he is a man the waving of whose stick I fear for you. And as for Mu'awiyah he is a man who does not have any money." So she married Usamah bin Zaid after that
عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ ( تو اس نے دیا ) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا ( اور واپس کر دیا ) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور ( ان کے شوہر ) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کر دیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے ( ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت گزارو“، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں ( ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی ) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں“، ( وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا ) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: ”رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کر لی“۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that :The Messenger of Allah [SAW] said: "If two Muslims confront each other with swords and one of them kills the other, then the killer and the slain will both be in Hell." A man said: "O Messenger of Allah, (we understand about) the killer, but what about the one who is killed?" He said: "He wanted to kill his companion
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ، كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرُّكْبَانِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوا فِي مَكَانِهِمُ الَّذِي ابْتَاعُوا فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ .
It was narrated from Nafi that Ibn 'UMar told them, that:they used to buy foold from the riders at the time of the Messenger of Allah and he forbade them to sell it in the place where they had bought it until they moved it to the food market
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الآيَةِ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا } فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ وَمَا نَسَخَهَا شَىْءٌ .
It was narrated that Sa'eed bin Jabair said:"The people of Al-Kufah differed concerning this verse: 'And whoever kills a believer intentionally. So I went to Ibn 'Abbas and asked him, and he said: 'It was revealed among the last of what was revealed, and nothing of it was abrogated after that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، - وَكَانَ أَبُوهُ خَالِدٌ عَلَى قَضَاءِ حِمْصَ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيُّ - عَنِ الْحَسَنِ، - وَهُوَ ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The ring of the Messenger of Allah [SAW] was of silver and its stone (Fass) was made of silver too
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الأَشْرِبَةِ، فَقَالَ اجْتَنِبْ كُلَّ شَىْءٍ يَنِشُّ .
It was narrated that Zaid bin Jubair said:"I asked Ibn 'Umar about drinks and he said: 'Avoid everything that intoxicates