أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ " .
It was narrated from Al 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib that :He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "When a person prostrates, seven parts of his body prostrate: his face, his two palms, his two knees and his two feet
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ رَجُلاً عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الظُّهْرِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالُوا أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ حَدَثٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . فَأَخْبَرُوهُ بِصَنِيعِهِ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي " . وَقَالَ " لَوْ كَانَ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ حَدَثٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ " . وَقَالَ " إِذَا أَوْهَمَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ ثُمَّ لْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
It was narrated from 'Abdullah that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr then he turned to face them and they said: 'Has there been some change concerning the prayer?' He said: 'Why are you asking?' They told him what he had done, so he turned back toward the Qiblah and prostrated twice. Then he said the salam and turned to face them and said: 'I am only human, I forget as you forget, so if I forget, then remind me.' And he said: 'If there had been some change concerning the prayer I would have told you.' And he said: 'If one of you is not sure about his prayer, let him estimate what is closest to what is correct, then let him complete it on that basis, then prostrate twice
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا نماز کے متعلق کوئی نئی چیز واقع ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ تو لوگوں نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی حالت میں ) اپنا پاؤں موڑا، اور آپ قبلہ رخ ہوئے، اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ ( دوبارہ ) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں اسی طرح بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، تو جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلا دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نماز میں کوئی چیز ہوئی ہوتی تو میں تمہیں اسے بتاتا ، نیز آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ سوچے، اور اس چیز کا قصد کرے جو درستی سے زیادہ قریب ہو، پھر اسی پر اتمام کرے، پھر دو سجدے کرے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا وَيَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ .
It was narrated from Ibn 'Umar that he used to pray two rak'ahs after Jumu'ah, making them lengthy, and he said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to do this
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ " .
It was narrated from Kathir bin Murrah that 'Uqbah bin 'Amir told them that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The one who recites the Qur'an loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Qur'an silently is like the one who gives charity in secret
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ قُرُونٍ . قُلْتُ نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلاَثَةَ قُرُونٍ قَالَتْ نَعَمْ .
It was narrated from Ayyub:"I heard Hafsah saying: 'Umm 'Atiyyah said: They tied the hair of the daughter of the Prophet in three braids."' 'I said: Did they undo it, then make three braids? She said: 'Yes
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً .
Hisam reported from Qatadah, from Anas, that Zaid bin Thabir said; "We took Sahur with the Messenger of Allah then we went to pray." I said:"How long was there between them?" He said: "As long as it takes a man to recite fifty verses
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah enjoined Zakah of Ramadan upon the free and the slave, male and female, a Sa[1] of dates or a Sa of barley, so the people considered that equivalent to half a Sa of wheat
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ ( صدقہ فطر ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلاَلِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَىَّ .
It was narrated that 'Aishah said:"I put perfume on the Messenger of Allah when he decided to enter Ihram, and when he exited Ihram, before he exited Ihram, with my own hand
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، ابْنَا كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالاً شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْتَجِزَ بِكَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه اعْلَمْ مَا تَقُولُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَدَقْتَ " . فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ هَذَا " . قُلْتُ أَخِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلاَحِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قُلْتُ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " . وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ .
