بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
50 hadith
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ - عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالاَ صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِهِ فَقَامَ بَيْنَنَا فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَنَزَعَهَا فَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏
It was narrated that 'Alqamah and Al-Aswad said:"We prayed with Abdullah bin Mas'ud in his house. He stood between us and we placed our hands on our knees, but he took them off and made us interlace our fingers, and said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do that
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ ‏.‏ فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Mutarrif bin 'Abdullah said:"Ali bin Abi Talib prayed, and he said the takbir every time he went down and came up, in all movements of the prayer. 'Imran bin Husain said: 'This reminds me of the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ)
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے ( اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے ) تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِنَّا نَجِدُ صَلاَةَ الْحَضَرِ وَصَلاَةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَلاَ نَجِدُ صَلاَةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
It was narrated from Umayyah bin 'Abdullah bin Khalid that:He said to 'Abdullah bin 'Umar: "We find (mention of) prayer when one is at home (i.e., not traveling) and prayer at times of fear in the Qur'an, but we do not find any mention in the Qur'an of prayer when traveling. Ibn Umar said to him: 'O son of my brother, Allah (SWT) send Muhammad (ﷺ) to us when we did not know anything, and all we should do is to do that which we saw Muhammad (ﷺ) doing
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، - وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَتَرَامَى، بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَجَمَعْتُ أَسْهُمِي وَقُلْتُ لأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ فَأَتَيْتُهُ مِمَّا يَلِي ظَهْرَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا - قَالَ - ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ‏‏.‏‏
Abdur-Rahman bin Samurah said:"While I was (practicing) shooting some arrows in Al-Madinah, the sun became eclipsed. I gathered up my arrows and said: 'I want to see what the Messenger of Allah (ﷺ) will say about the eclipse of the sun.' So I came to him from behind when he was in the masjid, and he started to say the tasbih and takbir and to supplicate until the eclipse was over. Then he stood up and prayed two rak'ahs with four prostrations
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تیر اندازی میں مشغول تھا، اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا، میں نے اپنے تیروں کو سمیٹا اور دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر کیا نئی بات کی ہے، اسے چل کر ضرور دیکھوں گا، میں آپ کے پیچھے کی جانب سے آپ کے پاس آیا، آپ مسجد میں تھے، تسبیح و تکبیر اور دعا میں لگے رہے، یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت نماز پڑھی، اور چار سجدے کیے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، - قَالَ سُفْيَانُ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي، أُرِيَ النِّدَاءَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا غَلَطٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abbad bin Tamim:"Sufyan said: 'I asked 'Abdullah bin Abi Bakr who said: I heard it from Abbad bin Tamim who narrated it from his father, that 'Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream) said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the prayer place to pray for rain. He faced the kiblah and turned his cloak around and prayed two rak'ahs
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي بِطَبَرِسْتَانَ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا ‏.‏ فَقَامَ حُذَيْفَةُ فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاَءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاَءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا ‏.‏
It was narrated that Tha'labah bin Zahdam said:"We were with Sa'eed bin Al-'Asi in Tabaristan, and Hudhaifah bin Al-Yaman was with us. He said: 'Which of you offered the fear prayer with the Messenger of Allah (ﷺ)?' Hudhaifah said: 'I did.' So Hudhaifah stood and the people formed two rows behind him, one row behind him and one row facing the enemy. He led those who were behind him in praying one rak'ah, then they went and took the place of the others, and the others came and he led them in praying one rak'ah, and they did not make it up
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز کس نے پڑھی ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور لوگوں نے ان کے پیچھے دو صف بنائی، ایک صف ان کے پیچھے تھی، اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تھی، تو انہوں نے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر لوٹ گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، پھر انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور ان لوگوں نے قضاء نہیں کی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ، لَهُ أَنَّ قَوْمًا، رَأَوُا الْهِلاَلَ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ ‏.‏
It was narrated from 'Umair bin Anas from his paternal uncles, that :Some people saw the crescent moon and came to the Prophet (ﷺ), and he told them to break their fast after the sun has risen and to go out for 'Eid the (morning of the) following day
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ نَائِمٌ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ ‏ "‏ مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صُنْعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Zaid bin Thabit that :The Prophet (ﷺ) used some palm fiber mats to section off a small area in the masjid. And the Messenger of Allah (ﷺ) prayed in it for several nights until the people gathered around him. Then, one night they did not hear his voice, and they thought that he was sleeping, so they cleared their throats to make him come out to them. He said: 'You kept doing that until I feared that it would be made obligatory for you, and if it were made obligatory, you would not be able to do it. O people, pray in your houses, for the best prayer a person offers is in his house, apart from the prescribed (obligatory) prayers
