بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
30 hadith
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا - قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي - صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Mutarrif said:"Imran bin Husain and I prayed behind Ali bin Abi Talib. When he prostrated he said the Takbir, and when he raised his head from prostration he said the takbir, and when he stood up following two rak'ahs he said the takbir, and when he had finished praying, 'Imran took my hand and said: 'This reminded me of- he said a word meaning- the prayer of Muhammad (ﷺ)
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لَمْ يَسْجُدْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ قَبْلَ السَّلاَمِ وَلاَ بَعْدَهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:'The Messenger of Allah (ﷺ) did not prostrate that day either before the salam or after
سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ ( سہو ) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قِعْدَةً لاَ يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى فَمَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering the khutbah on Friday standing, then he sat briefly and did not speak, then he stood up and delivered a second khutbah. So whoever tells you that the Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the khutbah seated, he has lied
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ مَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ‏.‏ قَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ ‏.‏ قُلْتُ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ وَكَانَ ‏.‏ قُلْتُ أَجَلْ ‏.‏ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلاَةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَىَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ فَرُبَّمَا جَاءَ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا يُغْفِي وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلاَةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَسَنَّ وَلَحُمَ - فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ - قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ وَإِلَى حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي سِتَّ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَىَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ وَرُبَّمَا جَاءَ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا أَغْفَى وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَمْ لاَ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلاَةِ قَالَتْ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Sa'd bin Hisham bin 'Amir said:" I came to Al-Madinah and entered upon Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her. She said: 'Who are you?' I said: 'I am Sa'd bin Hisham bin 'Amir.' She said: 'May Allah have mercy on your father.' I said: 'Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did such and such.' I said: 'Yes indeed.' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray Isha' at night, then he would go to his bed and sleep. In the middle of the night, he would get up to relieve himself and go to his water for purification and perform wudu. Then he went into the Masjid and prayed eight rak'ahs. I think he made the recitation, bowing and prostration equal in length. Then he prayed one rak'ah of witr, then he prayed two rak'ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray. This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until he grew older and gained weight"- and she mentioned whatever Allah (SWT) willed about his gaining weight. She said: "And the Prophet (ﷺ) used to lead the people in praying witr, then he would go to his bed. In the middle of the night, he would get up and go to water for purification, and to relieve himself, then he would perform wudu. Then he would go into the masjid and pray six rak'ahs, and I think he made the recitation, bowing, and prostration equal in length. Then he prayed one rak'ah of witr, then he prayed two rak'ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray." She said: "And this is how the Messenger of Allah (ﷺ) continued to pray
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ایسا کرتے تھے، میں نے کہا: اچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے، پھر جب آدھی رات ہوتی، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے، اور وضو کرتے، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا، وہ کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے، تو جب آدھی رات ہو جاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے، پھر وضو کرتے، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال رضی اللہ عنہ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، وہ کہتی ہیں: تو برابر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رہی۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ وَقَالَ مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Amr bin sa'eed bin Abi Husain told us that:'Amr bin Shu'aib wrote to 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman bin Abi Husain to offer condolences for a son of his who had died. In his letter he mentioned that he had heard his father narrate, that his grandfather, 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As said: "The Messenger of Allah said: 'Allah does not approve for His believing slave, if He takes away his loved one from among the people of the Earth, and he bears that with patience and seeks reward, and says that which he is commanded any reward less than Paradise
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: "The month is twenty-nine (days)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ أَبُو جَعْفَرٍ الأَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي وَالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah said:"For whatever is irrigated by the sky, rivers and springs, or draws up water from deep roots, one-tenth. For whatever is irrigated by animals and artificial means, one half of one-tenth
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو ۱؎ اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said; "I heard the Messenger of Allah say:'Whoever cannot find an Izar, let him wear pants, and whoever cannot find sandals, let him wear khuffs
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ( احرام کے موقع پر ) تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلاَّ عِقَالاً فَلَهُ مَا نَوَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Yahya bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit that his grandfather said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever fights in the cause of Allah intending only to get an 'Iqal, he will have what he intended
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ
Thabit Al-Bunani said:"I was with Anas bin Malik and a daughter of his was with him. He said: 'A woman came to the Messenger of Allah and offered herself in marriage to him. She said: O Messenger of Allah, do you want to marry me?
