أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَرَوْحٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلاَ أَكُفَّ شَعْرًا وَلاَ ثَوْبًا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that :The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to prostrate on seven and not to tuck up my hair or garment
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا جَلَسَ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ الْوُسْطَى وَالإِبْهَامَ وَأَشَارَ .
It was narrated that Wa'il bin Hujr said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he raised his head from bowing. And when he sat, he would ay his left foot on the ground and keep his right foot upright, and he placed his left hand on his left thigh, and his right hand on his right thigh, making a circle with his middle finger and thumb, and pointing
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ( تو بھی اسی طرح اٹھاتے ) اور جب آپ ( قعدہ میں ) بیٹھتے تو بایاں ( پاؤں ) لٹاتے، اور دایاں ( پاؤں ) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاَتِهِ وَتْرًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Whoever prays during the night, let him make the last of his prayers at night witr, because the Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin that
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلاَّ قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ .
It was narrated that 'Amr heard Jabir say:"And Al-'Abass was in Al-Madinah, and he asked the Ansar for a garment to clothe him in, but they could not find a shirt that would fit him except the shirt of 'Abdullah bin Ubayy, so they clothed him in it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَتَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ يَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The messenger of Allah said: 'Do not fast one or two days ahead of the month, unless that happens to be a day that one of you habitually fasts."' Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is a mistake
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رمضان ) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی ( پہلے سے ) روزہ رکھتا رہا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ، - وَهُوَ ابْنُ مَالِكٍ - عَنِ الْجُعَيْدِ، سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ وَقَدْ زِيدَ فِيهِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنِيهِ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ .
It was narrated from Al-Ju'aid:"I heard As-Sa'ib bin Yazid say: 'During the time of Allah's messenger, the Sa' was equal to a Mudd and third of the Mudd you use today, and the Sa' of today has become large."' (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: And Ziyad bin Ayyub narrated it to me
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے آج کے مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد اور کچھ زائد کا تھا۔ اور ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں: اس حدیث کو مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ثَلاَثٍ .
It was narrated that 'Aishah said:'I used to see the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah after three (days)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں تین دن بعد ( بھی ) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زَهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رضى الله عنه يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ " .
It was narrated from Zurah bin Ma'bad:"Abu Salih, the freed slave of 'Uthman, said: 'I heard 'Uthman bin 'Affan say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Ribat (guarding the frontier) for one day in the cause of Allah is better in rank than a thousand days spent within the residence
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ( جہاد کے دنوں میں ) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ . فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " هَلْ مَعَكَ شَىْءٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَذَهَبَ فَطَلَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ . قَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . قَالَ نَعَمْ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . قَالَ " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
Sahl bin Sa'd said:"I was among the people with the Prophet when a woman stood up and said: 'O Messenger of Allah, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her.' He remained silent and the Prophet did not give any answer. Then she stood up (again) and said: 'O Messenger of Allah, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her.' A man stood up and said: 'Marry her to me, O Messenger of Allah!' He said: 'Do you have anything?' He said: 'No.' He said: 'Go and look, even if it is just an iron ring.' So he went and looked then he came and said: 'I could not find anything, not even an iron ring.' He said: 'Have you memorized anything of the Qur'an?' He said: 'Yes, Surah such-and-such and Surah such-and-such.' He said: 'I will marry you to her on the basis of what you have memorized of the Qur'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! اس ( بندی ) نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دیا، آپ جیسا چاہیں کریں۔ آپ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے اپنے آپ کو آپ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے ہو ویسا کریں۔ ( اتنے میں ) ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری اس ( عورت ) سے شادی کرا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں“، آپ نے فرمایا: ”جا کچھ ڈھونڈ کر لا اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ“، وہ گیا، اس نے تلاش کیا پھر آ کر کہا: مجھے تو کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے تمہارا نکاح اس عورت سے کر دیا“ ( تم اسے بھی انہیں یاد کرا دو ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ مِنْ مَقَامِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ نَعَمْ . سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ - وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو أَرَأَيْتَ - الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى عَلَى امْرَأَتِهِ فَاحِشَةً إِنْ تَكَلَّمَ فَأَمْرٌ عَظِيمٌ - وَقَالَ عَمْرٌو أَتَى أَمْرًا عَظِيمًا - وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ . فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الأَمْرَ الَّذِي سَأَلْتُكَ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ } حَتَّى بَلَغَ { وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ } فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ . ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not answer him, then after that, he came to him and said: 'I was tried with the matter that I asked you about, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed these Verses in Surat An-Nur.: 'And for those who accuse their wives' until he reached: 'And the fifth (testimony) should be that the Wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth.' So he started with the man, exhorting him, reminding him, and telling him that the punishment in this world was less severe than the punishment in the Hereafter. He said: 'By the One Who sent you with the truth, I am not lying.' Then he turned to the woman and exhorted her and reminded her. She said: 'By the One Who sent you with the truth, he is lying.' So he started with the man, and he bore witness four times by Allah that he was telling the truth, and the fifth time (he invoked) the curse of Allah upon himself if he was lying. Then he turned to the woman and she bore witness four times by Allah that he was lying, and the fifth time (she invoked) the wrath of Allah upon herself if he was telling the truth. Then he separated them
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں «ارأیت» کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے ) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے ( تو کیا کرے؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ۱؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے ( جو ناقابل برداشت ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ( اس روایت میں ـ «فأمر عظیم» کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے «اتی امراً عظیماً» کے الفاظ استعمال کیے ہیں ) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہو گیا، ( اس وقت ) اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت: «والذين يرمون أزواجهم» سے لے کر «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن كان من الصادقين» تک نازل فرمائیں، ( اس کارروائی کا ) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ ( اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی ) تو آپ نے ( یہ کارروائی ) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر ( یعنی مجھ پر ) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ ( شوہر ) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۲؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " النَّذْرُ نَذْرَانِ فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلَّهِ وَفِيهِ الْوَفَاءُ وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلاَ وَفَاءَ فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ " .
It was narrated from Muhammad bin Az-Zubair, from his father, from a man from the inhabitants of Al-Basrah, who said:"I accompanied 'Imran bin Husain, who said: 'I heard the Messenger of Allah say: Vows are of two types: A vow that is made to do an act of obedience to Allah; that is for Allah and must be fulfilled, and a vow that is made to do an act of disobedience to Allah; that is for Shaitan and should not be fulfilled, and its expiation is the expiation for an oath
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا ہوتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا " . وَأَبَقَ غُلاَمٌ لِجَرِيرٍ فَأَخَذَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ .
Jarir used to narrate from the Prophet [SAW]:"If a slave runs away, no Salah will be accepted from him, and if he dies he will die a disbeliever." A slave of Jarir's ran away, and he caught him and struck his neck (killing him)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقُدِّمَ طَعَامُهُ وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْهُ .
It was narrated that Zahadam Al-Jarmi said:"We were with Abu Musa and His food was brought, including chicken. Among the people there was a man from banu Taimullah who had reddish complexion, as if he were a freed slave. He did not come close and Abu Musa said: "Come (and eat) for I saw the Messenger of All eating it
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَرْفَعُهُ قَالَ " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ جَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا حَقُّهَا قَالَ " حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا وَلاَ تَقْطَعْ رَأْسَهَا فَيُرْمَى بِهَا " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr, who attributed it to the Messenger of Allah:"There is no person who kills a small bird or anything larger, for no just reason, but Allah will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah, what does 'just reason mean?" He said: "That you slaughters it and eat it, and o not cut off its head and throw it aside
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَىَّ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Messenger of Allah forbade Muzabanah. Ad Muzabanah is when what is art the tops of the trees is sold for a certain amount f dried dates; if there are more then I gain, and if there are less the I lose
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُهُ قَالَ " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ رِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " .