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل ( بہترین ) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Ubaid the freed slave of 'Abdur-Rahman bin Awf that he heard Abu Huraidah say:'None of you should wish for death. Either he is a doer of good, so if he lives he will do more good or he is a doer of evil but perhaps he will give up his evil ways
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ‏.‏
It was narrated that Huthaifah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) got up at night, he would brush his mouth with the Siwak
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو ( نماز تہجد کے لیے ) اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"We were forbidden in the Quran to ask the Prophet about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: 'O Muhammad, your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'Who created the heavens?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created the Earth?' He said: 'Allah.' He said: 'Who set up the mountains in it?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created beneficial things in them?' He said: 'Allah.' He said: 'By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less.' When he left, the Prophet said: 'If he is sincere, he will certainly enter paradise
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ - لأَصَابِعِ يَدَيْهِ - أَنْ لاَ آتِيَكَ وَلاَ آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لاَ أَعْقِلُ شَيْئًا إِلاَّ مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْىِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا قَالَ ‏"‏ بِالإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا آيَاتُ الإِسْلاَمِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ‏"‏ ‏.‏
Bahz bin Hakim narrated from his father, that his grandfather said:"I said: 'O Prophet of Allah, I did not come to you until I had sworn more than this many times" the number of fingers on his hands "that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger teach me. I ask you by the Revelation of Allah, with what has your Lord sent your to us? He said: "With Islam.' I said: 'What are the signs of Islam?' He said: 'To say, I submit my face to Allah and give up Shirk, and to establish the Salah and to pay the Zakah
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ“، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ كُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ثُمَّ إِذًا لاَ تَسْمَعُونَ وَلاَ تُطِيعُونَ وَلَكِنَّهُ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah stood up and said:Allah, Most High, has decreed Hajj for you. Al-Aqra' bin Habis At-Tamimi said: "Every year, O Messenger of Allah?" But he remained silent, then he said: "If I said yes, it would become obligatory, then you would not hear and obey. Rather it is just one Hajj
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے“، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال ( حج ) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے“۔
Narrated by It was narrated from Ibn Abbas
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا، لَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلاَ تُقَاتِلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ ‏}‏ ‏.‏
Narrated It was narrated from Ibn Abbas:that Abdur-Rahman bin Awf and some of his companions came to the Prophet in Makkah and said: “O Messenger of Allah! We were respected when we were idolaters and when we believed, we were humiliated.” He said: “I have been commanded to pardon, so do not fight.” Then, when Allah caused us to move to Al-Madinah, He commanded us to fight, but they refrained. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Have you not seen those who were told to hold back their hands (from fighting) and perform As-Salah”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء: ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
Narrated by Ibn 'Abbas
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ إِلاَّ سَوْدَةَ فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When the Messenger of Allah died he had nine wives; he used to be intimate with all of them except one, who had given her day and night to 'Aishah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا لُحُومُ الْكِلاَبِ وَالْحِيَضُ وَالنَّتَنُ فَقَالَ ‏ "‏ الْمَاءُ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"It was said: 'O Messenger of Allah, you perform Wudu' from the well into which the bodies of dogs, menstrual rags and garbage are thrown?' He said: 'Water is pure and it is not made impure by anything
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں؟ اور حال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, during the time of the Messenger of Allah. 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah said:"Tell him to take her back and keep her until she becomes pure, then menstruates again and becomes pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes, he may divorce her before he touches (has intercourse with) her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ لَهَا ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Fatimah bint Qais from Banu Asad Quraish that she came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that she suffered from Istihadah. She said that he said to her:"That is a vein, so when the time of menstruation comes, stop praying, and when it goes, take your bath and wash the blood from yourself then pray
عروۃ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کی شاخ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور ذکر کیا کہ انہیں استحاضہ آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو تو غسل کر لو، اور اپنے ( بدن سے ) خون دھو لو پھر نماز پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سَتْرٌ وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالَّذِي يَحْتَبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَتَّخِذُهَا لَهُ وَلاَ تُغَيِّبُ فِي بُطُونِهَا شَيْئًا إِلاَّ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ وَلَوْ عَرَضَتْ لَهُ مَرْجٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'There is goodness tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection. And horses are of three types: Those that bring reward to man, those that are a means of protection for a man, and those that are a burden (of sin) for a man. As for those that bring reward, they are kept for the cause of Allah and for Jihad. No fodder enters their stomach but for everything that enters their stomachs, reward is written for him, even if he puts them out to pasture.'" And he quoted the Hadith