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ قَالَ الشَّعْبِيُّ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلاَقًا ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah gave his wives the choice but that was not a divorce
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَقْىُ الْمَاءِ ‏"‏‏.‏
It was narrated that Sa'd bin 'Ubadah said:"I said: 'O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf?' He said: 'Yes.' I said: 'What kind of charity is best?' He said: 'Providing drinking water
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:"My sister vowed to walk to the House of Allah, and she told me to ask the Messenger of Allah about that. So I asked the Prophet for her and he said: 'Let her walk, and let her ride
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر ( بھی ) جائے ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالاَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ - وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا مَدْخَلاً نَسْمَعُ كَلاَمَ مَنْ بِالْبَلاَطِ - فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ ‏.‏ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ فَلِمَ يَقْتُلُونِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ وَلاَ تَمَنَّيْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلاً مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا فَلِمَ يَقْتُلُونَنِي
Abu Umamah bin Sahl and 'Abdullah bin 'Amir bin Rabi'ah said:"We were with 'Uthman when he was under siege and we could hear what was said from Al-Balat. 'Uthman came in one day, then he came out, and said: 'They are threatening to kill me.' We said: 'Allah will suffice you against them.' He said: 'Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah [SAW] say: It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in one of three cases: A man who reverts to Kufr after becoming Muslim, or commits adultery after being married, or one who kills a soul unlawfully. By Allah, I did not commit adultery during Jahiliyyah or in Islam, I never wished to follow any other religion since Allah guided me, and I have never killed anyone, so why do they want to kill me?
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلاَ اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Saeed tht the Messenger of Allah said:"Allah never sends a prophet or appoints a Khalifah but he has two groups of advisers: A group that tells him to do good and a group that tells him to do evil and urges him to do it. And the one who is truly protected is the one who is protected by Allah, the Mighty and Sublime
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ‏.‏ فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ ‏.‏
It was narrated from Khalid bin Al-Walid that:A grilled mastigure was brought to the Messenger of Allah and was placed near to him. He reached out his hand to eat it, and someone who was present said: "O Messenger of Allah, it is the meat of a mastigure." He withdrew his hand and Khalid bin Al-Walid said to him: "O Messenger of Allah, is mastigure Haram?" He said: "No, but it is not found in the land of my people, and I find it distasteful." He said: "Then Khalid bent over the mastigure and ate some of it, and the Messenger of Allah was looking at him
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Shaddad bin Aws said:"Two things that I memorized form the Messenger of Allah; 'Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughter,"" (Sahih)
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يُسَاوِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا وَلِتُنْكَحَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
(It was narrated that Abu Hurairah said:The Messenger of Allah said: "No town-dweller should sell for a desert-dweller, do not artificially inflate prices, no man should urge a seller to cancel a sale already agreed upon with another buy so as to by the goods himself, no one should make a proposal over the proposal of his brother and no woman should make a proposal over the proposal of his brother and no woman should ask for her sister in faith) to be divorced so as to turn over what is in her vessel Deprived her of her share of maintenance) and so that she may get married in her place: she will have what Allah has decreed or her
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ آخَرَ عَلَى ذِرَاعِهِ فَاجْتَذَبَهَا فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ ‏ "‏ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Imran bin Husain that a man bit another man on the forearm:he pulled it away and a front tooth fell out. The matter was referred to the Messenger of Allah and he canceled (the Diyah) and said: "Did you want to bite your brother's flesh as a stallion bites?