Salamah bin Al-Akwa' said:"On the day of Khaibar, my brother fought fiercely alongside the Messenger of Allah (ﷺ), then his sword recoiled upon him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), complaining about that, said: 'A man has died by his own weapon.'" Salamah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) returned from Khaibar and I said: 'O Messenger of Allah, do you permit me to recite some lines of Rajaz verse to you?' The Messenger of Allah (ﷺ) gave him permission but 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: "Think what you are saying." "I said: 'By Allah, if Allah had not guided us we would not have been guided We would not have given in charity nor prayed' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have spoken the truth.' (I continued:) 'Send down tranquility upon us, And make us steadfast when we meet the enemy. For the idolators have transgressed against us.' When I completed my Rajaz verse, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who said that?' I said: 'My brother.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'May Allah have mercy on him.' I said: 'O Messenger of Allah, some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, and they are saying that he is a man who died by his own weapon.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'He died striving as a Mujahid.'" Ibn Shihab said: "Then I asked a son of Salamah bin Al-Akwa', and he narrated a similar report to me from his father, except that he said: 'When I said: Some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, the Messenger of Allah (ﷺ) said: They lied. He died striving as Mujahid, and he will have a twofold reward, and he gestured with two of his fingers
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام ( یعنی جوش و خروش والا کلام ) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچی بات کہی ہے“۔ ( دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت ( اطمینان قلب ) نازل فرما – اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے ( تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما ) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رجزیہ ( اشعار ) کس نے کہے ہیں؟“ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے“ ( بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے“ ۱؎۔ ابن شہاب زہری ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلط کہتے ہیں ( بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے ) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے“، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اسے دو اجر ملیں گے“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said:"A previously married woman has more right to decide about herself (with regard to marriage) than her guardian, and an orphan girl should be consulted, and her permission is her silence
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - قَالَ وَكَانَ وَصِيَّ أَبِيهِ قَالَ وَفَرِقْتُ أَنْ أَقُولَ، سَمِعْتُهُ مِنْ، أَبِيكَ - قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَرِيرَةَ وَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا وَاشْتُرِطَ الْوَلاَءُ لأَهْلِهَا فَقَالَ " اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . قَالَ وَخُيِّرَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَدْرِي وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ . فَقَالُوا هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . قَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
Yahya bin Abi Bukair Al-Karmani said:"Shu'bah narrated to us, from 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim, from his father, from 'Aishah. He (Shu'bah) said: "And he ('Abdur-Rahman) was the executor for his father." He (Shu'bah) said: "I was afraid to say to him: 'Did you hear this from your father.'" -- 'Aishah said: "I asked the Messenger of Allah about Barirah, as I wanted to buy her but it was stipulated that the Wala' would go to her (former) masters. He said: 'Buy her, for the Wala' is to the one who sets the slave free.' And she was given the choice, as her husband was a slave." Then he said, after that: "I do not know." --"And some meat was brought to the Messenger of Allah and they said: 'This is some of that which was given in charity to Barirah.' He said: 'It is charity for her and a gift for us
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط لگائی گئی ہے ( پھر میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس شرط کے ساتھ بھی ) تم اسے خرید لو ( یہ شرط لغو و باطل ہے ) ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے“۔ راوی کہتے ہیں: ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کر دیا ) اور اسے اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا ) اس کا شوہر غلام تھا۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ( کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے“ ( اس لیے ہم کھا سکتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ . فَقَالَ " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ .
It was narrated from 'Ubaydullah bin Ka'b:"I heard my father Ka'b bin Malik narrate: 'I said: O Messenger of Allah, Allah, the Mighty and Sublime, has saved me by my being truthful, and as part of my repentance I want to give my wealth in charity to Allah and His Messenger. He said: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you. I said: I will keep my share that is in Khaibar
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا " . قَالَ حُمَيْدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ " وَأَبْوَالِهَا " . فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَتَى بِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا .
It was narrated that Anas said:"Some people from 'Uraynah became Muslim, but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah [SAW] said to them: 'Why don't you go out to some camels of ours and drink their milk?'" - (one of the narrators) Humaid said: "And Qatadah said, narrating from Anas: 'And their urine.'" - "So they did that, and when they recovered they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, drove off the camels of the Messenger of Allah [SAW], and fled as those at war. The Messenger of Allah [SAW] sent someone to bring them and they were caught. He had their hands and feet cut off and their eyes branded, then he left them in Al-Harrah until they died
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ .
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah allowed us to eat the flesh of horses but he forbade the flesh of donkeys
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ قَالَ " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:the Messenger of Allah forbade eating the meat of the sacrificial animals after three days then he said: "Eat, take some with you (if traveling). And store some." ( Sahih)
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الثَّوْبِ لاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُنَابَذَةُ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ .
It was narrated that Abu Sa 'eed A-Khudri said:"The Messenger of Allah forbade Mulamasah, which means touching a garment without looking at it; (and he forbade) Munabadhah which is where one man sells his garment to another man by throwing it to him, without him checking it or looking at it
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، أَنَّ أَجِيرًا، لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ " .
It was narrated from Safwan bin Ya'la bin Munyah that:a hired man of Ya'la bin Munyah was bitten by another on his forearm and he pulled it away from his mouth. The matter was referred to the Prophet, as his front tooth had fallen out, but the Messenger of Allah considered it an invalid claim, and said: "No,; should he put (his forearm) in your mouth for you to bite it as a stallion bites?
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِيمَا دُونَ الْمِجَنِّ " . قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا ثَمَنُ الْمِجَنِّ قَالَتْ رُبُعُ دِينَارٍ .
Aishah said:The Messenger of Allah said: 'The hand of the thief is not to be cut off for anything less than a shield."' It was said to 'Aishah: 'What is the price of a shield?" She said: "One-quarter of a Dinar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ صَاحِبَ .
It was narrated that from 'Ata' bin As-Sa'ib, from Ash-Sha'bi who said:"The Messenger of Allah [SAW] cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who witnesses it and the one who writes it down; the woman who does tattoos and the woman who has that done; and forbade wailing (in mourning), but he did not say that its doer is cursed
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَسَيِّيءِ الأَسْقَامِ " .
It was narrated from Anas that:The Prophet [SAW] used to say: "Allahumma inni a'udhu bika minal-jununi wal-jadhami, wal-barasi wa sayy'il-asqam (O Allah, I seek refuge in You from possession, leprosy, leukederma and bad sickness (that may lead to visible deformity)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّمْسُ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا " . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ .
It was narrated from 'Abdullah As-Sunabihi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The sun rises and with it the horn of the Shaitan, then when it is fully risen, he goes away. Then when it approaches the meridian he comes near to it, and when it has passed the zenith he goes away. Then when it is close to setting, he comes near to it, then when it has set, he goes away." And the Messenger of Allah (ﷺ) forbade praying at those times
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( تینوں ) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً يُقَالُ لَهَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ قَالَ " وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ " . قُلْتُ شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ . قَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
It was narrated from Abu Burdah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] sent me to Yemen and I said: 'O Messenger of Allah, there are drinks there which they call Al-Bit' (mead) and Al-Mizr (beer).' He said: 'What is mead (and beer)?' I said: 'A drink made from honey, and beer is made from barley.' He said: 'Every intoxicant is unlawful
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ عَلَى قَوْلِهِ فَلْيُرِقْهُ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a dog licks the vessel of any one of you, let him throw (the contents) away and wash it seven times.'" Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I do not know any one who followed 'Ali bin Mushir in narrating it with: "Let him throw it away
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ ( جو کچھ اس برتن میں ہو ) اسے بہا دے، پھر سات مرتبہ اسے دھوئے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کسی شخص نے علی بن مسہر کی ان کے قول «فلیرقہ» پر متابعت کی ہو۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
It was narrated that Ibn Abbas said:"I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ)and I stood on his left. He took hold of me with his left hand and made me stand on his right
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور ( پیچھے سے لا کر ) اپنے دائیں کھڑا کر لیا۔
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَىٍّ، قَالَ مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلاَّ أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ الآخَرُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ " . وَقَالَ الآخَرُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ إِنَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ " .
It was narrated that Ubayy said:"I had no confusion in my mind from that time I embraced Islam, except when I recited a verse and another man recited it differently. I said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught me this.' And the other man said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught me too.' So I went to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Prophet of Allah, did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes.' The other man said: 'Did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes. Jibril and Mika'il, peace be upon them, came to me, and Jibril sat on my right and Mika'il on my left. Jibril, peace be upon him, said: "Recite the Quran with one way of recitation.' Mika'il said: 'Teach him more, teach him more- until there were seven modes of recitation, each of which is good and sound
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے ( اللہ سے ) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، ( اور کہا کہ ) ہر حرف شافی و کافی ہے ۔