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دیا ہے“۔ گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: بعض ایسے گھوڑے ہیں جن کے باعث آدمی ( یعنی گھوڑے والے ) کو اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے، اور کچھ گھوڑے وہ ہوتے ہیں جو آدمی کی عزت و وقار کے لیے پردہ پوشی کا باعث ( اور آدمی کا بھرم باقی رکھنے کا سبب بنتے ) ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو آدمی کے لیے بوجھ ( اور وبال ) ہوتے ہیں۔ اب رہے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے اجر و ثواب کا باعث بنتے ہیں تو یہ ایسے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے رکھے جائیں اور جہاد کے لیے تیار کیے جائیں، وہ جو چیز بھی کھالیں گے ان کے اپنے پیٹ میں ڈالی ہوئی ہر چیز کے عوض ان کے مالک کو اجر و ثواب ملے گا اگرچہ وہ چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دئیے گئے ہوں۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً ‏.‏
Abu Ishaq narrated:"I heard 'Amr bin Al-Harith say: 'The Messenger of Allah did not leave behind anything except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity
عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیار اور زمین کے جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ چھوڑ کر نہ گئے تھے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ ‏"‏‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'For whom among you is the wealth of his heirs dearer to him than his own wealth?' They said: 'O Messenger of Allah, there is no one among us for whom his own wealth is not dearer to him than the wealth of his heirs.' The Messenger of Allah said: 'Know that there is no one among you for whom the wealth of his heirs is not dearer than his own wealth. Your wealth is that which you have sent on ahead, and the wealth of your heirs is that which you have kept
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمجھو اس بات کو، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے ( مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے ) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے ( مرنے کے بعد ) اپنے پیچھے چھوڑ دیا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي غُلاَمًا كَانَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَارْجِعْهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father brought him to the Messenger of Allah and said:"I have given my son a slave of mine as a present." The Messenger of Allah said: "Have you given a present to all of your children?" He said: "No." The Messenger of Allah said: "Then take (your present) back
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: میرے پاس ایک غلام تھا جسے میں نے اپنے ( اس ) بیٹے کو دے دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو غلام دیے ہیں؟“، کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهِ إِلاَّ وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah said: 'No one should take back his gift except a father (taking back a gift) from his son. The one who takes back his gift is like one who goes back to his vomit
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر پھر واپس لے سکتا ہے، ( سن لو ) ہبہ کر کے واپس لینے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قے کرے کے چاٹے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ الرُّقْبَى لِلَّذِي أُرْقِبَهَا ‏.‏
Muhammad bin 'Ali bin Maimun informed us, he said:"Muhammad -he is, Ibn Yusuf- narrated to us, he said: 'Sufyan narrated to us from Ibn Abi Najih, from Tawus, from a man, from Zaid bin Thabit that the Prophet ruled that the Ruqba belongs to the one to whom it is given
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کو اسی کا حق قرار دیا ہے جسے رقبیٰ کیا گیا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، يُحَدِّثُ عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Zaid bin Thabit that the Messenger of Allah said:"'Umra (a gift given for life) belongs to the heir
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا ‏ "‏ لاَ وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim that his father said:"The oath by which the Messenger of Allah used to swear was: 'No, by the Controller of the hearts
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «لا ومصرف القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُبِّبَ إِلَىَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said: 'Women and perfume have been made dear to me, but my comfort has been provided in prayer
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW]. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW], and they face our Qiblah, eat our slaughtered animals, and pray as we do, then their blood and wealth become forbidden except for a right that is due, and they will have the same rights and obligations as the Muslims
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏‏ "‏‏ لاَ يَبُولَنَّ الرَّجُلُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"None of you should urinate into standing water and then perform Ghusl or Wudu' with it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ، ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبْتُ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ وَهُوَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا وَيُحْذِيَ مِنْهُ عَائِلَنَا وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا فَأَبَيْنَا إِلاَّ أَنْ يُسَلِّمَهُ لَنَا وَأَبَى ذَلِكَ فَتَرَكْنَاهُ عَلَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said:"Najdah wrote to Ibn 'Abbas and asked him about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given?" Yazid bin Hurmuz said:"I wrote down the letter of Ibn 'Abbas to Najdah in which he said; You have written asking me about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given? It is for us, the members of the household (Ahl Al-Bait). 'Umar used to offer to help the single among us (to get married), and to give some to our poor and to pay off the debts of our debtors. We insisted that he should given it to us, but he refused, and we left it at that
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ‏.‏ وَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of hardship and ease." And he mentioned similarly
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah, from his father, that:the Messenger of Allah offered the 'Aqiqah for Al-Hasan and Al-Husain
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَحَدُهُمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ ‏ "‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah that:the Messenger of Allah forbade Fara' and 'Atirah
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلْبِ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ وَإِنْ كَانَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبٌ آخَرُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَ مَعَهُ فَقَتَلَ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that `Adiyy bin Abi Hatim said:"I asked the Messenger of Allah about hunting with a Mi`rad. He said: 'If you strike (the game) with its sharp point, then eat, but if you strike it with its broad side, then the animal has been killed with a blow.' I asked him about dogs and he said: 'If you release your dog and he catches (the game) but does not eat it, then eat, because his catching it is its slaughter. If you find another dog with your dog and you fear that it caught (the game) with him and killed it, then do not eat, for you said the name of Allah over your dog, but you did not say His name over the other one
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَقْلِمْ مِنْ أَظْفَارِهِ وَلاَ يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي عَشْرِ الأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Muslim said:"Ibn Al-Musayyab told me that Umm Salamah, the wife of the Prophet told him that the Messenger of Allah said: 'Whoever wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his nails or cut his hair for the first ten days Dhul-Jijjah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ، لَهُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ إِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلاَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"Your children are part of the best of your earnings, so eat from what your children earn
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ حَزْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً ‏.‏ قَالَ لِي مُوسَى فَرَاجِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ‏.‏ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ‏.‏ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
Anas bin Malik and Ibn Hazm said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, enjoined fifty prayers upon my Ummah, and I came back with that until I passed by Musa, peace be upon him, who said: 'What has your Lord enjoined upon your Ummah?' I said: 'He has enjoined fifty prayers on them.' Musa said to me: 'Go back to your Lord, the Mighty and Sublime, for your Ummah will not be able to do that.' So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He reduced a portion of it. Then I came back to Musa and told him, and he said: 'Go back to you Lord, for your Ummah will not be able to do that.' So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He said: 'They are five (prayers) but they are fifty (in reward), and the Word that comes from Me cannot be changed.' [1] I came back to Musa and he said: 'Go back to your Lord.' I said: 'I feel too shy before my Lord, the Mighty and Sublime.'" [1]See Surah Qaf 50:
انس بن مالک اور ابن حزم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا: جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ۱؎ معاف کر دیا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے پھر بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، چنانچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی، تو اس نے کہا: یہ پانچ نمازیں ہیں جو ( اجر میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا، پھر میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو - قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏
Abu Salamah and Sulaiman bin Yasar narrated from one of the Companions of the Messenger of Allah, one of the Ansar, that:the Messenger or Allah approved of Qasamah as it had been during the Jahiliyyah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ثُمَّ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from abu Hurairah that the Prophet - and Ahmad said in his Hadith:"The Messenger of Allah said: 'No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believer at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; but repentance is available to him after that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ، عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ كَمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - يَعْنِي الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ لاَ أَدْرِي أَىَّ حِينٍ ذَكَرَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُهُ فَيَعْرِفُهُ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
Shu'bah said:"Sayyar bin Salamah, narrated to us, he said: 'I heard my father ask Abu Barzah about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' I said: 'Did you really hear him?' He said: 'As I can hear you now.' He said: 'I heard my father ask about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'He would not mind if he delayed it - meaning 'Isha' until midnight, and he did not like to sleep before it or speak after it.'" Shu'bah said: "Then I met him later on and asked him. He said: 'He used to pray Zauhr when the sun had passed its zenith, and (he would pray) 'Asr and a man could walk to the farthest point in Al-Madinah and the sun would still be clear and hot. And Maghrib, I do not know the time he mentioned.' After that I met him and asked him, and he said: 'He used to pray Fajr then after the prayer a man could regarding it, sitting next to him, look at the face of someone he knew and he could recognize it.' He said: 'And he used to recite in it between sixty and one hundred (verses)