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah, from the Prophet:"The hand of the thief is to be cut off for one-quarter of a Dinar or more
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا
Abu Musa Al-Ash'ari said:"The Prophet [SAW] said: 'The parable of the believer who recites the Qur'an is that of a citron, the taste and smell of which are good. The parable of a believer who does not read the Qur'an is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The parable of a hypocrite who reads the Qur'an is that of basil, the smell of which is good but its taste is bitter. And the parable of a hypocrite who does not read the Qur'an is that of a colocynth (bitter-apple), the taste of which is bitter and it has no smell
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed Al-Maqburi said:"I saw Mu'awiyah bin Abi Sufyan on the Minbar, holding a ball of hair such as women use. He said: "What is wrong with Muslim women who put such things (on their heads)? I heard the Messenger of Allah [SAW] say: "Any woman who adds hair to her head that is not hers, it is something false, that she is adding to her head
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"A Bedouin urinated in the Masjid, and the Prophet (ﷺ) ordered that a bucket (be brought) and poured over it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِغَلَسٍ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُمْ فَأَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ - مَرَّتَيْنِ - إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr on the day of Khaibar during the time it was still dark, when he was near the enemy. Then he attacked them and said: 'Allahu Akbar! Khaibar is destroyed!' Twice. 'Then, when it descends in their courtyard, evil will be the morning for those who had been warned!'" [1] [1] As-Saffat 37:
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس ( اندھیرے ) میں پڑھی، ( آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے ) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» اللہ سب سے بڑا ہے خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، - هُوَ أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ - قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Urwah bin Maimun said:"I heard 'Umar bin Al-Khattab say: 'The Messenger of Allah [SAW] used to seek refuge with Allah from five things and say: Allahumma inni a'udhu bika minal-jubni, wal-bukhli, wa suw'il-'umuri, wa fitnatis-sadri wa 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from cowardice, miserliness, reaching the age of second childhood, the trials of the heart and the torment of the grave)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏ اللَّفْظُ لِسُوَيْدٍ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah, may Allah be pleased with her, that :The Messenger of Allah [SAW] was asked about mead and he said: "Every drink that intoxicates is unlawful." This is the wording of Suwaid
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas that the Messenger of Allah (S.A.W) said:"Whoever says, when he hears the Mu'adhdhin: 'Ashhadu an la ilaha illallah wahdahu la sharika lahu wa anna Muhammadan 'abduhu wa Rasuluhu, raditu Billahi Rabban, wa bil-Islami dinan was bi Muhammadin Rasula (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah alone, with no partner or associate, and that Muhammad is the His slave and Messenger; I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Messenger),' his sins will be forgiven
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن ( کی اذان ) سن کر یہ کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ رَاكِبٌ إِلَى خَيْبَرَ وَالْقِبْلَةُ خَلْفَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى عَلَى قَوْلِهِ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ الصَّوَابُ مَوْقُوفٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on a donkey while he was riding, praying toward Khaibar with the Qiblah behind him. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said:We do not know of anyone who reported anything to support what 'Amr bin Yahya said about praying on a donkey. As for the Hadith of Yahya bin Sa'eed from Anas, what is correct is that it is Mawquf. [1] And Allah knows best. [1] That is a saying or action of a Companion of the Prophet (ﷺ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول «يصلي على حمار» میں متابعت کی ہو ۱؎اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ۲؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى فَلَمَّا كَانَ فِي الْقَعْدَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ أُقِرَّتِ الصَّلاَةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ ‏.‏ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ‏.‏ قَالَ يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قَالَ لاَ وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُنَا صَلاَتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hittan bin 'Abdullah said:"Abu Musa led us in prayer and when he was sitting, a man from among the people entered and said: 'Prayer is based on righteousness and is always mentioned alongside Zakah (in the Qur'an).' When Abu Musa had said the Salam, he turned to the people and said: 'Which of you spoke these words?' The people kept quiet. Then he said: 'O Hittan, perhaps you said it?' He said: 'No, but I was afraid that you would rebuke me for it.' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught us our prayer and Sunnah prayers, and he said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the Takbir, say the Takbir; when he says "Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray," say Amin, and Allah will respond to you; when he rises up from bowing and says, 'Sami' Allalhu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise),' and Allah will hear you; when he prostrates, prostrate, and when he sits up, sit up. The Imam should prostrate before you do and sit up before you do.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ۱؎، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين»کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری ( دعا ) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ ( رکوع ) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا قَالَ الإِمَامُ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin,' for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