بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
21
6 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ قِيلَ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said:"When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of hell it is said: 'This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ( پیش کیا جائے گا ) ، اور کہا جاتا ہے: یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَصُومُ إِلاَّ مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that he used to say:"None should fast except the one who intended to fast before dawn
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ روزہ صرف وہی رکھے جس نے فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لی ہو۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، مَيْمُونَةُ قَالَتْ أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الإِنَاءِ فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَتْ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"My maternal aunt Maimunah told me: 'I brought the Messenger of Allah (ﷺ) water for his Ghusl from Janabah, and he washed his hands two or three times, then he put his right hand in the vessel and poured water over his private part, then he washed it with his left hand. Then he put his left hand on the ground and rubbed it hard. Then he performed Wudu' as for prayer,then poured three scoops with his two hands full of water over his head, then he washed his entire body, then he moved away from where he had been standing and washed his feet.' She said: 'Then I brought him a towel but he refused it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَقَدْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah came on the fourth day of Dhul-Hijjah having entered Ihram for Hajj. He prayed Subh in Al-Batha and said: 'Whoever wants to make it Umrah, let him do so
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو ( مکہ ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: ”جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے“ ( یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہو جائے ) ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Rafi said:"The Messenger of Allah said" "The neighbor has more right to property that is near
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah [SAW] put on a ring of gold and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings too. Then the Messenger of Allah [SAW] threw it away and said: "I will never wear it again." Then the Messenger of Allah [SAW] took a ring of silver, and wore it on his hand. Then it was on the hand of Abu Bakr, then on the hand of 'Umar, then on the hand of 'Uthman, until it was lost in the well of Aris