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ( سیار بن سلامہ سے ) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ( میں نے اسی طرح سنا ہے ) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ ( ابوبرزہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی ( عصر پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ۱؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ فَقَالَ ‏ "‏ إِيمَانٌ لاَ شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لاَ غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin Hubshi Al-Khath'ami that:The Prophet [SAW] was asked: "Which deed is best?" He said: "Faith in which there is no doubt, Jihad in which there is no Ghulul, and Hajjatun Mabrur
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْقًا، يَذْكُرُ عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ السِّوَاكَ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمَ الأَظْفَارِ وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ وَحَلْقَ الْعَانَةِ وَالاِسْتِنْشَاقَ ‏.‏ وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ ‏.‏
Al-Mu'tamir narrated that his father said:"I heard Talq mentioning ten things that have to do with the Fitrah: Using the Siwak, trimming the mustache, clipping the nails, washing the joints, shaving the pubes, rinsing the nose, and I am not sure about rinsing the mouth
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلاَءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his right hand is doing
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَصَبْتُ خَلْوَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا تَعَوَّذَ النَّاسُ بِأَفْضَلَ مِنْهُمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu'adh bin 'Abdullah bin Khubaib that his father said:"I was with the Messenger of Allah [SAW] on the road to Makkah when I found myself alone with the Messenger of Allah [SAW]. I drew close to him and he said: 'Say.' I said: 'What should I say?' He said: 'Say.' I said: 'What should I say?' He said: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak...' until he finished (the Surah), then he said: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' until he finished it. Then he said: 'The people cannot seek refuge with Allah by means of anything better than these two
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ، عَلَى الْحَىِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ‏.‏ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ فَقَالُوا اكْفَأْهَا‏.‏ فَكَفَأْتُهَا فَقُلْتُ لأَنَسٍ مَا هُوَ قَالَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ‏.‏
Anas bin Malik said:"While I was taking care of a group of people, including my paternal uncles, and I was the youngest of them, a man came and said: 'Khamr has been forbidden.' I was taking care of them, and was pouring Fadikh (date-wine) for them. They said: 'Pour it away.' So I poured it away." I (the narrator) said to Anas: "What is that?" He said: "Unripe dates and dried dates." Abu Bakr bin Anas said: "That was their wine in those days." And Anas did not deny that
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (S.A.W) commanded Bilal to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the Iqamah once
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) said:"One of the portents of the Hour will be that people will show off in building Masjids
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد بنانے میں فخر و مباہات کریں گے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Ibn Umar said:"The messenger of Allah (peace be upon him) used to pray atop his mount while travelling, facing whatever direction it was facing." (One of the narrators) Malik said: "Abdullah bin Dinar said: and Ibn Umar used to do likewise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے خواہ وہ کسی بھی طرف متوجہ ہو جاتی۔ مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار کا کہنا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ أَخَّرَ زِيَادٌ الصَّلاَةَ فَأَتَانِي ابْنُ صَامِتٍ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صُنْعَ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ وَضَرَبَ عَلَى فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ‏ "‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلاَ تَقُلْ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلاَ أُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Aliyah Al-Barra said:"Ziyad delayed the prayer, then Ibn Samit came to me and I gave him a chair and he sat on it. I told him what Ziyad had done and he bit his lip (in disapproval), and he struck me on the thigh and said: 'I asked Abu Dharr the same question you asked me, and he struck me on the thigh as I struck you on the thigh and said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the same question as you have asked me and he struck me on the thigh as I have struck you on the thigh and said: Offer the prayer on time, and if you catch up with them, then pray with them, and do not say: 'I have already prayed so I will not pray(now)
ابوالعالیہ البراء کہتے ہیں کہ زیاد نے نماز میں دیر کر دی تو میرے پاس ( عبداللہ ابن صامت ) ابن صامت آئے میں نے ان کے لیے ایک کرسی لا کر رکھی، وہ اس پہ بیٹھے، میں نے ان سے زیاد کی کارستانیوں کا ذکر کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہونٹوں کو بھینچا ۱؎ اور میری ران پر ہاتھ مارا، اور کہا: میں نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے میری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پہ مارا ہے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا ہے، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے تمہاری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پہ مارا ہے، اور فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو، اور اگر تم ان کے ساتھ نماز کا وقت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ - قَالَ - وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ ‏.‏
It was narrated that Ibn Umar said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he stood to pray, raise his hands until they were in level with his shoulders, then he said the takbir. He did that when he said the Takbir before bowing, and he did that when he raised his head from bowing and said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him).' Bu he did not do that during the prostration
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