بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
10 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَوَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin Abdullah that:On the Day of Al-Khandaq, after the sun had set, Umar bin Al-Khattab started cursing the disbelievers of the Quraish and said: "O Messenger of Allah, I was hardly able to pray until the sun set." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Allah, I did not pray." So we went down with the Messenger of Allah (ﷺ) to Buthan. He performed wudu' for prayer and so did we, and he prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود ( پہلے ) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ صَلاَةٌ صَلاَّهَا مِنَ اللَّيْلِ فَنَامَ عَنْهَا كَانَ ذَلِكَ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكَتَبَ لَهُ أَجْرَ صَلاَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sa'd bin Jubair, from Al-Aswad bin Yazid, that Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever has the habit of praying at night but he sleeps and misses it, that is a charity that Allah (SWT) has given to him, and the reward of his prayer will be recorded for him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی رات میں کسی نماز کا عادی ہو، اور کسی رات وہ نیند کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے، تو یہ اس پر اللہ کی طرف سے کیا ہوا صدقہ ہو گا، اور وہ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھے گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ دَسَمًا ‏"‏ ‏.‏
The Apostle (ﷺ) took milk and then called for water and rinsed (his mouth) and said:It contains greasiness
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ ادْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَصَارِعِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Prophet said:"Bury the slain where they fell
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى قَالَ ‏"‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Qilabah that a man said:"I came to the Prophet to discuss something and he was eating breakfast. He said: 'Come and eat.' I said: 'I am fasting.' He said: 'Come and I will tell you about fasting. Allah has waived half of prayer and fasting from the traveler, and he has granted a concession to pregnant women and the sick
ایک صحابی کہتے ہیں میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لأَبَدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هِيَ لأَبَدٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Surqah bin Malik bin Jushum said :"O Messenger of Allah, do you think that this Umrah of ours is for this year only, or for all time?" The Messenger of Allah said: "It is for all time
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ ‏.‏ فَقَالاَ اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا وَإِنْ شِئْتَ اذْهَبْ قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ ‏.‏
It was narrated that 'Amir bin Sa'd said:"I entered upon Qurazah bin Ka'b and Abu Mas'ud Al-Ansari during a wedding and there were some young girls singing. I said: 'You are two of the Companions of the Messenger of Allah who were present at Badr, and this is being done in your presence!' They said: 'Sit down if you want and listen with us, or if you want you can go away. We were granted a concession allowing entertainment at weddings
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے ( اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں ) ؟ انہوں نے ( جواب میں ) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim, from his father that the Prophet said:"Whoever buys a date-palm tree after it has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. And whoever buys a slave who has wealth, his wealth belongs to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. "(sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ، يُحَدِّثُ ‏{‏ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، ‏}‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آلَ جَعْفَرٍ ثَلاَثَةً أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ادْعُوا إِلَىَّ بَنِي أَخِي ‏"‏ ‏.‏ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ ‏"‏ ادْعُوا لِي الْحَلاَّقَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَ بِحَلْقِ رُءُوسِنَا ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said:"The Messenger of Allah [SAW] stayed away from the family of Ja'far (when he died) for three days, then he came to them, and said: 'Do not weep for my brother after today.' Then he said: 'Call my brother's sons to me.' We were brought like little chicks, and he said: 'Call the barber for me.' Then he ordered that our heads be shaved
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ نُوحًا صلى الله عليه وسلم نَازَعَهُ الشَّيْطَانُ فِي عُودِ الْكَرْمِ فَقَالَ هَذَا لِي وَقَالَ هَذَا لِي فَاصْطَلَحَا عَلَى أَنَّ لِنُوحٍ ثُلُثَهَا وَلِلشَّيْطَانِ ثُلُثَيْهَا ‏.‏
It was narrated that Anas bin Sirin said:"I heard Anas bin Malik say: 'The Shaitan disputed with Nuh, peace be upon him, concerning the grapevine. One said: "This is for me," and the other said: "This is for me." Then they agreed that Nuh would have one-third and the Shaitan would have two-thirds