It was narrated that Ibn 'Abbad, who attributed it to the prophet, said:"Whoever is killed in the blind or by something thrown, with a rock, a whip, or a stick, then the blood money to be paid for him is the blood money for accidental killing. Whoever kills deliberately, then retaliation is upon him, and whoever tries to prevent that, upon him is the curse of Allah, the Angels and all the people, and Allah will not accept any Sarf nor 'Adl from him
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ شَهِدَ صَلاَةَ الْعَتَمَةِ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا أَرْبَعًا مِثْلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا وَيُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ .
It was narrated that Ka'b said:"Whoever performs Wudu and performs Wudu well, then attends Isha prayer in congregation, then prays four similar Rakahs after that, reciting therein and bowing and prostrating perfectly, that will bring him a reward like that of (praying) Lailat Al-Qadar." (Hasan Maqtu)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ قَالَ " يَا يَعْلَى لَكَ امْرَأَةٌ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " . قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ .
It was narrated that Ya'la bin Murrah Ath-Thaqafi said:"The Messenger of Allah [SAW] saw me wearing a little dab of Khaluq. He said: 'O Ya'la, do you have a wife?' I said: 'No.' He said: 'Wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again.' I said: 'So I washed it off, and did not put it on again, then I washed it off and did not put it on again, then I washed it off, and did not put it on again
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that:The Messenger of Allah [SAW] used to teach them this supplication as he would teach them a Surah of the Qur'an: "Say: 'Allahumma, inni na'uwdhu bika min 'adhabi jahannama, wa a'udhu bika min 'adhabil-qabri, wa a'udhu bika min fitnatil-masihid-dajjali, wa a'udhu bika min fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, we seek refuge with You from the torment of Hell, and I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the tribulation of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge with You from the trials of life and death)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ حَرَامٌ قَدْ حَدَّثَنَا مَنْ لَمْ يَكْذِبْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ .
It was narrated that Abu Raja' said:"I asked Al-Hasan about Nabidh made in earthenware jars - is it unlawful? He said: '(It is) unlawful. One who would not lie narrated to us that the Messenger of Allah [SAW] forbade Nabidh made in Al-Hantam, Ad-Dubba' (gourds), Al-Muzaffat and An-Naqir
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلاَّهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَثْبَتَهَا .
It was narrated from Abu Salamah that he asked 'Aishah about the two prostrations (Rak'ahs) that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray after 'Asr. She said:"He used to pray them before 'Asr, but if he got distracted or forgot them, he would pray them after 'Asr, and if he did a prayer he would be constant in it
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، - هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ عَنْ - شُعَيْبٍ، - هُوَ ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثَّمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ بِشَىْءٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated from Humran that he saw 'Uthman call for (water for) Wudu', then he poured water on his hands from the vessel and washed them three times. Then he put his right hand in the water and rinsed his mouth and his nose. Then he washed his face three times, and his arms up to the elbow three times. Then he wiped his head, and washed each of his feet three times. Then he said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' like I have just done." Then he said: "Whoever performs Wudu' as I have done, then stands and prays two Rak'ahs without letting his thoughts wander, his previous sins will be forgiven
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَلاَ تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of (ﷺ) said: 'When you come to pray, do not come rushing; come walking in a dignified manner, and whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, make it up
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ چلتے ہوئے آؤ، اور تم پر ( وقار ) سکینت طاری ہو، نماز جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، مَعَ الإِمَامِ فَقَالَ لاَ قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَىْءٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى } فَلَمْ يَسْجُدْ .
It was narrated from Ata' bin Yasar that:He asked Zaid bin Thabit about reciting with the Imam. He said: "There is no recitation with the Imam in anything." And he claimed that he had recited: "By the star when it goes down (or vanishes)" to the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not prostrate
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎۔