أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ كُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلاَّهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَيَتَحَدَّثُ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ حَدِيثَ الْجَاهِلِيَّةِ وَيُنْشِدُونَ الشِّعْرَ وَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Simak bin Harb said:"I said to Jabir bin Samurah: 'Did you used to sit with the Messenger of Allah (ﷺ)?" He said: 'Yes.' When the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose, and his companions would talk and remember things from the time of Jahilliyah and recite poetry, and they would laugh and he would smile
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ( پھر انہوں نے بیان کیا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلاَةِ . وَرَوَى سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ .
It was narrated from Ibn Umar, from Hafsah, that:When the call to Subh prayer was given, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray two brief rak'ahs before going to pray
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی اذان دے دی جاتی تو نماز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے۔ اور سالم نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہم سے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
Zaid bin Thabit said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Perform Wudu' from that which has been touched by fire
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الأَجْرِ وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الأَجْرِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever follows a funeral and offers the funeral prayer then leaves, will have one Qirat reward. And whoever follows it and offers the funeral prayer then stays until the burial is completed will have two Qirat of reward, both of which are greater than Uhud
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے کے ساتھ جائے ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو ( جنازہ میں ) شریک ہو، ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد ( پہاڑ ) سے زیادہ بڑا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لأَخْرُجَ قَالَ " انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ " . قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ " .
It was narrated that Abu Umayyah Ad-Damri said:"I came to the Messenger of Allah from a journey and greeted him with Salam. When I was going to leave he said: 'Stay and have meal for breakfast, O Abu Umayyah.' I said: 'I am fasting, O Prophet of Allah.' He said: 'Come and I will tell about the traveler. Allah, most high, has waived fasting and of the prayer for him
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو میں نے آپ کو سلام کیا، پھر جب میں نکلنے لگا تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ فَتَعْتِقَهَا وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلاَءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَاعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَخُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " . وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا .
It was narrated from 'Aishah that:she wanted to buy Barirah and set her free, but they stipulated that her loyally as a freed slave (wala') should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah and he said: "Buy her and set her fee, and loyally is due to the one who frees the slave." She was given the choice when she was freed. Some meat was brought to the Messenger of Allah and it was said: "This is something that is given in charity to Barirah." He said: "It is charity for her and gift for us." And her husband was a free man
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء ( ترکہ ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء ( ترکہ ) اسی کا ہے جو آزاد کرے“، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ ( اسی درمیان ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“، ان کے شوہر آزاد تھے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ .
It was narrated that Jabir said:That the Prophet drove a Hadi during his Hajj
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رضى الله عنها فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِ بِي . قَالَ " أَعْطِهَا شَيْئًا " . قُلْتُ مَا عِنْدِي مِنْ شَىْءٍ . قَالَ " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " . قُلْتُ هِيَ عِنْدِي . قَالَ " فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that 'Ali said:"I got married to Fatimah, may Allah be pleased with her, and I said: 'O Messenger of Allah, let me consummate the marriage.' He said: 'Give her something.' I said: 'I do not have anything.' He said: 'Where is your Hutami armor?' I said: 'It is with me.' He said: 'Give it to her
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ ( تحفہ ) دو“، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدَيْنِ قِطْرِيَّيْنِ وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فَعَرِقَ فِيهِمَا ثَقُلاَ عَلَيْهِ وَقَدِمَ لِفُلاَنٍ الْيَهُودِيِّ بَزٌّ مِنَ الشَّأْمِ فَقُلْتُ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ يَذْهَبَ بِهِمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَآدَاهُمْ لِلأَمَانَةِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah was wearing two Qitri garments which, if he sat and sweated, would become heavy (and uncomfortable). A Jewish man got some fabric from Ash-sham so I said: 'Why don't you send word to him to buy two garments from him, and pay him when things get easier?' So he sent word to him, but he said: 'I know what Muhammad wants; he wants to go away with my money and take them (the two garments).' The Messenger of Allah said; 'He is lying; he knows that I am one of the ones who fear Allah the most, and are most honest in fulfilling trusts
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، - مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ - قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمٍ فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ لأُمِّ الْبَنِينَ مَعَهُمْ أَجْرَاسٌ فَحَدَّثَ نَافِعًا سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلٌ " . كَمْ تَرَى مَعَ هَؤُلاَءِ مِنَ الْجُلْجُلِ .
It was narrated that Abu Bakr bin Abi Shaikh said:"I was sitting with Salim when a caravan belonging to Umm Al-Banin passed by us, and they had bells with them. Salim narrated to Nafi' from his father, that the Prophet [SAW] said: 'The angels do not accompany a caravan that has small bells with them.' How often do you see small bells with these people
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رضى الله عنه يَرْزُقُ النَّاسَ الطِّلاَءَ يَقَعُ فِيهِ الذُّبَابُ وَلاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُخْرَجَ مِنْهُ .
It was narrated that Ash-Sha'bi said:"Ali, may Allah be pleased with him, used to give the people thickened grape juice into which flies would fall and not be able to get out again