بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
22
3 hadith
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Hunaidah bin Khalid, from his wife, from one of the wives of the Prophet, that:the Messenger of Allah used to fast nine days of Dhul-Hijjah, the day of 'Ashura', and three days of each month: The first Monday of the month, and two Thursday
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن ( یعنی دسویں محرم کو ) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقَوْا مِنْهَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنَ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ فَقَالُوا لَهَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا ‏.‏
It was narrated that Ibn Abbas said:"When the Prophet and his Companions came to Makkah, the idolaters said: 'The fever of Yathrib has weakened them, and they have suffered a great deal because of it.' Allah informed His Prophet about that, so he told his Companions to walk rapidly, and to walk (at a normal pace) between the two corners, and the idolaters were on the side of the Stone. They said: 'They are stronger than such and such
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ( فتح کے موقع پر ) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے ( ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر ) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ نَعْلَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لَهَا قِبَالاَنِ ‏.‏
Anas narrated that :The sandals of the Messenger of Allah [SAW] had two straps